بدھ , اپریل 24 2019
Home / کالمز / آج کے کالمز / پیشہ وارانہ صحافیوں کو درپیش چیلنجز اور ان کا حل

پیشہ وارانہ صحافیوں کو درپیش چیلنجز اور ان کا حل

خالد جمیل

پاکستان میں پیشہ وارانہ صحافیوں کو چار نوعیت کے چیلنجز درپیش ہیں،
1- قانونی و آئینی مسائل
2- مالی مسائل
3- انتطامی/ادارہ جاتی مسائل

1- قانونی و آئینی مسائل:
نجی شعبہ میں الیکٹرانک میڈیا کے قیام کو دو دہائیاں گزرنے کو ہیں اور تاحال ملک میں الیکٹرانک میڈیا کا کوئی سروس سٹرکچر یا قانون نہیں، پرنٹ میڈیا کا قانون موجود ہے مگر اس پر عملدرآمد نہیں ہورہا، حکومت ویج بورڈ کی بروقت تشکیل کرتی ہے نہ ویج ایوارڈ پر عملدرآمد کے لئے عدالتی ٹربیونل آئی ٹی این ای عمل کراسکا۔

پاکستان میں میڈیا مالکان کو بیک وقت اخبار اور ٹی وی چینلز کی ملکیت کا قانونی حق اور تحفظ دیا گیا ہے جس کے نتیجے میں پانچ چھ بڑے گروپوں نے مارکیٹ میں گٹھ جوڑ اور اجارہ داری قائم کرکے مصنوعی بحران پیدا کر رکھا ہے اور کارکنوں کی برطرفیوں، تنخواہوں کی عدم ادائیگی اور کٹوتیوں کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔

صحافیوں کے تحفظ سے متعلق قانون ہے نہ صحافتی اداروں میں حفاظتی تربیت کا انتظام ہے، یہی وجہ ہے کہ گزشتہ دو دہائیوں میں صحافیوں کے قتل کے حوالے سے پاکستان کا شمار انتہائی خطرناک ترین ممالک میں ہوتا ہے، صحافیوں کے قاتلوں کی گرفتاری اور سزاؤں کی شرح بھی انتہائی کم ہے۔

2- مالی مسائل:
میڈیا انڈسٹری گزشتہ تین برسوں میں 230 ارب روپے سے زیادہ مالیت کے اشتہارات وصول کرنے کے باوجود کارکنوں کو تنخواہیں اور مالی مراعات ادا نہیں کررہی، صحافیوں اور میڈیا کارکنوں کی مالی حالت بد سے بدتر جبکہ میڈیا مالکان کے اشتہارات کی شرح میں 10 سے 15 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

پانچ بڑے میڈیا گروپ مجموعی اشتہارات کا تقریباً نصف حصہ وصول کرتے ہیں اور یہی پانچ گروپ مسلسل برطرفیوں، کٹوتیوں اور مصنوعی بحران کا بھی سبب ہیں۔

3- انتطامی/ادارہ جاتی مسائل:
بیشتر میڈیا ہاوسز کے ملک کے بیشتر شہروں میں دفاتر ہی نہیں، چند بڑے اداروں کے بمشکل دس بڑے شہروں میں دفاتر ہیں، ان میں بھی بیشتر دفاتر بنیادی سہولیات سے محروم ہیں۔

صحافیوں اور میڈیا کارکنوں کی حفاظت یا سکیورٹی کا کوئی خاطر خواہ طریقہ کار، تربیت یا سہولت میسر نہیں، آلات و مشینری کی انشورنس کرائی جاتی ہے مگر صحافی کارکنوں کی نہیں۔ انسانی حقوق اور آئینی آزادیوں کا علم بلند کرنے والے ان اداروں میں کارکنوں کو سی بی اے یونینز کے قیام کی اجازت نہیں دی جاتی، جن چار پانچ اداروں میں یہ یونینز موجود بھی ہیں وہاں مالی مسائل اور برطرفیاں بھی زیادہ ہیں۔

صحافیوں اور میڈیا کارکنوں کو تقرر نامے دئیے جاتے ہیں نہ ملازمت کا کوئی تحفظ حاصل ہے کیونکہ ان اداروں کو تھرڈ پارٹی کنٹریکٹ یا ٹھیکہ داری نظام کے تحت چلایا جاتا ہے۔ میڈیا مالکان کی تنظیمیں اپنے سیاسی و مالی مفادات کے لئے متحد ہیں جبکہ بیس ہزار صحافیوں کی نمائندہ فیڈریشن کے دعویدار چھ گروپوں میں تقسیم ہیں۔ میڈیا کے اداروں میں صحافیوں کو انفرادی مسائل بھی درپیش ہیں، صحافی اور میڈیا کارکن خود کو جدید ٹیکنالوجی سے ہم آہنگ کررہے ہیں نہ تعلیم و تربیت کے ان معیارات کے حصول کے لئے دوران ملازمت تربیتی پروگرام ورکشاپس کا اہتمام کیا جاتا ہے۔

تجاویز:

1- الیکٹرانک میڈیا کے لئے سروس سٹرکچر کا قانون اور صحافیوں کے تحفظ و سلامتی کا قانون بنایا جائے۔

2- ویج بورڈ کی بروقت تشکیل اور اس پر عملدرآمد کو یقینی بنایا جائے۔

3- عملدرآمد ٹربیونل کے چاروں صوبائی ہیڈکوارٹرز میں بنچ تشکیل دئیے جائیں۔

4- میڈیا مالکان کے گٹھ جوڑ اور اجارہ داری کے خاتمہ کے لئے بیک وقت اخبار اور ٹی وی چینل کا قانون تبدیل کیا جائے۔

5- اشتہارات میں شفافیت کے لئے ماہانہ بنیادوں پر تمام تفصیلات سرکاری اور میڈیا ہاؤسز کی ویب سائٹس پر جاری کرنا لازمی قرار دیا جائے۔

6- میڈیا ہاوسز کے لئے آمدن، اخراجات، ٹیکس ادائیگی اور خالص منافع سے متعلق سہ ماہی رپورٹ کا اجرا لازمی قرار دیا جائے۔

7- میڈیا ہاؤسز میں محض ہڑتالوں یا مظاہروں کے لئے نہیں بلکہ اداروں کی تعمیر و ترقی کے لئے سی بی اے یونینز قائم کی جائیں۔

8- صحافیوں و کارکنوں کی حفاظت و سلامتی کے لئے سہولیات اور انشورنس لازمی قرار دی جائے۔

9- کیرئر گروتھ کے لئے سروس سٹرکچر اور دوران ملازمت تربیتی پروگرام شروع کئے جائیں۔

10- میڈیا ہاؤسز کو حاصل وہ تمام قانونی و مالی مراعات کو مندرجہ بالا اقدامات پر عملدرآمد سے مشروط کیا جائے۔

Check Also

تھر کول پاور پروجیکٹ کے تحت سستی ترین بجلی بنے گی

تھر کول پاور پروجیکٹ سے سستی ترین بجلی بنے گی

محمد واحد توانائی بحران سے نمٹنے والے منصوبے تھرکول پاور پروجیکٹ سے بجلی کی پیداوار …