جمعرات , مارچ 21 2019
Home / اہم خبریں / کیرالہ میں مندر کے یاتریوں پر مسجد کا طواف لازم
سبریمالہ مندر

کیرالہ میں مندر کے یاتریوں پر مسجد کا طواف لازم

کیرالہ (ویب ڈیسک) سبریمالہ مندر کے یاتریوں کے لئے لازم ہے کہ وہ راستے میں پڑنے والی واورا مسجد کا طواف کرکے پھرمندر کا رخ کریں۔بھگوام ایپا کا سبریمالہ مندر بھارت کی ریاست کیرالہ میں ہے۔جہاں ہر سال ہزاروں کی تعداد میں لوگ سیاہ لنگیاں باندھے کم کم چندن کا تہوار منانے آتے ہیں۔اور راستے میں بھگوان ایپا کے ناما کی مالا جپتے جاتے ہیں ۔ اس یاترا کی دلچسپ بات یہ ہے کہ مندر جانے والے یاتریوں پر لازم ہے کہ وہ بھگوان ایپا کے مندر جانے سے پہلے راستے میں پڑنے والی واورا مسجد کا طواف کریں ۔ اور پھر مندر جائیں ۔ اگر کسی ننے مسجد کا طواف نہیں کیا تو اس کی یاترا قبول نہیں ہوتی۔

سبریمالہ مندر کی مسافت کافی طویل ہے اس لئے یاتری راستے میں آنے والے قصبوں ، چھوٹی آبادیوں، اور گاؤں میں پراؤ ڈالتے ہیں۔ اس دوران یاتری کم کھاتے پیتے ہیں اور دیگر ضروریات زندگی سے اجتناب کرتے ہیں ۔سبریمالہ کے راستے میں پڑنے والی اکثریت آبادی مسلمانوں کی ہے جہاں ہندو یاتری آرام کرتے ہیں اور مسلمان ان یاتریوں کی خدمت کرتے ہیں ۔جبکہ مسجد کی کمیٹی بھی کم کم چندن کے اس تہوار کو بڑی اہمیت دیتی ہے۔ یوں تو اس مسجد کے حوالے سے بہت سے قصے اور روایات موجود ہیں ۔ کہا جاتاہ کہ اس علاقے میں واورا نام کا ایک صوفی بزرگ رہا کرتاتھاجو بھگوان ایپا کا احترام کرتا تھا یہ ہی وجہ ہے کہ یہاں کے یاتری واورا کے نامسے منسوب اس مسجد کا احترام اور طواف لازم سمجھتے ہیں ۔ جبکہ مسلمان بھی اس تہوار کو بہت عزت دیتے ہیں۔مسجد میں یاتری اپنی مذہبی رسومات نبھاتے ہیں اور نماز یا آذان کے وقت مسلمانون کی عبادت میں خلل نہیں ڈالتے۔

اس مندر کی ایک اور خاص بات یہ ہے کہ یہاں 10سے 60سال کی عورتوں کے داخلے پر پابندی تھی جو حال ہی میں سپریم کورٹ کے حکم پر ختم کی گئی ہے۔ جس کے بعد عورتیں بھی اس مندر کی یاترا کرسکتے ہیں ۔ لیکن واورا مسجد کا طواف لازم ہے۔

Check Also

ڈیم

دریاؤں کو قید کرنا اور ڈیم انڈسٹری

محمد علی شاہ ڈیم انڈسٹری سے تعلق رکھنے والے ڈیم تعمیر کر رہے ہیں اور …