جمعرات , مارچ 21 2019
Home / اہم خبریں / پالیسی ریٹ بڑہ گیا: مہنگائی مزید بڑھے گی- اسٹیٹ بینک

پالیسی ریٹ بڑہ گیا: مہنگائی مزید بڑھے گی- اسٹیٹ بینک

کراچی (ضحیٰ مرجان) اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے ملک کی معاشی صورت ِحال کی روشنی میں 3 دسمبر 2018 ء سے پالیسی (ٹارگٹ) ریٹ کو 150 بی پی ایس بڑھا کر 10.0 فیصد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

مرکزی بینک نے جمعے کے دن پالیسی کا اعلان پریس ریلیز میں کیا ہے. دوسری طرف بینک کے مطابق مالی سال 19ء کے پہلے چار ماہ کے دوران اوسط مہنگائی بلحاظ صارف اشاریہ قیمت (CPI) بڑھ کر 5.9 فیصد ہوگئی جبکہ مالی سال 18ء کی اسی مدت میں 3.5 فیصد تھی۔قوزی مہنگائی (core inflation) میں یہ رجحان اور بھی نمایاں تھا جس سے معیشت میں مہنگائی کے بڑھتے ہوئے دباؤ کا پتہ چلتا ہے۔

رپورٹ کا کہنا ہے کہ ستمبر 2018ءمیں زری پالیسی کمیٹی کے پچھلے اجلاس کے بعد سے جاری ہونےوالے معاشی اعدادوشمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ استحکام کے حالیہ اقدامات کے مثبت اثرات بتدریج سامنے آنا شروع ہوگئے ہیں۔ خاص طور پر جاری کھاتے کے خسارے میں بہتری کے کچھ ابتدائی آثار دکھائی دینے لگے ہیں۔ تاہم بڑھتی ہوئی مہنگائی، بلند مالیاتی خسارے اور زر ِمبادلہ کے کم ذخائر کی وجہ سے پاکستان کی معیشت کو درپیش قلیل مدت دشواریاں برقرار رہیں۔ اس تشویش کی عکاسی اعتماد ِصارف اور کاروبار کے حالیہ سرویز کے نتائج سے بھی ہوتی ہے۔

ان حالات کے پیش نظر اسٹیٹ بینک نے مالی سال 19ء کے لیے اوسط مہنگائی بلحاظ صارف اشاریہ قیمت کی پیش گوئی 6.5-7.5 فیصد کی حدود میں رکھی ہے جو 6.0 فیصد کے سالانہ ہدف سے زیادہ ہے۔ اگرچہ تیل کی عالمی قیمتوں میں حالیہ کمی ممکنہ طور پر مہنگائی کے موجودہ رجحان کو آہستہ کرنے میں مثبت کردار ادا کرسکتی ہے تاہم فی الحال خطرات کا میلان کمی کی طرف ہے۔

بڑے پیمانے پر اشیاسازی (LSM) کے حالیہ اعداد وشمار کو دیکھا جائے تو توقع ہے کہ مالی سال 19ء کے دوران معاشی سرگرمیوں میں نمایاں اعتدال آئے گا جو معاشی استحکام کی راہ پر چلنے کی قلیل مدت لاگت کی عکاس ہے۔ امکان ہے کہ جنوری 2018ء سے اب تک پالیسی ریٹ میں 275 بیسس پوائنٹس کا تاخیر سے اثر رواں مالی سال کے دوران ملکی طلب کو قابو میں رکھے گا۔ مزید برآں، توقع ہے کہ گندم کے سوا اہم فصلوں کے ابتدائی تخمینے گذشتہ برس میں حاصل کردہ سطح سے کم رہیں گے۔ اجناس پیدا کرنے والے شعبوں میں سست رفتاری کی بنا پر خدمات کے شعبے میں اضافہ بھی محدود رہنے کا امکان ہے۔ اس پس منظر میں مالی سال 19ء کے لیے اسٹیٹ بینک کی پیش گوئی ہے کہ حقیقی جی ڈی پی نمو 4.0 فیصد کی سطح سے تھوڑی سی زیادہ رہے گی۔

بیرونی شعبے میں درآمدی نمو جولائی تا اکتوبر مالی سال 19ء کے دوران کم ہوکر 5.8 فیصد رہ گئی جبکہ گذشتہ سال اسی عرصے میں 26.3 فیصد ریکارڈ کی گئی تھی جس سے سخت روی کے حالیہ اقدامات کے اثر کی عکاسی ہوتی ہے۔ درآمدات کی یہ نمو بھی زیادہ تر تیل کی بلند عالمی قیمتوں کی بنا پر تیل کے درآمدی بل میں اضافے کی بنا پرہوئی۔ نان آئل درآمدات مالی سال 19ء کے پہلے چار ماہ میں 4.0 فیصد گھٹ گئیں۔ اس کے ہمراہ برآمدات اور کارکنوں کی ترسیلات ِزر میں مسلسل اضافے نے جولائی تا اکتوبر مالی سال 19ء میں بیرونی جاری کھاتے کے خسارے کو کم کرکے 4.8 ارب ڈالر کردیا جبکہ جولائی تا اکتوبر مالی سال 18ء میں یہ 5.1 ارب ڈالر تھا، یعنی مجموعی طور پر 4.6 فیصد کی بہتری آئی۔ اس مثبت پیش رفت کے باوجود اسٹیٹ بینک کے سیال زرِمبادلہ کے خالص ذخائر پر دباؤ برقرار رہا جو 23 نومبر 2018ء کو کم ہوکر ذخائر 8.1 ارب ڈالر ہوگئے جبکہ مالی سال 18ء کے اختتام پر 9.8 ارب ڈالر تھے۔

آگے چل کر توقع ہے کہ مالی سال 19ء کی دوسری ششماہی میں نجی اور سرکاری دونوں ذرائع سے زیادہ بیرونی رقوم آئیں گی۔ مزید برآں، حالیہ دوطرفہ انتظامات بشمول تیل کی موخر ادائیگی سے متعلق حالیہ سہولت بھی جنوری 2019ء اور اس کے بعد مارکیٹ کو دستیاب ہوگا۔ جاری کھاتے کے خسارے میں متوقع کمی –جسے تیل کی عالمی قیمتوں میں حالیہ کمی سے مزید تقویت مل سکتی ہے—ز رِمبادلہ کی مارکیٹ میں اعتماد پیدا کرنے کے حوالے سے نیک شگون ہے۔ یہ حالات اسٹیٹ بینک کے خالص سیال زرِمبادلہ کے ذخائر پر دباؤ میں کمی لانے میں معاون ہوں گے۔

مالی سال 19ء کے پہلے ساڑھے چار ماہ کی شماریات سے ظاہر ہوتا ہے کہ بینکاری نظام کی تقریباً تمام سیالیت خالص ملکی اثاثوں (NDA) میں اضافے کی بنا پر پیدا ہوئی کیونکہ خالص بیرونی اثاثے (NFA) مسلسل کم ہوتے رہے۔ بجٹ کی کمی پورا کرنے کے لیے اسٹیٹ بینک سے لیے گئے قرض کے علاوہ نجی شعبے کو دیا جانے والا نسبتاً زیادہ قرضہ خالص ملکی اثاثوں میں اضافے کی بڑی وجوہ ہیں۔ سکڑاؤ کے زری حالات کے باوجود پچھلے تین برسوں میں استعداد بڑھنے کی وجہ سے جاری سرمائے (working capital) کی ضروریات میں اضافہ اور خا م مال کی قیمتوں کا نمایاں طور پر بڑھنا نجی شعبے کو دیے جانے والے نسبتاً زیادہ قرضے کی بنیادی وجوہات ہیں۔

ان تمام حالات پر سوچ بچار کے بعد زری پالیسی کمیٹی نے نوٹ کیا کہ مہنگائی کے مسلسل دباؤ(اور مہنگائی کی بڑھتی ہوئی توقعات) کو روکنے کی ضرورت ہے، حقیقی شرح سود کم ہے، اگرچہ جاری کھاتے کا خسارہ کم ہورہا ہے تاہم اس کی سطح اب بھی بلند ہے اور نئے عالمی حالات خصوصاً ترقی یافتہ معیشتوں میں بتدریج لیکن مسلسل زری پالیسی کا معمول پر آنا، ملک کے اندر فعال زری انتظام کا متقاضی ہے۔

Check Also

کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کے اسٹار بیٹسمین احمد شہزاد

کوئٹہ گلیڈی ایٹرز، پی ایس ایل کی نئی چیمپئن

محمد واحد کراچی: کوئٹہ گلیڈی ایٹرز نئی چیمپئن بن گئی ہے، جس نے یکطرفہ مقابلے …