جمعہ , مئی 24 2019
Home / ٹیکنالوجی / ڈرپ ایریگیشن سے بھی تھر میں کاشتکاری کی جا سکتی ہے

ڈرپ ایریگیشن سے بھی تھر میں کاشتکاری کی جا سکتی ہے

عمرکوٹ (رپورٹر) عمرکوٹ میں ہونے والی ایک تحقیقاتی نمائش اور کانفرنس کے شرکا نے بتایا ہے کی ڈرپ ایریگیشن کے ذریعے تھر میں زرعی کاشتکاری کی جا سکتی ہے.

پاکستان ایگریکلچر ریسرچ کاؤنسل کے ایرڈ زون ریسرچ انسٹیٹوٹ عمرکوٹ کی جانب سے غذائیت کی جنس اور قحط سالی صورتحال کے دوران صحرا تھر کے مالوند لوگوں کی جانب سے جانوروں کی ہونے والی ہجرت میں کمی کے متعلق ایک سیمینار منعقد کیا گیا ۔

اس موقع پرمہمان خاص ضلع کاؤنسل چیرمین ڈاکٹر سید نورعلی شاھ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اس زرعی سائینسی اور تحقیقاتی اداری نے بے شمار پروجیکٹ تیار کئے ہیں جس کی مدد سے اس خطے کے آبادگار اپنی زرعی اور معاشی ترقی کرنے میں کامیاب ہو سکتے ہیں.

انہوں نے مزید کہا کہ ڈرپ ایریگیشن کو بروئے کار لا کر کم مقدار پانی میں بھی تھر کے علائقہ میں زرعی پوکھائی کی جا سکتی ہے.

اس موقع پر اعزازی مہمان ڈپٹی کمشنر عمرکوٹ ندیم الرحمان میمن نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ایرڈ زون ریسرچ انسٹیٹوٹ عمرکوٹ کے پاس کئی وسائل موجود ہیں جس کی مدد سے اس خطے کی زرعی اور معاشی ترقی کے لیے اقدامات کرنے اور خصوصی طور پر مالوند لوگوں کو آگاہی دینے کی ضرورت ہے.

انہوں نے کہا کہ محکمہ زرعی و توسیع عملی اقدامات کرے اور ان پروجیکٹس کے بارے میں تمام آبادگاروں کو معلومات فراہم کرنے کے لیے بھرپور کردار دا کرے.

ایرڈ زون ریسرچ انسیٹیٹوٹ عمرکوٹ کے ڈائریکٹر عطا اللہ خان نے کہا کہ محکمہ کی جانب سے زرعی جنس اور خصوصی طور پر غذائی خوراک کی جنسوں پر تمام بڑی تحقیق اور ریسرچ کی گئی ہے. ہمارے پاس گوار ، باجر ،مونگ ، تل، مرچ اور دیگر جنسوں پر ریسرچ کرکے پروجیکسٹس تیار کئے گے ہیں جنہیں جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے استعمال کرتے ہوئے اس علائقے میں معاشی ترقی لائی جا سکتی ہے.

انہوں نے کہا کہ خصوصی طور پر صحرائے تھر میں قحط سالی کے دوران لوگ اپنے جانور سندھ کی زرعی زمینوں کی جانب لانا شروع ہو جاتے ہیں جس کی وجہ سے جانوروں کی خوراک اور نشونما پر کافی خراب اثرات پڑتے ہیں جس کی روکتھام کے لیے اس محکمہ نے ریسر چ کی ہے جس میں کچھ ایسے پروجیکٹ تیار کئے ہیں جن کی مدد سے اس خطے سے مالوند لوگ کم مقدار قیمت پر اپنے جانوروں کے لیے خوراک تیار کر سکتے ہیں.

سیمینار کے آخر میں آنے والے وفد اور مہمان خصوصی نے زرعی جنس اور خوراک کے اسٹال کا بھی معائنہ کیا ۔

سیمینار میں پاکستان ایگریکلچر ریسرچ کاؤنسل اسلام آباد کے ڈائریکٹر جنرل عاصم رحمان ، چیف سائینٹیسٹ ڈاکٹر طاہر، سائینسٹیسٹ ڈاکٹر قاضی، ڈاکٹر جاوید، ڈاکٹر پرویز اور کراچی یونیورسٹی کے زرعی شعبے کے طالب علموں حمزہ پراچا، مسعود پیرزادو، عائیشہ سندیش اور دیگر طالب علموں نے ایک وفد کی صورت میں شرکت کی ۔

Check Also

تھر کول پاور پراجیکٹ

تھر کول کی بجلی نیشنل گرڈ میں شامل

اسلام کوٹ: پاکستان کو بجلی کی بجلی کی فراہمی شروع کرتے ہوئے تھر کے کوئلے …