جمعرات , مارچ 21 2019
Home / کالمز / آج کے کالمز / پاکستان پیپلز پارٹی کے رنگ اور یوم تاسیس
پاڪستان پيپلز پارٽي يوم تاسيس

پاکستان پیپلز پارٹی کے رنگ اور یوم تاسیس

عظیم قائد انقلاب جناب زوالفقار علی بھٹو شعوری فکری تحریک تھے۔جو مظلوم عوام کی خوشحالی کے خواب دیکھتے تھے۔جنہوں نے اپنی زات کی خوشیاں چھوڑ کر عوام کے غموں کواپنایا اور عوام کی خوشیوں اور ترقی کے لئے میدان جنگ میں اترے۔بھٹو کی شخصیت انکی فکر انکی سیاسی جدوجہد جس نے پوری قوم کو جگایا اور سرمایہ دارانہ سماج کو بدلنے کےراستے دکھائے۔ حادثات و واقعات قوموں کی تقدیر بدل دیتے ہیں۔تاریخ گواہ ہے کہ سانحے جہاں قوموں کو منتشر کرتے ہیں۔وہیں ایسے معجزے ہی رونماہوتے ہیں۔ جس سے قوموں کے نصیب بن جاتے ہیں۔ایسے ہی کچھ حالات آج سے 51سال پہلے1968 میں تھے جب سرمایہ دارانہ سماج کو فروغ مل رہا تھااور گھٹن اتنی تھی کہ عام عوام مایوس ہورہےتھے۔

ایسے میں جمہوریت کی بقاء اور عوام کی خوشحالی کے لئے ضروری تھا کہ ایک سیاسی جماعت سامنے آئے اور تمام مسلوں کا حل نکالا جائے ۔اس وقت زوالفقار علی بھٹو کی جدوجہد سے پاکستان پیپلز پارٹی ایک سیاسی جماعت کی صورت میں معرض وجود میںآئی۔جس میں اسلام ہمارا دین ہے ، جمہوریت ہماری سیاست سوشلزم ہماری معشیت ہے ۔اورطاقت کا سر چشمہ عوام ہے۔جسے تاریخی جملے پاکستان پیپلز پارٹی کی بنیاد ہے اور ہر عوام کے حقوق کے لئے بھٹو خاندان کی جدوجہد نے مختلف نسبت و قرار دیکھے جو کسی سے ڈھکے چھپے نہیں۔ باطل قوتوں نے ایک ایک کر کے بھٹو خاندان کے سارے چراغ بجھادئیے لیکن حقوق کے حصول جمہوریت کی بقاء کی یہ جدوجہد اب بھی جاری ہے۔

میں اکشر پاکستان پیپلز پارٹی کے جھنڈے کے تین رنگوں کے بارے میں سوچتا ہوں ۔رنگوں کی اپنی ٹرمنالوجی ہے اور رنگوں کاایک گھر اور بھی ہوتا ہے۔اس زندگی اور اس کائنات میں رنگ فقط رنگ نہیں ہوتے۔بلکہ رنگوں میں مختلف اور پوشیدہ ہو تے ہیں۔کیونکہ میں اپنی ڈگری مکمل کر چکا ہوں لیکن سیاست کے میدان میں خود کو طفل تلمذ سمجھتا ہوں مجھے نہیں معلوم کہ پیپلز پارٹی
کے رنگوں کے انتخاب میں کن کن خاصیتوں پر غور و خوص کیا گیا تھا اور یہ تین رنگ کس نے منتخب کئے میں اس سے بھی لاعلم ہوں لیکن جو بات میں جانتا ہوں اور جو سمجھتا ہوں کہ یہ
تین رنگ بھٹو خاندان کی ایک بہت بڑی پہچان بن گئے ۔
عموما سبز رنگ فطرت کی خوشحالی اور زرخیزی کی علامت سمجھا جاتا ہے ۔ سرخ رنگ جوش اور ولولے شہادت جبکہ سیاہ رنگ غن دکھ اور سانحے کا رنگ ہے ۔
سبز رنگ:
سبز رنگ زندگی ی بقاء کی علامت ہریالی ایک تحرک ہے ایک توازن ہے ۔سبز رنگ کی خاصیت چھاؤں جیسی ٹھنڈی ہے۔بھٹو خاندان پر اس رنگ کا گہرا اثر نظر آتا ہے ۔جو ان کی تخلیقی صلاحیت اور ذہنی وسعت کو ظاہر کرتا ہے ۔فزکس کی تھیوری آف ریلیٹوٹی کی طرح ۔ایک چیز دوسری چیز سے تعلق رکھتی ہے ۔اس تعلق کا یہ لیول بلواسطہ یا بلا واسطہ زندگی اور کائنات سے جڑا ہواہے ۔یہ ہی وجہ ہے کہ سندھ کی زمین کی زرخیزی قوت اور اثر بھٹو خاندان کو ورثے میں ملا۔سبز رنگ فطرت کی قوت اور تبدیلی کا نام ہے ۔یہ رنگ قوت اور ضابطے کی خاصیت کو ظاہر کرتا ہےْ ۔اس رنگ میں ہم آہنگی ہے ۔جو بھٹو خاندان کی سب سے بڑی خوبی ہے ، sprit of placeکے فلسفے کے تحت وہ اپنی اندرونی طاقت سے بیرونی ماحول اور مزاج حالات و واقعات کو ہم آہنگ کرنیکی صلاحیت رکھتے تھے۔اس لبرل ازم اور پروگریسو سوچ نے بھٹو خاندان کو زندگی سے محروم کر دیا ۔

سرخ رنگ:
سرخ رنگ کی اگر بات کی جائے تو اس رنگ کی wave lengthبہت لمبی ہے ۔اس رنگ میں جوش و جذبہ ہے ،اس رنگ میں ولولہ خیزی کا جو عکس نظر آتاہے ۔وہ ذوالفقار علی بھٹو کی شخصیت کی نمائندگی کرتا ہے ۔حالانکہ سبز رنگ بھی ان کی ذات میں محسوس ہوتاہپے ۔لیکن سر خ رنگ ہلچل، جدوجہد، جوش اور قوت کے طور پر ان کی نفسیات کی نمائندگی کرتاہے ۔یہ رنگ جذبات ، غصے اور جارحیت کے قریب ہے ۔سرخ رنگ جوسوچ میں بے آرامیاور بے سکونی پیدا کرتاہے red light districtجسے محاورے اس پر مہر سبط کرتے ہیں۔جہاں سبز رنگ زندگی کی علامت ہے وہیں سرخ رنگ زندگی کی بقاء اور جدوجہد کااستعارہ۔

سیاہ رنگ:
جیسا کہ میں پہلے بیان کر چکا ہوں کہ سیاہ رنگ غم و الم کا رنگ ہے ۔پیپلز پارٹی اور بھٹو خاندان نے جدو جہد کے اس میدان میں اپنی زندگی کو مصائب اوردکھوں کی آماجگاہ بنا لیا تھا۔بھٹو خاندان کے ایک ایک چراغ نے جمہوریت کی جدو جہد کو جاری رکھنے کے لئے اپنے خون کا نذرانہ پیش کیا۔ کبھی تختہ دار پر لٹکے تو کبھی جلا وطنی کا عذاب سہا۔ 18اکتوبر اور 27دسمبر جیسے اندوہ و المناک سانحات نے کے حواے سے اس رنگ نے پاکستان پیپلزپارٹی اور بھٹو خاندان کے نشیب و فرعاز کی درست ترجمانی کی ہے ۔آج بھی مجھے وہ وقت یاد ہے کہ جب کراچی کی شاہراہ فیصل پر خون کی ہولی کھیلی گئی۔اور کیسے بھول سکتا ہوں میں وہ دن جب 27دسمبر2007کو قیامت صغری برپا کی گئی ۔اور ملک میں توڑ پھوڑ کی سا سماں تھا۔جب بہت سے سہاگ اجڑے بچے یتیم اور لاوارث ہوئے۔اور بہت سی کوکھیں اجڑ گئیں ۔گلشن کے پھول مرجھا گئے ۔اور ہر طرف آہ و بقا تھی تو یہ ترجمانی ہے پاکستان پیپلز پارٹی کے جھنڈے کے رنگوں کی۔

الغرض قصہ مختصر یہ کہ بھٹو خاندان کی ذہنی پرواز جدوجہد باطل کے سامنے ڈٹ کر کھڑے ہونا ،لیڈر شپ اور مستقل مزاجی ایسی خصوصیات ہیں کہ جس کی وجہ سے پوری دنیا ان کی لیڈرانہ صلاحیتوں کی متعارف ہوئی ۔ یورپی دنیا کے لئے تیسری دنیا کے ممالک بالخصوص مسلمانوں کے لئے رویہ ہمیشہ جارحانہ اور آمریت انگیز رہا ہے ۔ایسے میں ایٹمی طاقت کے حامل جمہوریت کی بات کرنے والے شخص کی مخالفت کی انتہاء ہوتی ہے۔[ہنک باطل قوتیں ہمیشہ ایسے لوگوں سے خائف رہتی ہیں ۔اس کے بر خلاف شخصی مفادات کو سامنے رکھنے والے اور اشاروں پر کٹھ پتلی کی طرح ناچنے والے حکمران ان کو منظور نظر ہوتے ہیں ۔ذوالفقار علی بھٹو غیر معمولی ذہن رکھنے والے فتین لیڈر تھے۔ْاگر انہیں اس ملک پر حکمرانی کے 10سال ملے ہوتے تو آج پاکستان ایشیا ء کا سب سے مضبوط خوشحال اور ترقی یافتہ ملک ہوتا۔

Check Also

کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کے اسٹار بیٹسمین احمد شہزاد

کوئٹہ گلیڈی ایٹرز، پی ایس ایل کی نئی چیمپئن

محمد واحد کراچی: کوئٹہ گلیڈی ایٹرز نئی چیمپئن بن گئی ہے، جس نے یکطرفہ مقابلے …