بدھ , اپریل 24 2019
Home / کالمز / آج کے کالمز / پینے کے صاف پانی کا حق اور عالمی قانون
اقوام متحدہ نے تسلیم کیا ہے کہ ہر انسان کو پینے کے صاف پانی کا حق حاصل ہے
اقوام متحدہ نے تسلیم کیا ہے کہ ہر انسان کو پینے کے صاف پانی کا حق حاصل ہے

پینے کے صاف پانی کا حق اور عالمی قانون

محمد علی شاہ

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے 28 جولائی 2010ء کو ایک تاریخی قرارداد منظور کرتے ہوئے یہ تسلیم کیا تھا کہ پینے کا صاف پانی اور صفائی ستھرائی انسانی حق ہے، کیونکہ ’’زندگی کے حق کا مکمل مزہ حاصل کرنے کیلئے پانی انتہائی ضروری ہے‘‘، اس موقع پر جنرل اسمبلی میں موجود اقوام متحدہ کے طاقتور ممبر ممالک بڑی تعداد میں قرارداد کی مخالفت میں ووٹ ڈالنے کیلئے جمع ہوگئے تھے۔ اقوام متحدہ کے بلیوین سفیر پیبلوسولون نے جنرل اسمبلی میں قرارداد پیش کرتے ہوئے جنرل اسمبلی کو یاد دہانی دلائی کہ انسانوں کا وجود تقریباً تین حصے پانی سے بنا ہوا ہے اور ہمارے جسم میں خون دریاؤں کی طرح بہاؤ بنا کر جسم میں غذا اور توانائی منتقل کرتا ہے اور انہوں نے کہا کہ پانی زندگی ہے، لیکن پھر پیبلو سولون نے ایک المناک صورتحال کو پیش کرتے ہوئے کہا کہ پوری دنیا میں صاف پانی کی قلت اور لوگوں کی اس تک رسائی نہ ہونے کی وجہ سے بڑی تعداد میں انسان اپنی زندگی گنوا رہے ہیں۔

 

 

 

انہوں نے ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے ایک مطالعہ کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا تھا کہ ترقی پذیر ممالک میں ہر تین سیکنڈ کے بعد ایک بچہ گندے پانی کے استعمال کی وجہ سے فوت ہو رہا ہے، پھر سولون نے خاموشی سے اجلاس میں اپنا ہاتھ مسلسل تین بار اٹھایا اور اپنی ایک انگلی آدھے سیکنڈ کیلئے اوپر اٹھائی اور اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں خاموشی چھا گئی۔ کچھ دیر کے بعد ووٹنگ شروع ہوئی اور بڑی تعداد اور جذبے کے ساتھ یہ تسلیم کیا کہ پانی اور صفائی انسانی حق ہے اور جنرل اسمبلی کا فلور خاموشی سے نروار ہوگیا۔

پوری دنیا میں پانی کو فروخت کرنے کا عنصر بنانے کے بڑھتے ہوئے رجحان نے ان لوگوں کو بڑے پیمانے پر پانی تک رسائی سے محروم کردیا ہے، جن لوگوں کے پاس پیسے نہیں ہیں اور غریب اوربے پہنچ ہیں۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ ورلڈ بینک کیسے غریب ممالک کو ان کے پانی کی خدمات کو نفع کی خاطر پرائیویٹ کر کے ٹھیکے پر دینے کیلئے آمادہ کر رہا ہے۔ غربت کی وجہ سے یہ عمل لاکھوں لوگوں کو مزاحمتی ہلچل چلانے پر مجبور کرتا ہے، دوسری طرف عالمی سطح پر بوتل واٹر کمپنیوں کے خلاف عوامی ہلچل ہو رہی ہیں، اس لئے کہ پانی کی ملٹی نیشنل کمپنیاں مقامی لوگوں کے پانی کے ذخائر کو استعمال کر کے کاروبار کر رہے ہیں۔ اکثر ممالک پانی کے کاروبار اور پانی کی مارکیٹ کو متعارف کرا رہے ہیں، جہاں پانی کے لائسنس پرائیویٹ پانی کمپنیوں کی ملکیت ہوتے ہیں، ان سب معاملات میں پانی ایک پرائیویٹ ملکیت بن چکا ہے۔ جن کے پاس وسائل موجود ہیں ان کو تو پانی تک رسائی حاصل ہے، لیکن جو غریب اور بے پہنچ ہیں اور ان کے پاس وسائل نہیں ہیں وہ پانی کی رسائی کے حق سے بالکل محروم ہیں۔

پوری دنیا میں چھوٹے آبادگار، کسان، ماہی گیر ، اس دھرتی کے اصل وارث اور غریب لوگ ان پرائیویٹ مفادات کے خلاف لڑنے میں خود کو لاچار اور کمزور سمجھتے ہیں۔ عالمی مالیاتی اداروں کے سہارے کی وجہ سے پانی کا کاروبار کرنے والی کمپنیوں کا عمل دخل بہت زیادہ عالمی بن چکا ہے۔ اس کے علاوہ یہ واضح ہوگیا ہے کہ ملک یا ریاست کا صرف اکیلا قانون شہریوں کی حفاظت کیلئے ناکافی ہے۔

البتہ پوری گلوبل ساؤتھ اور گلوبل نارتھ میں غریب برادریوں کی بڑھتی ہوئی تعداد جو غائب ہوئے پینے کے صاف پانی کی مہیائی کی رقم ادا نہیں کرسکتی وہ بیمار بھی ہو رہی ہے اور مر بھی رہی ہے، جیسا کہ ایمبسڈر سولون نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں رپورٹ پیش کرتے ہوئے کہا تھا کہ ہر سال 35 لاکھ لوگ گندے اور خراب پانی کے سبب پیدا ہونے والی بیماریوں میں مبتلا ہوکر اموات کا شکار ہو رہے ہیں۔ دنیا میں موجود ہسپتالوں میں 50 فیصد ہسپتالیں ان لوگوں سے بھری ہوئی ہیں جو گندے پانی کی وجہ سے بیماریوں میں مبتلا ہیں۔

یہ بھی حقیقت ہے کہ پوری دنیا میں ایک ارب سے زائد لوگ پینے کے صاف پانی سے محروم ہیں اور 2.6 ارب لوگ صفائی کی رسائی کے حق سے محروم ہیں، لیکن عورتوں اور بچوں کیلئے صورتحال بہت ہی زیادہ مشکل بن گئی ہے۔ اقوام متحدہ کی طرف سے 2006ء میں 177 ممالک میں ایک سروے کی گئی، معلوم ہوا کہ عورتیں ہر سال پانی کی تلاش میں 40 ارب گھنٹے گنواں دیتی ہیں، جس کی وجہ سے اپنی بچیوں کو اسکول سے دور رکھا جاتا ہے، ہر کیس میں اگر ان خاندانوں کے پاس پیسے ہوتے تو نہ ان کے بچے اموات کا شکار ہوتے اور اسکول بھی جاتے۔ پینے کے صاف پانی اور صفائی کی سہولت تک رسائی نہ ہونے کی وجہ سے دنیا کی آبادی کی بڑی تعداد متاثر ہو رہی ہے، جو موجودہ وقت کا بحث طلب اور ایک بڑا انسانی حقوق کا مسئلہ ہے۔ اس لئے پینے کے صاف پانی کے حق کو تسلیم کرنے کے بغیر ریاست یہ ذمہ داری اور پابندی پوری نہیں کریگی۔ اس لئے ضروری ہے کہ ریاست پانی کے حق کی قرارداد کو اختیار کر ے اورپینے کے پانی تک لوگوں کی رسائی کو یقینی بنائے۔

اس کے علاوہ مذکورہ قرارداد دنیا کے تمام ممالک اور عالمی اداروں سے مطالبہ کرتی ہے کہ پینے کے صاف پانی اور صفائی ستھرائی کے حق کو تسلیم کرتے ہوئے دنیا کے تمام ممالک خاص طور پر ترقی پذیر ممالک کی مالی امداد، ان کی صلاحیت میں اضافہ، ٹیکنالوجی کے عالمی تعاون کے ذریعے منتقل کی جائے تاکہ وہ اپنی کوششوں کو آگے بڑھا کر اپنے ممالک کے عوام کو پینے کے صاف پانی اور صفائی کے حصول تک کی رسائی کو یقینی بناسکیں۔ اس سلسلے میں مذکورہ قرارداد ہیومن رائیٹس کے اسپیشل رپورٹیئر کو بھی دعوت دیتی ہے کہ وہ ہر سال جنرل اسمبلی کو رپورٹ پیش کرے، جیسا کہ انسانی حقوق کی کونسل کی قرارداد میں واضح کیا گیا ہے کہ ہر ممبر ملک مناسب طریقہ کار اور میکنزم تیار کریگا، جس میں قانون سازی، پالیسی، تفصیلی پلان اور حکمت عملی شامل ہوں گے۔

ہر میمبر ملک سے یہ توقع کی جاتی ہے کہ جن بھی علاقوں میں اس وقت پینے کے صاف پانی کی سہولت میسر نہیں ہے ان کو مذکورہ سہولت مہیا کی جائیگی، حکومتیں منصوبہ بندی اور عملدرآمد کے عمل کو مکمل شفاف بنائے اور متعلقہ مقامی لوگوں و دیگر اسٹیک ہولڈر کے سرگرم، آزاد اور بامعنی شمولیت کو یقینی بنائیگی۔ جبکہ خلاصہ میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ پسماندہ اور غیر محفوظ لوگوں پر خاص طور پر توجہ دینے کی تاقید کی گئی ہے، ایسی شرکت بغیر تفریق اور صنف کی برابری کے اصول کو مان دیکر ریاست پانی کی سہولت کی دستیابی کو یقینی بنائے اور پینے کے صاف پانی کے حق کے عالمی قانون کا احترام کرے.

Check Also

ذولفقارعلی بھٹو ایک تاریخ ساز شخصیت

ذولفقارعلی بھٹو ایک تاریخ ساز شخصیت

ضحیٰ مرجان ذولفقارعلی بھٹو ایک تاریخ ساز شخصیت ہیں۔ پیپلز پارٹی کے جیالوں کی تاریخ …