جمعرات , مارچ 21 2019
Home / اہم خبریں / سندھ اور بلوچستان کی70 اسٹیل ری رولنگ ملزبند
Re-rolling mill
Re-rolling mill

سندھ اور بلوچستان کی70 اسٹیل ری رولنگ ملزبند

کراچی(اسٹاف رپورٹر) کراچی میں بلند عمارتوں کی تعمیرات پر پابندی کے منفی اثرات ذیلی صنعتوں پر پڑنے لگے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق ایسوسی ایشن آف بلڈرز اینڈ ڈیولپرز(آباد ) کے چیئرمین محمد حسن بخشی نے کہا ہے کہ کراچی میں کثیر المنزلہ عمارتوں کی تعمیرات پر پابندی کے باعث سندھ اور بلوچستان کی70 اسٹیل ری رولنگ ملزبند ہوچکی ہیں جس کے نتیجے میں مذکورہ ملوں کے 25 ہزار ملازمین بے روزگار ہوگئے ہیں۔

چیئرمین آباد نے کہا کہ کراچی میں پانی کی کمی سے متعلق واٹر بورڈ کی سپریم کورٹ میں غلط رپورٹ پر سپریم کورٹ نے بلند عمارتوں کی تعمیرات پر پا بندی لگادی تھی۔

حسن بخشی نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بلند عمارتوں پر پابندی کو 19 ماہ گزر چکے ہیں لیکن سندھ حکومت نے پانی کی کمی کے مسئلے کو حل کرنے کے لیے تاحال کوئی اقدام نہیں اٹھایا ہے۔

انھوں نے بتایا کہ سپریم کورٹ نے گراؤنڈ پلس 6 تک کی عمارتوں کی تعمیرات کی اجازت دے دی ہے لیکن کئی ماہ گزرگئے تاحال ایک بلڈنگ کا بھی نقشہ پاس نہیں ہوسکا کیوں کہ واٹر کمیشن نے گراؤنڈ پلس 6 عمارتوں کی منظوری کے لیے ایس بی سی اے کو احکام جاری کیے ہیں کہ گیس بجلی اور واٹر بورڈ کی جانب سے این او سی جاری ہونے پر ہی منظوری دی جائے۔

انھوں نے بتایا کہ گیس اور بجلی کے اداروں نے تو این او سی جاری کردی لیکن واٹر بورڈ کی جانب سے این او سی نہ ملنے کے باعث ابھی تک گراؤنڈ پلس 6 پلس عمارتوں کی تعمیرات کی اجازت ہونے کے باوجود ایک پروجیکٹ کی بھی منظوری نہیں ہوسکی۔ تعمیراتی سرگرمیاں ختم ہونے کے باعث کراچی میں 600 ارب روپے کی سرمایہ کاری رک گئی اور آرکیٹیکٹس ،انجینئرز سمیت لاکھوں افراد بے روزگار ہوگئے ہیں۔بلڈرز اور ڈیولپرز کا مرتب کردہ سرمایہ کاری کا پلان درہم برہم ہوکر رہ گیا ہے ۔

ان کا کہنا تھا کہ پابندی کے منفی اثرات تعمیراتی شعبے کی ذیلی صنعتوں پر پڑنے لگے ہیں۔ تعمیرات نہ ہونے کے باعث کراچی میں تعمیراتی پروڈکٹس کی فروخت میں انتہائی کمی ہوگئی ہے.

Check Also

کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کے اسٹار بیٹسمین احمد شہزاد

کوئٹہ گلیڈی ایٹرز، پی ایس ایل کی نئی چیمپئن

محمد واحد کراچی: کوئٹہ گلیڈی ایٹرز نئی چیمپئن بن گئی ہے، جس نے یکطرفہ مقابلے …