جمعرات , مارچ 21 2019
Home / اہم خبریں / دریاؤں کو قید کرنا اور ڈیم انڈسٹری
ڈیم
ڈیم (فائیل فوٹو)

دریاؤں کو قید کرنا اور ڈیم انڈسٹری

محمد علی شاہ

ڈیم انڈسٹری سے تعلق رکھنے والے ڈیم تعمیر کر رہے ہیں اور ڈیم مخالفین سماجی تحریک چلاکر ڈیموں کے خلاف مزاحمت کر رہے ہیں۔ اچھی بات یہ ہے کہ اب پوری دنیا میں ڈیم مخالف (Anti Dam) لوگوں میں اضافہ ہو رہا ہے، جن کی کوشش اور جدوجہد سے ڈیموں کی تعمیر دنیا کے ہر خطے (Region) میں تیزی سے کم ہو رہی ہے. امریکہ نے بھی دریاؤں کو ڈیموں کے ذریعے قید کرنے کی تعداد میں کمی کردی ہے، بلکہ اب امریکہ میں مزید نئے ڈیم بننے کی بجائے ڈیم مسمار کرنے (Dam Decommisioning) کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے۔ اس کے علاوہ دنیا کے متعدد ممالک میں ڈیم مخالفین اور کارکنان (Activist) میں اس اصول پر اضافہ ہو رہا ہے کہ اب صرف ڈیم نہ تعمیر کرنے کی بات نہیں کی جائیگی لیکن ڈیموں کی موجود میراث (Legacy) یا بناوٹ (Structure) جس نے دریاؤں کی ماحولیات، ڈیلٹاؤں، انسانوں، جنگلات اور فطرت کو جو نقصان پہنچایا ہے اس کیلئے لوگوں اور کمیونٹی کو جمع کرنا چاہئے اور ان کی اس طرح مدد کی جائے تاکہ وہ ڈیموں سے ہونے والے ہر نقصان کیخلاف جدوجہد کریں اور اس کے ازالہ کیلئے معاوضہ کا مطالبہ کریں اور ڈیموں میں اتنی تبدیلی کرنے کا مطالبہ کریں جس سے دریاء بحال ہوسکیں۔

ڈیموں کے نقصانات اور عوام کے بھروسے کو ٹھیس پہنچانے اور ان حالات میں فنڈز کی کمی کے باوجود ڈیموں کی حامی لابی ڈیم بنانے سے تھوڑی بھی بیزاری ظاہر نہیں کرتے۔ پاکستان سمیت دنیا کے ہر ملک میں پانی اور توانائی کے اداروں (Water and Energy Agencies) اور ڈیموں کے حامی انجنیئرز اور آبپاشی ماہرین کا آپس میں ایک ہوکر ڈیموں کی منصوبہ بندی میں مصروف ہیں۔

آپ کی معلومات میں یہ بھی اضافہ کرنا چاہتا ہوں کہ پوری دنیا کے سیاستدان، ڈیم حامی اداروں کیلئے بڑے پیمانے پر عوام دشمن اور ماحولیات دشمن بڑے منصوبوں کیلئے رقم (Funds) حاصل کر کے دیتے ہیں اور اپنے حلقوں سے الیکشن جیتنے کیلئے اس قسم کے میگا پروجیکٹس لاکر اپنے ووٹرز کو راضی کرتے ہیں۔

عالمی ادارے جیسا کہ انٹرنیشنل ہائیڈرو پاور ایسوسی ایشن، انٹرنیشنل کمیشن آن لارج ڈیمز (ICOLD)، انٹرنیشنل کمیشن آن اریگیشن اینڈ ڈرینج اور ورلڈ واٹر کونسل اپنی ڈیم انڈسٹری کے معیار کو بحال رکھنے کیلئے ڈونرز اور سیاستدانوں کی پیروی اور ان کی ترغیب کرنے کیلئے ڈیم انڈسٹری کو فروغ دینے کیلئے اپنی بھرپور کوشش کرتے ہیں، اس کے ساتھ یہ بھی خوف پیدا کرتے ہیں کہ اگر دنیا میں ڈیم اور آبی ذخائر تعمیر نہ ہوئے تو دنیا میں بھوک، بدحالی اور پانی پر جنگ (Water War) کا خدشہ بڑھ جائیگا۔ اسی طرح پاکستان میں بھی ہمارے حکمران اور نام نہاد پانی ماہرین پاکستانی عوام میں یہ خوف پیدا کرتے ہیں کہ اگر کالاباغ اور بھاشا ڈیم تعمیر نہ ہوئے تو ملک تباہ ہوجائیگا۔

آئیے جائزہ لیں کہ بڑے ڈیموں کے خوفناک سماجی، ماحولیاتی اور معاشی نقصانات کے دستاویزات، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ کیسے ڈیم انڈسٹریز سے وابستہ حلقے دریاؤں جیسے قدرتی بہاؤ پر کنٹرول کر کے اپنے مفادات حاصل کرنا چاہتے ہیں اور متعدد انرجی (Energy) ، پانی اور زمین کے بندوبست کی ضرورت کو پورا کرنے کیلئے متعین راستے ہونے کے باوجود ڈیم تعمیر کرنا تجویز کر رہے ہیں اور ڈیم تعمیر کئے جارہے ہیں۔

ڈیم انڈسٹری اپنے خطرناک جگن ناتھ (Juggernaut) کو اس لئے برقرار رکھتے ہیں تاکہ ڈیم بنا کر اپنے طاقتور سیاسی اور معاشی مفاد حاصل کئے جائیں، چاہے ڈیم بننے کی منصوبہ بندی ہو یا ڈیم بنانے کا عمل ہو، یہ تمام عمل جمہوری اختلاف کے خوف سے راز میں رکھا جاتا ہے، جو لوگ ڈیموں کی وجہ سے نقصان برداشت کرتے ہیں اور اپنی زندگی اور روزگار سے محروم ہوتے ہیں ان لوگوں کے سامنے ڈیموں کے حامی بیوروکریٹس اور مشیر (Consultant) اپنے عوام دشمن عمل کیلئے کبھی بھی جوابدہ نہیں رہے ہیں۔

میں آپ کی معلومات میں اضافہ کرتا چلوں کہ دنیا میں دو اقسام کے ڈیم بلڈنگ بیوروکریٹس ہیں، ایک نیشنل ایجنسیز، جیسا کہ پاکستان واٹر اینڈ پاور ڈولپمنٹ اتھارٹی اور ماسکو ہائیڈرو پروجیکٹ انسٹیٹیوٹ، اس قسم کے ادارے ہائیڈرو پاور یا آبپاشی کے مقاصد حاصل کرنے کیلئے دریاؤں پر ڈیم تعمیر کرتے ہیں۔ ان اداروں کی دوسری قسم جو ترقی کے نام پر دریاؤں کو قید کرتے ہیں، جس کی مثال ریور بیسن ڈولپمنٹ ایجنسیز، جیسا کہ جیمس بھی ڈولپمنٹ کارپوریشن اور آرگنائزیشن فار دی ڈولپمنٹ آف سنیگال، اصل میں ان اداروں کا مینڈٹ مقامی سطح پر ہوتا ہے، لیکن اپنے مینڈٹ سے بہت دور ہوتے ہیں اور ان کی اکثر رسائی ہر مقامی اور علاقائی سیکٹر تک بڑھ جاتی ہے۔

یہاں یہ وضاحت بھی ضروری ہے کہ ڈیم بلڈنگ (Dam Building) ایک عالمی کاروبار ہے، جس کی موجودہ لاگت ہر سال 20 ارب ڈالر ہے، جس کا بڑا حصہ ملٹی نیشنل انجنیئرنگ مشینی پرزے بنانے والی کمپنیوں (Equipment Manufacturer) اور کنسٹرکشن کارپوریشن کو جاتا ہے۔ اس کے علاوہ ڈیموں سے حاصل ہونے والی رقم کا بڑا حصہ ان کمپنیوں اور ان سے وابستہ قومی اور بین الاقوامی انڈسٹری گروپ جیسا کہ انٹرنیشنل کمیشن آن لارج ڈیم (ICOLD) اور یو ایس نیشنل ہائیڈرو پاور ایسوسی ایشن کو دیا جاتا ہے تاکہ وہ ڈیم حامی لابی کا ساتھ دیکر ان کو سرگرم کرسکیں، ان کا کچھ کام پبلک ریلشنز یا پروپیگنڈا کا بھی ہوتا ہے، جس کے ذریعے انجنیئرنگ جرنلزم کی حمایت میں مضامین لکھنا، نیوز پیپر ایڈیٹرز کو خط لکھنا، بروشرز چھپوانا، ڈیم حمایت میں تعلیمی مواد پبلش کروانا اور متعدد بڑے ڈیموں پر اسمارٹ وزیٹر سینٹر تعمیر کرنا ہوتے ہیں۔

دنیا میں ڈیم انڈسٹری بڑے پیمانے پر ٹھیکے حاصل کرنے کیلئے سیاسی لابنگ کرتی ہے، جس کی مثال ایک امریکی کنسٹرکشن کمپنی نے امریکی حکومت پر دباؤ ڈالا کہ چین میں بننے والا بڑا ڈیم تھری جارجز کا ٹھیکہ لیکر دینے میں اس کی مدد کرے۔

ڈیم حمایت لابی کی ایک تیسری قسم جو پس پردہ ہوتی ہے، جس کا کام یہ ہے کہ سیاستدانوں، ڈیم ایجنسیز کے افسران، بیوروکریٹس اور ٹھیکیداروں کے اولڈ بوائز نیٹ ورک کے ذریعے مختلف گولف کھیلوں اور ڈنرپارٹیز کے ذریعے ڈیم بنانے کیلئے لابنگ اور پروپیگنڈا کرنا تاکہ دنیا میں ڈیم تعمیر ہوں اس کیلئے راہ ہموار کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ یہ حقیقت ہے کہ اس تیسری قسم کی ڈیم حمایت لابی کا ڈائریکٹ کام رشوت خوری ہوتا ہے، ڈیم کنسٹرکشن انڈسٹری 1990ء میں سیاستدانوں اور بیوروکریٹس کو ناجائز کمیشن دینے کا اسکینڈل عروج پر تھا اور یہ کمیشن ان کو ڈیموں سے جو آمدنی ہوتی تھی اس سے دی جاتی تھی، جس کی بڑی مثال جاپان، تھائی لینڈ، کوریا، برازیل، اٹلی، اسپین، فرانس اور پورچوگال ہیں۔

Check Also

پی ایس ایل کی دو مقبول ٹیمیں پھر آمنے سامنے

محمد واحد کراچی: پی ایس ایل کی دو مقبول ٹیمیں پھر آمنے سامنے آگئی ہیں. …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے