بدھ , اپریل 24 2019
Home / اہم خبریں / یوم تاسیس پر خورشید شاھ کے ساتھ خصوصی بات چیت
خورشيد شاه ڪيساته خصوصي بات چيت

یوم تاسیس پر خورشید شاھ کے ساتھ خصوصی بات چیت

سید خورشید شاہ کا تعلق سکھر سے ہے ۔ وہ 20اپریل1952 میں ایک سید گھرانے میں پید اہوئے۔خورشید شاہ زمانہ طالب علمی سے ہی سیاست میں خاصی دلچسپی رکھتے تھے۔ 1988 میں پہلی دفعہ صوبائی اسمبلی کے ممبر منتخب ہوئے ۔ قومی اسمبلی کے ممبر ہونے کے ساتھ قائد حزب اختلاف کے فرائض بھی نبھا رہے ہیں ۔ یوم تاسیس کے حوالے سے ان کی رہائش گا ہ پر ایک بیٹھک میں ہونے والی گفت گو قارئین کے لئے حاضر ہے۔

سوال:پاکستان پیپلز پارٹی کو بنے ہوئے51سال ہو چکے ہیں کیا سمجھتے ہیں کہ ایسے کیا حالات تھے کہ ذوالفقار علی بھٹو کو ایک علیحدہ سیاسی جماعت بنانی پڑی؟
جواب: اس وقت سیاسی جماعتوں کا کوئی مضبوط سسٹم نہیں تھا۔ ایک مخصوص حلقہ تھا جو حکومت میں موجود تھا۔ عوام کا کوئی پرسان حال نہیں تھا۔اس لئے وقت کی ضرورت تھی کہ کوئی ایسی جماعت ہو جو عوام کی بات کرے ۔بھٹو صاحب بڑے visionary تھے ۔ 16سال کی عمر میں ان کے دل میں اپنے لوگوں اپنے مسلمانوں کے حالات کو بدلنے کی جستجو پیدا ہوئی۔ بچپن سے ہی وہ سیاسی بصیرت رکھتے تھے ۔ شروع سے ہی وہ کچھ غیر معمولی صلاحیتوں کے مالک تھے انہوں نے لوگوں کے حقوق کے حصول اور جمہوری نظام کے لئے ایک نئی پارٹی بنانے کا فیصلہ کیا اور پارٹی بنائی۔

سوال:اس وقت اس پارٹی کو عوامی پارٹی بنانے میں کون کون سی مشکلات کا سامنا رہا ؟
جواب:بھٹو صاحب کے تصور اور فکر میں پاکستان کا بہتر مستقبل تھا۔ آج کی طرح پارٹی گھر بیٹھ کر نہیں بنائی۔بلکہ اس کو عوامی پارٹی بنانے اور لوگوں میں متعارف کروانے میں بھٹو صاحب کی بڑی جدوجہد تھی۔آپ کو میں ایک دلچسپ بات بتاؤں جو بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ بھٹو صاحب کے والد سر شاہنواز بھٹو کی ایک پارٹی تھی پاکستان بننے سے پہلے جس کا نام تھ ا پیپلز پارٹی ۔ جب بھٹو صاحب نے پارٹی بنائی تو اسی نام کو لیا اور اس میں پاکستان کا اضافہ کیا۔میں چھوٹا تھ ااور میں نے بھٹو صاحب کو اپنی آنکھوں سے وائٹ ویگنر پر دیکھا ۔ انہون نین پورے ملک کا دورہ کیاگاؤں گاؤں شہر شہر گئے لوگوں سے ملاقاتیں کی۔ انکو اپنی پارٹی کا تعارف دیا ان میں سیاسی شعور پیدا کیا اور انہیں اپنی پارٹی میں شامل ہونے دعوت دی۔ یہ چھوٹا کام نہیں تھا۔لوگ ایوب خان سے ڈرے ہوئے تھے۔پیپلز پارٹی کو ہمیشہ سے لیفٹ اور مزدور اور کسان کی پارٹی سمجھا گیا ہے۔کچھ بھی ہے ہم کسانون کی بات کرتے ہیں ۔آج کے اس نئے دور میں مزدوروں کی بات کرتے ہیں۔بھٹو صاحب کے بعد ہمارے جتنیبھی ٹین یور آئے اور ہم نے آج تک جو ریفارم کیے ہیںآج بھی لوگ اس کے معترف ہیں۔جس وقت پارٹی بنائی جارہی تی اس وقت بہت ساری مخالفت کا سامنا کرنا پڑا لیکن بھٹو کی فہم و فراست، ان کا visionہی تھا کہ انہوں نے انتہائی کم عرصے میں اپنی پارٹی کو منوایا۔اس وقت انہوں نے میدیا کو بھی اپنا سہارانہیں بنایا تھا۔وہ خود گئے لوگوں میں اور اپنا پیغام پہبنچایا ۔اور اپنا منشور تقسیم کیا ۔اور بالآخر پارٹی بنائی۔یہ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ جب تک آپ لوگوں سے رابطہ نہیں کریں گے لوگ نہیں آئیں گے۔ آض کی دنیا بڑی عجیب دنیا ہے یہاں لوگ گھر بیٹھ کر ہی الزام تراشیاں کرتے ہیں ، تعریف کرتے ہیں بیان جاری کرتے ہیں اور سوشل میڈیا پرڈال دیتے ہیں ۔سچ کو جھوٹ اور جھوٹ کو سچ بنادیتے ہیں۔ اس un nutural ڈیزائن سے ملک میں ڈسٹربنس پھیلتی ہے۔ اور نیچرل چیزیں جو حقائق پر مبنی ہیں چھپتی جا رہی ہیں ۔ مثبت سیاست کی ضرورت ہے۔ہیں لوگوں سے بالواسطہ رابطہ کرنا چاہیے ۔

سوال: 51سالہ جدوجہد کو کس طرح بیان کریں گے؟
جواب: سیاسی جماعتوں کی یہ لائف اتنی بڑی نہیں ہے۔آپ 51سالوں میں اتار چڑہاؤ دیکھیں ۔بھٹو صاحب چلے گئے ۔ محترمہ بھی نہیں رہیں۔سارا خاندان چلا گیا۔بہت سارے پارٹی کے سینئیر جو اب اس دنیا میں نہیں ہیں ۔جو تیسیری لیڈر شپ تھی وہ آج آگے آگئی ہے ۔اور چوتھے نمبر والی بھی اب آرہی ہے ۔تو یہ ایک چھوٹا سا ٹائم ہے میں بھٹو صاحب کے زمانے میں تھرڈ فورتھ لائن میں تھ اآج پارٹی کی لیڈر شپ کے بعد سیکنڈ لائن میں ہوں ۔آہستہ آہستہ آگے بڑہیں ہیں ۔ ہماری سیاست ملک کے لئے ہے جو کہ لوگ اب نہیں کرتے لوگ صرف اپنے لئے سیاست کرتے ہیں ۔ آج کے سیاست دان خود کو ہٹلر کہتے ہوئے فخر محسوس کرتے ہیں۔جب سیاست دان سیاست میں ہٹلر کا ریفرنس دیں تو انداز لگائیں کہ سیاست کتنی خطرناک ہو گی۔

سوال: پاکستان پیپلز پارٹی کے مخالفین اور بالخصوص وہ لوگ جو پارٹی چھوڑ کر کسی دوسری پارٹی میں گئے ہیں کا کہنا ہے کہ اب بھٹو کی پارٹی نہیں رہی وہ پارٹی ختم ہو چکی ہے اس بارے میں آپ کیا کہیں گے؟
جواب: سمپل طریقہ ہے آپ دیکھیں کہ پارٹی میں آنے سے پہلے وہ کیا تھے کہں سے آئے تھے میں پہلے بھی کہہ چکا ہوں کہ لوگ مفادات پر سیاست کر رہے ہیں۔ وہ جس پارٹی میں آئے تھے آج بھی وہ ہی پارٹی موجود ہے ۔ ہمارا جھنڈا وہ ہی ہیہمارا منشور وہ ہی ہے ۔ ہاں آج بھٹو نہیں ہے لیکن بھٹو کا نام ہے اس کا نشان اس کا visionاس کی سیاست آج بھی وہ ہی ہے اگر بے نظیر بھٹو کا نام لو تو اس مں بھی جئے بھٹو ڈالنا پڑتاہے جو کہ ہمارا تاریخی نعرہ ہے ۔اور جو مخالفین یہ باتیں کر رہیں وہ ایسی باتیں کریں گے تب ہی تو آگے نکلنے کی کوشش کریں گے۔کیونکہ وہ بھٹو کے vision اس کی سیاست سے میچ نہیں کرتے ۔ لہذا ایسی کوششیں کرتے ہیں۔

سوال: شاہ صاحب کیا لگتا ہے کہ آج سے کچھ وقت پہلے جب بی بی حیات تھیں یا بھٹو صاحب موجود تھے۔ اس وقت لوگوں کا جو رجحان تھا پیپلز پارٹی کی طرف یا ان کا جو لگاؤ تھا وہ اب بھی موجود ہے یا کچھ تبدیلی آئی ہے؟
جواب (مسکراتے ہوئے) دیکھیں تبدیلی تو وقت کی ضرورت ہے ۔ لیکن پہلے لوگ نظریاتی جنگ لڑا کرتے تھے اب نظریات کم اور مفادات زیادہ ہیں۔مجھے گلی چاہے ، مجھے کوچہ چاہیے ، مجھے کام چاہیے سڑک چاہیے لیکن یہ وقت کی ضرورت بھی ہے ۔ جہاں سندھ میں کبھی دو میڈیکل کالج ہوا کرتے تھے آج آپ دیکھ لیں کہ کتنے ہیں؟ میں یہ نہیں کہتا کہ ہم نے بنائے ہیں اور بڑا کام کیا ہے ۔ یہ ایک علیحدہ بحث ہے ۔ لیکن اس حساب سے آبادی میں خاطر خواہ اضافہ ہوا ہے ۔ ڈیمانڈ میں اضافہ ہو اہے تو رجحانا ت میں تبدیلی تو آئے گی۔ ۔ میں آپ کے اس سوال پر یہ کہہ سکتا تھا کہ 2008میں ہم نے 89سیٹیں جیتیں اس کے مقابلے میں ہم نے 2013 میں 91اور 2018 کے عام انتخابات میں 95سیٹیں جیتیں ہیں لیکن یہ سچ ہے کہ وقت کے ساتھ تبدیلی آتی ہے اور اس کو قبول کرتے ہوئے آگے نکلنا چاہیے ۔

سوال: پاکستان پیپلز پارٹی کے 51سال میں کون سا دور آپ کی نظر میں سب سے بہترین دور رہا ہے ؟
میری نظر میں تو تمام ادوار اچھے رہیں ہیں۔ایک تو وہ دور تھا کہ جس نے سب کو شعور بخشا ۔لوگوں کو پتا چلا کہ سیاست کیا ہوتی ہے۔وہ تو دنیا کے ساتھ بھی ایک چیلنج تھا۔آج تو لوکل پرابلمز ہیں اس وقت انٹرنیشنل پرابلمز تھے۔تھرڈ ورلڈ وار کا چیلنج تھا۔پاکستان ٹوٹ چکا تھادنیا پاکستان کو ختم کرنا چاہتی تھیاور بھٹو پاکستان کو نیو کلئیر پاور بنانا چاہتے تھے ۔آمرکا پاکستان کے ساتھ چلنا پسند نہیں کرتا تھابھٹو امریکا کی ضرورت بنا۔ہر طرح کے تھریٹ اور سازشوں کا سامنا کیا۔پاکستان ٹوٹنے کے بعد نے سہارا بن گیا تھااس دور اور آض کے دور میں بڑا فرق ہے ۔آج کے دور میں تو قرضے بھی مل جاتے ہیں ۔ اس وقت کو اور اس وقت کو میچ نہیں کرسکتے ۔وہ الگ دور تھا الگ تاریخ تھی۔ اور جو بی بی کا دور تھا تو بی بی نے بھی مارشل لاء میں سیاست سنبھالی ہڑتالیں تھیں بھٹو شہید کئے جا چکے تھے ۔ آمریت کیا سایہ تھا۔اس کے باوجود انہوں نے ملکی سیاست میں رہتے ہوئے جمہوریت کے لئے یہاں کے لوگوں کے لئے جدوجہد کی ۔ پرویز مشرف کا دور دورا تھا عدلیہ کام نہیں کر سکتی تھی ۔ ان حالات اور ان حالات میں بڑا فرق ہے ۔

سوال: سندھ کے لوگوں نے مسلسل تیسیری دفعہ پاکستان پیپلز پارٹی کا انتخاب کیا اور ایوانوں تک پہنچایا صوبے کی بہتری ک لئے کیا اقدامات اٹھائیں گے روزگار کا بڑا مسئلہ ہے اس کو کیسے حل کریں گے؟
جواب: دنیا میں کسی بھی ملک میں اتنی گورنمنٹ سروس نہیں دی جاتی جتنی پاکستان میں دی جاتی ہیں ۔انڈیا میں اس کا ریشو اور بھی کم ہے ہم نے یہاں کافی کوشش کی ایگرکلچر اور انڈسٹری کو پروموٹ کرنے کی اور اس پر مزید بھی کام کر رہے ہیں ۔ کیونکہ ہر نوجوان سرکار ی نوکری سے ہو یہ بات ناممکنات میں سے ہے ۔میں آپ کو ایک مثال دوں ہم نے لوگوں کو رکشہ دیا تاکہ وہ اپنا روزگا ر کما سکیں انہوں نے وہ رکشے بیچ دیے۔لوگ کام کرنے کے لئے تیار نہیں یہ بڑی خطرناک بات ہے لوگ مفت کی روٹی کے پیچھے پڑے ہیں اس طرح لوگ بھی تباہ ہونگے اور ادارے بھی ۔اس وقت سیاسی جماعتوں کی ذمے داری بنتی ہے کہ وہ لوگوں کو سمجھائیں کہ جب وہ پیسے دیں گے تو نظام چلے گا ورنہ تو سب کو تکلیف ہو گی ۔ لوگوں کو احساس دلانے کی ضرورت ہے ۔جو کہ آج کے سیاست دان ڈر کے مارے نہیں کرتے ۔

سوال: بلاول کے بارے میں کچھ بتائیے آپ ان کو سیاست میں کیسا پاتے ہیں؟
جواب:میں بلاول میں اور پارٹی میں بڑا پر امید ہوں ۔میں نے بلاول میں بہت ساری چیزیں ایسی دیکھیں ہیں جو بھٹو صاحب ست مشابہت رکھتین ہیں مجھے بلاول میں بھٹو صاحب کی جھلک نظر آتی ہے۔ہاں ٹائم لگے گاوہ پڑہتے بھی ہیں سمجھتے بھی ہیں،دیکھتے بھی ہیں اور بولتے بھی ہیں لیکن وقت اور تجربہ بہت معنی ٰ رکھتا ہے۔وقت کے ساتھ لوگوں کو پہچاننابولنے سے پہلے نتائج کا سوچنا اس میں وقت لگے گا۔ میں نے بھی وقت کے ساتھ سیکھا ہے اور آج قائد حزب اختلاف ہوں لیکن اس کے باوجود اب بھی بہت ساری چیزو ں میں سوچنا پڑتاہے ۔کہ آگے کیا کرنا ہے ۔ کیا بات کرنی ے کیسے کرنی ہے۔بتانے کا مقصد یہ تھا کہ تجربہ بہت معنیٰ رکھتا ہے ۔جس کے لئے بلاول بھٹو کو وقت لگے گا۔لیکن یہ بات میں آپ کو بتاتا چلوں کہ اس میں بھٹو کی جھلک ہے اور وہ پارٹی کو بہت آگے لے کر جائے گا۔

سوال : کیا سمجھتے ہیں کہ پاکستان پیپلز پارٹی کا مستقبل کیا ہے ؟
جواب: جب تک ہم بھٹو کے vision کو followکرتے رہیں گے ان کے بتائے ہوئے طریقو کے مطابق ہماری سیاست ہے تو ہمیں کوئی نہیں ہرا سکتا۔ ہمارے پاس بلاول کی صورت میں نوجوان قیادت ہے ۔ انشاء اللہ بلاول کی سربراہی میں پارٹی آگے جائے گی ۔ لوگوں کے مسئلے بھی حل ہوں گے اور ایک روشن اور خوشحال پاکستان بنائیں گے۔

Check Also

ذولفقارعلی بھٹو ایک تاریخ ساز شخصیت

ذولفقارعلی بھٹو ایک تاریخ ساز شخصیت

ضحیٰ مرجان ذولفقارعلی بھٹو ایک تاریخ ساز شخصیت ہیں۔ پیپلز پارٹی کے جیالوں کی تاریخ …