جمعرات , مارچ 21 2019
Home / اہم خبریں / کے ایم سی کے رجسٹرڈ متاثرین کو متبادل دکانیں دی جائیں گی، میئر کراچی

کے ایم سی کے رجسٹرڈ متاثرین کو متبادل دکانیں دی جائیں گی، میئر کراچی

کراچی (اسٹاف رپورٹر) میئرکراچی وسیم اختر نے کہا ہے کہ کے ایم سی مارکیٹوں کے رجسٹرڈ کرائے دار جن کی دکانیں تجاوزات کے خلاف مہم کے دوران ختم کی گئیں صرف ان کی بحالی اور متبادل جگہ فراہم کرنے کے لیے کمیٹیاں قائم کردی گئی ہیں اور تمام تر کاغذی کارروائی بھی مکمل کر لی گئی ہے۔








کے ایم سی کے تمام رجسٹرڈ کرائے داروں کو بذریعہ قرعہ اندازی جلد از جلد متبادل دکانیں فراہم کر دی جائیں گی جس کا اہتمام کمشنر آفس میں جلد کیا جائے گا تاکہ حقیقی متاثرین اپنی زندگیوں میں دوبارہ لوٹ سکیں لیکن تجاوزات قائم کرنے والوں کے لیے کچھ نہیں کیا جائے گا اور وہ ہم سے کسی قسم کے ریلیف کی اُمید نہ رکھیں۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعرات کے روز کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے دورے کے موقع پر اجلاس سے خطاب میں کیا۔

بزنس مین گروپ کے چیئرمین و سابق صدر کے سی سی آئی سراج قاسم تیلی، وائس چیئرمین بی ایم جی زبیر موتی والا، کے سی سی آئی کے صدر جنید اسماعیل ماکڈا،سینئر نائب صدر خرم شہزاد، نائب صدر آصف شیخ جاوید، سابق صدور اے کیو خلیل اور شمیم فرپو، چیئرمین کے سی سی آئی سب کمیٹی برائے اسمال ٹریڈرز مجید میمن، منیجنگ کمیٹی کے اراکین کے علاوہ متاثرین کی بڑی تعداد نے اجلاس میں شرکت کی۔

میئر کراچی نے کہا کہ انسداد تجاوزات مہم کے آغاز سے ہی وقتاً فوقتاً تمام مارکیٹ ایسوسی ایشنز کے ساتھ مشاوت کی گئی جنہوں نے متاثرین کی بحالی کے سلسلے میں کے ایم سی کی حکمت عملی پر اطمینان کا اظہار کیا۔ صدر کے پارکنگ پلازہ میں 240 کے قریب دکانیں دستیاب ہیں جبکہ بورڈ آف ریونیو کی زمین کی بھی نشاندہی کر دی گئی ہے جہاں کے ایم سی کے کرائے داروں کو منتقل کیا جائے گا۔

انہوں نے کہاکہ متاثرین کی بحالی کے حوالے سے کے ایم سی کا کام بلا رکاوٹ جاری ہے اور سندھ حکومت کو بھی آن بورڈ لیا گیا ہے لیکن اس میں کچھ وقت لگے گا۔

انہوں نے کہاکہ کے ایم سی کو فنڈز کی مد میں محدود رقم ملتی ہے جو زیادہ تر تنخواؤں اور پنشن کی ادائیگیوں پر خرچ ہوتی ہے جبکہ معمولی دستیاب فنڈز ترقیاتی کاموں پر استعمال کیا جاتا ہے اور ان کے پاس تجاوزات کے خلاف مہم سے پیدا ہونے والے ملبے کو صاف کرنے کے لیے بھی فنڈز نہیں۔

وسیم اختر نے کہاکہ تجاوزات کے خلاف آپریشن خالصاً کراچی اور اس کے شہریوں کے بہتر ترین مفاد میں ہے کیونکہ پورے ہی شہر میں تجاوازت قائم کی گئیں جن کو ختم کیا جارہاہے تاکہ شہر خوبصورت نظر آسکے۔

انہوں نے کہا کہ نالے، پارکوں اور فٹ پاتھ کاروبار کے لیے استعمال نہیں کیے جاسکتے جس کی کسی قیمت پر بھی اجازت نہیں دیں گے۔انہوں نے اس بات کا اعتراف کیا کہ تجاوزات کے خلاف مہم کے دوران ان سے بھی بعض غلطیاں ہوئی ہوں گی جس میں بعض قانونی دکاندار بھی متاثر ہوئے ہوں گے لہذا ان غلطیوں کے ازالے کے لیے کوششیں جاری ہیں۔








چیئرمین بزنس مین گروپ و سابق صدر کے سی سی آئی سراج قاسم تیلی نے کہا کہ وہ پورے شہر سے تجاوزات کے خاتمے کے حق میں ہیں کیونکہ پارکوں اور فٹ پاتھ پر قائم تجاوزات مکمل طور پر غیر قانونی ہیں جنہیں نظر انداز نہیں کیا جاسکتا ۔ کے سی سی آئی ان تجاوزات کے حق میں کبھی نہیں بولے گا تاہم یہ ضرور پوچھے گا کہ گزشتہ 40سالوں کے دوران پارکوں اور فٹ پاتھوں پر تجاوزات قائم کرنے والوں کی حوصلہ افزائی کون کرتا رہا۔ تجاوزات قائم کرنے والوں کی حوصلہ افزائی کرنے والے عناصر حکومتی دفاتر میں ہی موجود ہیں اور اب وہ اپنی غلطیاں کو چھپانے کے لیے سپریم کورٹ کے حکم نامے کے تلے تمام تجاوزات کا مکمل خاتمہ چاہتے ہیں تاکہ اپنی کوتائیوں پر پردہ ڈال سکیں۔

کے سی سی آئی کے صدر جنید اسماعیل ماکڈا نے کہا کہ بلاشبہ شہر کو تجاوزات کے سنگین مسئلے کا سامنا ہے جس سے کسی صورت انکار نہیں کیا جاسکتا اور اس پورے معاملے میں کافی پیچیدگیاں و لاقانونیت بھی ہے۔ کے سی سی آئی کا یہ پختہ یقین ہے کہ شہر کے بہتر ترین مفاد میں تجاوزات کے خلاف مہم کو جاری رہنا چاہیے لیکن صرف عوام اور تاجروصنعتکار برادری کو مورد الزام نہیں ٹہرانا چاہیے کیونکہ حکومت میں موجود عناصر بھی تباہ کن صورتحال پیدا کرنے میں برابر کے ذمہ دار ہیں۔

Check Also

کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کے اسٹار بیٹسمین احمد شہزاد

کوئٹہ گلیڈی ایٹرز، پی ایس ایل کی نئی چیمپئن

محمد واحد کراچی: کوئٹہ گلیڈی ایٹرز نئی چیمپئن بن گئی ہے، جس نے یکطرفہ مقابلے …