بدھ , اپریل 24 2019
Home / اہم خبریں / ہیرا منڈی کی حویلی

ہیرا منڈی کی حویلی

ضحیٰ مرجان

پنجاب کا دار الحکومت اور ملک کا دوسرا سب سے بڑا شہر زندہ دلانے لاہور جس کا کل رقبہ 1014مربع کلو میٹر ہے جو کہ مختلف خصوصیات کا حامل ہے۔ یہ ہی وجہ ہے کہ اس شہر کے لئے مشہور ہے کہ ’’جناں لاہور نئیں ویکھیا تے او جمیا ئی نئیں‘‘(کہ جس نے لاہور نہیں دیکھا وہ ایسا ہے گویا پیدا ہی نہیں ہوا).

 

لاہور ایک تجارتی، ثقافتی، اور تاریخی شہر ہے یہ ہی وجہ ہے کہ اگر اس شہر کو ثقافت اور تاریخ کا مرکز کہا جائے تو غلط نہ ہوگا۔ لاہور میں جگہ جگہ پرانی طرز پر بنی عمارات آج بھی مغل سلطنت کی پر تعیش زندگی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔اس شہر نے بہت سارے بادشاہوں کو راج پاٹ سنبھالتے اور ان کے تخت الٹتے دیکھے ہیں۔

لاہور کے مشہور تاریخی اور ثقافتی مقامات کی اگر بات کی جائے تو پورا شہر دیکھنے سے تعلق رکھتا ہے۔ لاہور کے مشہور مقامات میں مینار پاکستان، بادشاہی مسجد، لاھور کا قلعہ، داتا کا دربار، نانکانہ صاحب، مسجد وزیر خان، شالیمارباغ، وہاگہ بارڈر،شاہی قلعہ، انار کلی بازار، لبرٹی مارکیٹ، جھانگیر کا مقبرہ ایسے ہی اور بہت سارے مقامات ہیں۔

 

ان تمام مقامات کے علاوہ لاہور میں ایک ایسی عمارت بھی موجود ہے جو عقل کو خیرہ کر دیتی ہے۔اور عمارت کی طرز تعمیر کچھ دیر نئے آنے والے کو اپنے سحر میں جکڑ لیتی ہے۔ اس عمارت کانام ہے ’’حویلی‘‘جہاں پہنچ کر آپ خود کو نواب کیسی کیفیت میں پاتے ہیں۔

فورٹ روڈ شاہی محلے کے قریب واقع فوڈ اسٹریٹ کے درمیان اپنی نوعیت کی انوکھی طرز تعمیر کے باعث جو عمارت لوگوں کی توجہ کا مرکز بنتی ہے وہ اور کوئی نہیں بلکہ حویلی ہی ہے۔ فوڈ اسٹریٹ پر واقع حویلی اخروٹ و بیش قیمت لکڑی سے بنے جھروکے اور کھڑکیاں، دروازوں پر پرانے طرز کی کاشی گری کا کام گویا دلہن کے دوپٹے پر کشیدہ کاری۔

کھڑکی پر لگے سرخ سبزاور زرد رنگ کے شیشے آنکھوں کو خیرہ کئے دیتے ہیں اور دیکھنے والا مبہوت ہو جاتا ہے. شام ڈھلتے ہی حویلی کی دیواروں میں رکھے گئے مٹی کے چراغ جلائے جاتے ہیں۔ جس سے ایک خواب ناک ماحول پیدا ہوتا ہے۔ اس کے ساتھ ہی مختلف مورتیاں، اور پینٹنگز جو سوچنے پر مجبور کر دیں۔ وہاں آویزاں کئے گئے فن پارے بھی اپنی مثال آپ ہیں۔ عمارت کی بالائی چھت سے بادشاہی مسجد کا پورا نظارہ جیسے الف لیلوی کہانی کا کوئی منظر۔

 

جب بر صغیر ہند پر انگریزوں کا قبضہ تھا اس وقت برٹش راج کی طرف سے ایک ہندو خاندان کو یہ حویلی بنانے کی خاص اجازت تفویض کی گئی ۔جس کے بعد یہ چار منزلہ حویلی مختلف شخصیات کی ملکیت رہی۔

جب مغل سلطنت کا زوال ہو رہا تھا، سلطنت کے زوال کے بعد بہت ساری کنیزیں اور رقاصائیں معاشی بدحالی کا شکار ہو کر اپنا گزر بسر کرنے کے لئے جسم فروشی کرنے لگیں ۔ جس سے بازا رحسن وجود میں آیا جسے عرف عام میں ’’ہیرا منڈی ‘‘ کے نام سے جانا جاتا ہے۔

ہیرامنڈی میں واقع عمارت حویلی کے رہائشی اقبال حسین اپنی والدہ اور بہنوں کے ساتھ پٹیالہ سے لاہور ہیرا منڈی آئے. اقبال حسین کی پیدائش بھی لاہور ہی کی ہے ۔ ہیرا منڈ ی میں رہنے والے بہت سارے لوگوں کی طرح اقبال حسین کی کہانی بھی ایک ہی ہے. بنا باپ کے بچے جو ہیرا منڈی میں آنکھ کھولتے ہیں اور یہاں ہی مر جاتے ہیں ان کی معاشرتی زندگی نہ ہونے کے برابر ہوتی ہے۔ ان ہی میں سے ایک اقبال حسین جنہوں نے اپنے فن کی بنیاد پر اپنی پہچان بنائی اور اپنا آپ منوایا۔

 

اقبال حسین اایک معروف مصور ہیں جنہیں ہیرا منڈی کا مصور بھی کہا جاتا ہے، جن کی فن پارے قومی و بین الاقوامی سطح پر مہنگے بکنے والے فن پاروں میں سے ایک ہیں۔ اقبال حسین نیشنل کالج آف آرٹس لاہور میں بطور پروفیسر اپنے فرائض انجام دے رہے ہیں۔ اپنی پینٹنگ سے آنے والی کمائی کا70فیصد ایچ آئی وی ایڈز کے مریضوں کے علاج کے لئے عطیہ کرتے ہیں۔

تین منزلہ عمارت اور بالائی چھت کی تقسیم کچھ اس طرح سے ہے کہ گراؤنڈ فلور پر اقبال حسین کا پینٹنگ اسٹوڈیو ہے جہاں وہ اپنے فن کے ساتھ طبع آزمائی کرتے ہیں اور کورے کینوس کو حسین رنگوں سے سجاتے ہیں جبکہ پہلی منزل کو اہل خانہ کی رہائش کے لئے مختص کیا گیا ہے. بالائی دونوں منزلوں کو ایک روایتی ریسٹورنٹ میں تبدیل کیا گیا ہے۔ حویلی کی چھت، جہاں سے بادشاہی مسجد کا پورا نظارہ بھی دیکھنے کو ملتا ہے وہیں یہاں کا کھانا لذت اور معیار میں بہترین ہے۔ یہ ہی وجہ ہے کہ سیاح اور کھانے پینے کے شوقین نہ صرف لاہور یا پنجاب بلکہ پورے پاکستان اور دیگر ممالک سے لوگ یہاں کا رخ کرتے ہیں.

 

سورج غروب ہونے کے بعد یہاں کی گہما گہمی دیکھنے سے تعلق رکھتی ہے ۔یہ جگہ بیک وقت پینٹنگ اسٹوڈیو،ایک رہائش، میوزیم، ریسٹورنٹ اور visitors place ہے جو پاک و ہند کی روایتی رنگوں اور مغل آرٹ کو اپنے اندر سموئے ہوئے ہے۔

تہذیب و تمدن ،آرٹ ،رسم و روایات کو فروغ اور پرانی ثقافت کو زندہ رکھنے والے پروفیسر اقبال حسین کا کہنا ہے کہ لوگ انہیں ہیرا منڈی سے شفٹ ہونے کے مشورے دیتے ہیں لیکن ان کا کہنا ہے کہ میں اپنے لوگوں کے درمیان خود کو زیادہ پر سکون محسوس کرتا ہوں۔ جس طرح فن کدہ فنکار سے اور فن کار فن کدے سے ہوتاہے بلکل اسی طرح میں بھی اپنے لوگوں کو نہیں چھوڑ سکتا۔ اپنے فن پاروں کے ذریعے اقبال حسین نے بازاار حسن کی طوائفوں کے دکھوں کو بڑے اچھے سے بیان کیا ہے ۔ (تصاویر: ضحیٰ مرجان)

Check Also

اقوام متحدہ نے تسلیم کیا ہے کہ ہر انسان کو پینے کے صاف پانی کا حق حاصل ہے

پینے کے صاف پانی کا حق اور عالمی قانون

محمد علی شاہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے 28 جولائی 2010ء کو ایک تاریخی …