جمعرات , مارچ 21 2019
Home / اہم خبریں / سندھ میں انسانی حقوق سے متعلق مشاورتی اجلاس

سندھ میں انسانی حقوق سے متعلق مشاورتی اجلاس

کراچی (اسٹاف رپورٹر)وزیراعلیٰ سندھ کے مشیر برائے قانون اور انفارمیشن مرتضیٰ وہاب نے کہا ہے کہ سندھ واحد صوبہ ہے جس نے انسانی حقوق اور مزدور حقوق سے متعلق رکارڈ قانون سازی کی ہے۔ انہوں نے کہا کہمعاشرے کے تمام طبقات کو مل کرعوامی مسائل حل کرنے کی جدوجہد کرنی چاہیے۔ وہ منگل کے روز مقامی ہوٹل میں سندھ ہیومین رائیٹس کمیشن اور ڈیموکریسی رپورٹنگ انٹرنیشنل کے زیراہتمام سندھ میں انسانی حقوق سے متعلق بین الاقوامی معاہدات پر عمل درآمد کی صورتحال پر ایک مشاورتی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سندھ پہلا صوبہ ہے جس نے غیر ہنرمند مزدور کی ماہانہ کم از کم اجرت 16200 مقرر کردی ہے، جبکہ مختلف شعبوں میں کام کرنے والے ہنرمند مزدوروں کی کم از کم اجرت کا تعین بھی کیاجارہا ہے، جن سے متعلق نوٹیفیکشن جلد جاری کیے جائیں گے۔انہوں نے سول سوسائٹی، وکلا، مزدور تنظیموں اور معاشرے کے دیگر طبقوں کے لیے کام کرنے والی تنظیموں اور افراد کو انسانی حقوق کے لیے مل جل کرکام کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔
اس موقع پر سندھ ہیومین رائیٹس کمیشن کی چیئرپرسن جسٹس (ریٹائرڈ) ماجدہ رضوی، اقلیتی رکن قومی اسمبلی مہیش کمار ملانی، رکن سندھ اسمبلی مس فرحت سیمیں، پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف لیبر ایجوکیشن اینڈ ریسرچ (پائلر) کے سربراہ کرامت علی، انسانی حقوق کے ماہر اقبال ڈیتھو اور دیگر مقررین نے اپنے خطابات میں پاکستان میں انسانی حقوق کی صورتحال پر تفصیل سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ سندھ میں انسانی حقوق کی صورتحال تسلی بخش نہیں ہے۔ انہوں نے انسانی حقوق سے متعلق قوانین پر عمل درآمد پر زور دیا۔انہوں نے کہا کہ کمیشن نے صوبے بھر سے انسانی حقوق کی خلاف ورزی سے متعلق شکایات پر ازخود نوٹس لیا ہے اور اس سلسلے میں 400سے زائد شکایت پر تحرک لیا ہے۔پائلر کے سربراہ کرامت علی نے عالمی بینک کی طرف سے جاری کی گئی ایک رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کا کہ پاکستان میں اکثریت عوام غربت کی لکیر سے نیچے زندگی بسر کرکرہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس رپورٹ کے مطابق پاکستان میں روزانہ فی کس آمدنی دو ڈالر سے بھی کم ہے۔ انہوں نے ملک میں ٹریڈ یونین کی صورتحال پر بھی اپنی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مؤثر قانون کی غیرموجودگی کی وجہ سے پاکستان میں مزدور اپنے آئینی حقوق سے محروم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت پاکستان کے صرف ایک فیصد مزدور ٹریڈ یونین سے وابستہ ہیں، جبکہ اکثریت مزدور ٹھیکیداری نظام کے تحت کم اجرت پر کام کررہی ہے۔ جس کی وجہ قائداعظم محمد علی جناح کی کاوشوں سے بنا یا گیاانڈیا ٹریڈ یونین ایکٹ 192کا فوجی آمر ایوب خان کی جانب سے منسوخ کیا جانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ فوجی آمروں کے دور میں مزدور تحریکیں کمزور ہوئی ہیں۔اس موقع پر اپنے خطاب میں اقلیتی رکن قومی اسمبلی مہیش کمار ملانی نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کی صوبائی حکومت نے اقلیتوں سے متعلق قانون سازی کی ہے۔

Check Also

کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کے اسٹار بیٹسمین احمد شہزاد

کوئٹہ گلیڈی ایٹرز، پی ایس ایل کی نئی چیمپئن

محمد واحد کراچی: کوئٹہ گلیڈی ایٹرز نئی چیمپئن بن گئی ہے، جس نے یکطرفہ مقابلے …