بدھ , اپریل 24 2019
Home / کالمز / آج کے کالمز / ڈیموں کی متبادل اور چھوٹے منصوبوں کی صدی
ڈیم
ڈیم (فائیل فوٹو)

ڈیموں کی متبادل اور چھوٹے منصوبوں کی صدی

محمد علی شاہ

یہ ڈیموں کی متبادل اور چھوٹے منصوبوں کی صدی ہے. اگر ہم دنیا کی تاریخ پر ایک نظر ڈالیں گے تو ہمیں معلوم ہوگا کہ کس طریقے سے طاقتور ممالک اور عالمی سرمایہ داروں نے اپنے سرمایہ کو بڑھانے اور پوری دنیا پر اپنا غلبہ حاصل کرنے کیلئے قدرتی ذخائر کو تباہ کیا۔ اس کے علاوہ پانی کے قدرتی ذخائر سمیت زمین پر موجود ہر قسم کے قدرتی وسائل کو نقصان پہنچایا اور اس کی ماحولیات کو تباہ کیا۔

پوری دنیا کے پانی کے قدرتی ذخائر کو کنٹرول کرنے کیلئے بڑے پیمانے پر دریاؤں کے رخ تبدیل کئے گئے، دریاؤں پر بڑے ڈیم بنائے گئے، پانی کے ذخائر کو بڑے پیمانے پر ٹیکنالوجی سے کنٹرول کیا گیا، روایتی اور مقامی آبپاشی طریقہ کار کے بجائے حد سے زیادہ اور کمرشل نظام متعارف کرایا گیا۔ حد سے زیادہ پانی کے ذخائر سے پانی کا استحصال اور اس کے غیر پائیدار استعمال کی وجہ سے اب دنیا میں پانی کی بڑی قلت اور بحران پیدا ہوچکا ہے۔

میں کبھی کبھی سوچتا ہوں کہ پاکستان اور انڈیا کے آبپاشی کے ماہرین، زمیندار اور سیاستدان برطانوی غیر پائیدار آبپاشی نظام کو دیکھ کر بہت خوش ہوتے ہیں، انگریز سامراج نے اس قسم کے آبپاشی نظام کو اپنے فائدے کیلئے متعارف کرایا، کیونکہ انہیں اپنی فیکٹریاں چلانے کیلئے کچے مال کی ضرورت تھی، جس کی وجہ سے برطانوی سامراج نے پاکستان اور انڈیا میں دنیا کا عظیم غیر پائیدار آبپاشی نظام تشکیل دیا۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ دنیا میں جس بھی ملک اور علاقے پر سامراج قابض ہوئے ہیں انہوں نے سب سے پہلے پانی کے ذخائر پر قبضہ کیا۔ اسی طرح برطانوی سامراج نے بھی جب برصغیر پر حکمرانی کی تو اس نے بھی سب سے پہلے برصغیر کے پانی کے قدرتی بہاؤ پر قبضہ کیا۔

آئیے جائزہ لیں کہ کس طرح بڑے منصوبوں کی وجہ سے، جس کے پیچھے دنیا کے امیر ممالک اور ان کی بنائی گئی عالمی کمرشل کمپنیوں کے معاشی مفادات تھے، جنہوں نے پوری دنیا کے قدرتی وسائل اور اس کی ماحولیات کو تباہ کیا، جس کی بڑی مثال دریاء اور پانی کے قدرتی ذخائر ہیں۔ دریائی قدرتی بہاؤ جنہیں ڈیموں اور بیراجوں میں قید کر کے ان کی ماحولیات اور اس سے منسلک جو بھی زندگی تھی انہیں تباہ کیا گیا۔ اس سلسلے میں اگر ہم جائزہ لیں گے تو معلوم ہوگا کہ پوری دنیا میں بڑے منصوبوں، ان میں ڈیموں اور بیراجوں کی تعمیر ہو یا بڑے پیمانے پر آبپاشی نظام اور نکاس کا نظام ہو، ان تمام نے بڑے پیمانے پر تباہی پیدا کی ہے۔ ان بڑے منصوبوں نے اپنی جگہ پر اگر کوئی فائدہ دیا ہے تو نقصان بھی بہت زیادہ دیا ہے۔ بڑے منصوبوں کی وجہ سے انسانوں کی جو فطرت سے چھیڑ خانی رہی ہے، اس کی وجہ سے پانی کے قدرتی ذخائر کے ساتھ ساتھ بڑے پیمانے پر موسمیاتی تبدیلی ہو رہی ہے، جس کی وجہ سے فطرت کے توازن میں بگاڑ پیدا ہوگیا ہے، یہ تمام تباہیاں اور بربادیاں ترقی کے نام پر میگا منصوبوں کی وجہ سے ہو رہی ہیں، جو یہ ثابت کرتا ہے کہ بڑے منصوبے کسی بھی لحاظ سے فائدہ مند نہیں ہیں، لیکن اس کے باوجود بھی ہمارے حکمران، سیاستدان، ماہرین اور بیوروکریٹس عالمی مالیاتی اداروں، ملٹی نیشنل کمپنیوں اور کارپوریٹ سیکٹر سے مل کر بڑے منصوبے تشکیل دیکر انسانوں سمیت پوری زمین پر موجود تمام حیات کو تباہ و برباد کر رہے ہیں۔

اگر ہم مطالعہ کریں گے تو معلوم ہوگا کہ ترقی کے نام پر آج تک جو بھی بڑے منصوبے تشکیل دیئے گئے ہیں وہ کبھی بھی اس زمین پر آباد بڑی تعداد کو بنیادی طلب مہیا نہیں کرسکے ہیں۔ یو این کی رپورٹ کے مطابق آج بھی دنیا میں تقریباً ایک ارب لوگ انتہائی بھوک کی حالت میں رہتے ہیں، ایک ارب سے زائد لوگ اس دنیا میں پینے کے صاف پانی کے حق سے محروم ہیں، اس کے علاوہ 2.5 ارب لوگوں کو صفائی یا نکاس آب کی سہولت میسر نہیں۔ پوری دنیا میں روزانہ 10،000 سے 20،000 بچے خراب پانی کی وجہ سے مر رہے ہیں۔

کتنی حیرانی کی بات ہے کہ آج بھی اس دور میں جسے ترقی یافتہ دور کہا جاتا ہے اس میں بھی 2 ارب لوگ بجلی کی سہولت سے محروم ہیں، اس کے علاوہ پوری دنیا میں جتنی بھی اموات ہوتی ہیں ان کا آدھا قدرتی آفات کی وجہ سے ہوتا ہے۔ جبکہ اس دنیا کے ادارے اور جدید ٹیکنالوجی بھی لوگوں کی بنیادی ضروریات کو پورا کرنے کیلئے مشکلات سے دوچار ہیں۔ ماہرین نے اپنی رپورٹ میں یہ بھی انکشاف کیا ہے کہ آبادی میں اضافہ کی وجہ سے سال 2050ء میں مزید 1.3 سے 4.7 ارب لوگوں کو خوراک، پانی اور توانائی کی ضرورت ہوگی، اس کے علاوہ دنیا کی جو موجودہ آبادی ہے ان کی ضروریات کو پورا کرنے میں بھی متعدد ایکوسسٹم جواب دے رہے ہیں۔

میں بتانا چاہتا ہوں کہ اس وقت جو وایو منڈل نظر آرہا ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی کی وجہ سے غریب لوگوں اور دنیا کے تمام ایکوسسٹم کی غیر محفوظیت پر مزید دباؤ بڑھے گا، جس کی وجہ سے خشک سالی اور سیلاب میں مزید اضافہ ہوگا، جبکہ یہ اعداد و شمار واقعی مایوس کن ہیں، لیکن اس کے باوجود بھی امید کی گنجائش موجود ہے، پانی اور توانائی کی ناقص انتظام کاری کا عمل بہت زیادہ بڑھ رہا ہے، اسے تبدیل کرنے کیلئے ایک سیاسی اور بہتر معاشی منصوبہ بندی کی ضرورت ہے۔ اس کے علاوہ ایک نئی اور مناسب ٹیکنالوجی اور نئے طریقوں کو تلاش کرنے کی ضرورت ہے، جس سے چیزوں کو بہتر اور پائیدار طریقوں سے جوڑا جاسکتا ہے۔

یہ بات ذہن نشین کرنا لازمی ہے کہ کونسی وجہ ہے کہ اس دنیا میں بڑے پیمانے پر لوگوں کی بنیادی ضروریات پوری نہیں ہوتی، لیکن اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ مجموعی طور پر خوراک، پانی اور توانائی کی دستیابی کی قلت ہے، بلکہ مسئلہ منصفانہ تقسیم کا ہے۔

میرا بات کرنے کا خاص مقصد یہ ہے کہ پاکستان سمیت اس دنیا میں آج تک جو بھی بڑے پیمانے پر بڑے منصوبے تشکیل دیئے گئے ہیں ان منصوبوں کی وجہ سے وقتی فائدہ تو بہت زیادہ ہوا ہوگا لیکن طویل عرصے کے حوالے سے بڑے پیمانے پر قدرتی ذخائر کی ماحولیات اور انسانوں کو بڑے پیمانے پر تباہی اور نقصان کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ اس لئے اب وقت آ پہنچا ہے کہ ہم سوچیں کہ اب جتنے بڑے منصوبوں کی طرف بڑھیں گے اتنا ہی زیادہ نقصان اور تباہی ہوگی، اس لئے ضروری ہے کہ چھوٹے منصوبوں کو آگے بڑھائیں، جس کی بنیاد ماحولیات اور مشترکہ عوامی سطح پر ہو۔ آئیے مل کر ایسہ راستہ تلاش کریں جس سے پانی کے قدرتی ذخائر کو تباہی سے بچانے کیلئے بڑے سے بڑے اور نقصاندہ بڑے منصوبوں کو روکیں اور پانی کے چھوٹے منصوبوں کو آگے بڑھائیں جو ماحولیاتی بنیاد پر ہوں۔ اس صدی کو ڈیموں کی متبادل اور چھوٹے منصوبوں کی صدی بنانا ہوگا.

Check Also

آسٹریلیا نے پاکستان کو 0-5 سے وائٹ واش کردیا

محمد واحد آسٹریلیا نے پاکستان کو 0-5 سے وائٹ واش کردیا. ورلڈکپ سے قبل اہم …