بدھ , اپریل 24 2019
Home / اہم خبریں / کینو کا ایکسپورٹ ٹارگیٹ 3 لاکھ 25 ہزار ٹن مقرر
kinnow target set
kinnow target set

کینو کا ایکسپورٹ ٹارگیٹ 3 لاکھ 25 ہزار ٹن مقرر

کراچی (ضحیٰ مرجان) کینو کے ایکسپورٹرز نے اس سال اپنے ٹارگیٹ میں 50 ہزار ٹن کی کمی کی ہے، ان کا کہنا ہے کہ ایسا عالمی منڈی میں بڑھتے ہوئے مقابلے اور معیاری کینو کی کمی کی وجہ سے کیا گیا ھے.

آل پاکستان فروٹ اینڈ ویجیٹبل امپورٹرز ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن نے کینو کا برامدی ہدف گزشتہ سال کے مقابلے میں 50 ہزار ٹن کم کرکے 3 لاکھ 25 ہزار ٹن مقرر کیا ہے، کینو کی ایکسپورٹ کا اغاز یکم دسمبر سے کیا جائے گا، کینو کی پیداوار 20 لاکھ ٹن رہنے کی امید ہے تاہم ایکسپورٹ کے قابل معیار کے حامل کینو کی دستیابی محدود ہونے کی وجہ سے ایکسپورٹ کا ہدف کم رکھا گیا ہے۔

ایسوسی ایشن کے سرپرست اعلی اور ایف پی سی سی آئی کے نائب صدر وحید احمد کے مطابق گزشتہ سال ملک سے ریکارڈ 3 لاکھ 75 ہزار ٹن کینو ایکسپورٹ کیا گیا جس سے 20 کروڑ ڈالر سے زائد کا زرمبادلہ حاصل ہوا رواں سیزن 3 لاکھ 25 ہزار ٹن ایکسپورٹ سے 18 کروڑ ڈالر زرمبادلہ حاصل ہوگا.

وحید احمد کے مطابق پاکستان کو ترش پھلوں کی ایکسپورٹ میں بلند لاگت کی وجہ سے ترکی، مراکش اور ترش پھل ایکسپورٹ کرنے والے دیگر بڑے ملکوں سے مسابقت میں سخت دشواری کا سامنا ہے۔ روپے کی قدر میں کمی کا اثر شپنگ کمپنیوں کی جانب سے شپنگ چارجز میں اضافہ، پیکجنگ مٹریل مہنگا ہونے اور لوکل ٹرانسپورٹ چارجز میں اضافہ کی وجہ سے زائل ہوگیا ہے جبکہ کینو کی قیمت خرید بھی 100 روپے اضافہ سے 800 روپے فی من ہوگئ ہے۔

پاکستانی کینو کے بڑے خریداروں میں روس، انڈونیشیا، خلیجی ریاستیں اور مڈل ایسٹ ممالک شامل ہیں. پاکستانی کینو کی ایران بھی بڑی مارکیٹ رہا تاہم یہ ساتواں سیزن ہے جس میں ایران کی جانب سے پاکستانی کینو کی امپورٹ کو پابندی کا سامنا ہے، ایران 80 ہزار سے ایک لاکھ ٹن کی مارکیٹ ہے جو بند پڑی ہے۔

روس کی بڑی منڈی میں ترکی اور مراکش سے مقابلہ دشوار ہے.

وحید احمد کے مطابق پاکستان کی ترش پھلوں اور ویلیو ایڈڈ مصنوعات کی مجموعی برامدات پانچ سال میں ایک ارب ڈالر تک بڑھائی جا سکتی ہیں تاہم اس کے لیے ریسرچ اینڈ ڈیویلپمنٹ کے زریعے ترش پھلوں کی نئی ورائٹیاں کاشت کرنا ہوں گی، کینو کو بیماریوں سے پاک کرنا ہوگا اور کینو کی فی ایکڑ پیداوار بڑھاتے ہوئے نئے باغات لگانا ہوں گے تاہم پنجاب میں جو کینو کی پیداوار کا مرکز ہے صوبائی محکمہ زراعت کی جانب سے کوئی توجہ نہیں دی گئی. اسی طرح وفاقی حکومت نے بھی اٹھارہویں ترمیم کو جواز بناکر کینو کی صنعت کے مسائل کو نظر انداز کیا۔

وحید احمد نے بتایا کہ کینو کا معیارپست ہونے اور بیماریوں کی وجہ سے پاکستان یورپ اور چین کی وسیع منڈیوں سے بھی دور ہے۔

ادھر پاکستان کے لیے سی پیک کے زریعے چین کی وسیع منڈی تک رسائی اسان ہوچکی ہے اور چین بھی پاکستانی کینو کی بڑی منڈی بن سکتا ہے لیکن چینی مارکیٹ کے تقاضوں کو پورا کرنے کے لیے ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ پر بھرپور توجہ دینا ہوگی. اس سلسلے میں چین سے مدد لی جاسکتی ہے.

پی ایف وی سے پاکستان کی زرعی تحقیق کے اداروں اور جامعات کے ساتھ اشتراک عمل کے زریعے معیار اور پیداوار کی بہتری کی کوششوں کا اغاز کیا ہے جس کا دائرہ چین کے زرعی تحقیق کے اداروں اور جامعات تک وسیع کیا جاسکتا ہے. چین کی مدد سے زرعی ٹیکنالوجی کا حصول ممکن بناکر کینو سمیت دیگر پھلوں اور چھوٹی بڑی فصلوں کی پیداوار بڑھائی جاسکتی ہے۔

Check Also

ذولفقارعلی بھٹو ایک تاریخ ساز شخصیت

ذولفقارعلی بھٹو ایک تاریخ ساز شخصیت

ضحیٰ مرجان ذولفقارعلی بھٹو ایک تاریخ ساز شخصیت ہیں۔ پیپلز پارٹی کے جیالوں کی تاریخ …