جمعہ , مئی 24 2019
Home / اہم خبریں / پپو یار تنگ نہ کر “شاہراہوں کا شہنشاہ ٹرک”

پپو یار تنگ نہ کر “شاہراہوں کا شہنشاہ ٹرک”

تحریر:  ضحیٰ مرجان

جنگل کا بادشاہ شیر ببر ہے تو روڈ سڑکوں بالخصوص ہائ وے کا بلا شراکت غیرے شہنشاہ کا نام ہے “ٹرک”. آپ اسے زلزلہ کہیں قیامت کبریٰ یا پھر کچھ اور لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ ایک شاہکار ہے انسان کی بنائی ہوئی فخریہ اور عظیم پیش کش۔ اس کا آنا  چنگیز خان کی آمد اور جانا ہلاکو خان کی روانگی سے کم نہیں۔ ایک بار جن گزر گاہوں سے گزرتا ہے وہ راہیں اپنی ہستی کے نشان ڈھونڈتی رہتی ہیں۔

شاہین صفت ہے کہ اپنی روزی خود کماتا ہے بلکہ خوب کماتا ہے۔ وقت پرواز نگاہ آسمان پر رہتی ہے اس لئے اکثر حادثات کا شکار ہوتا رہتا ہے۔ لیکن اس بات کی کوئی پرواہ نہیں چونکہ ٹرک پیدا ہی ٹکرانے کے لئے ہوا ہے۔ حوصلہ اور ہمت قابلِ رشک کئی گدہوں کا بوجھ اٹھاتا ہے۔ پر آف نہی. خود اپنی ذات کو بچائیں ورنہ ٹرک کی کوئی ذمے داری نہیں۔ اس کی اس تیزی گویا موج بیکراں جو  سب کو اپنے ساتھ بہا لے جاتی ہے۔ ویسے تو زمانے میں اجل کے اور بھی ایجنٹ ہیں لیکن “ٹرک” عزرائیل کا نمائندہ خصوصی ہے۔ نازک ترین فرائض کی سرانجامی اس کے فنکار ہاتھوں میں ہے۔

مزاج میں بے نیازی انتہائی درجہ موجود ہے۔ اور کیوں نہ ہو خوبصورتی گر ہو تو نزاکت آ ہی جاتی ہے۔ بے نیازی کا عالم یہ کہ بعض اوقات ڈرائیور بھی بے نیاز ہوتا ہے۔ بریک تو صرف چند ایک ٹرک میں ہوتے ہیں۔ چونکہ بوقت ضرورت بریک اس کی شان کے خلاف ہے۔ من موجی سیلانی طبیعت کا مالک چلتا رہتا ہے۔  جب خراماں خراماں چلتے ہوئے مستی کی انتہاء پر منزل مقصود کی طرف رواں دواں ہو ایسے میں آپ اس کو رکنے کا کہیں اور بریک لگائیں تو یہ بات “حضور ٹرک” کے شایان شان نہیں اس گستاخی کی سزا بعض اوقات ڈرائیور کے ساتھ عام عوام کو بھی بھگتنی پڑتی ہے۔

“ٹرک” صرف روڈ سڑکوں یا ہائی وے کا شہنشاہ ہی نہیں بلکہ بہت سارے لوگوں کا پالنہار بھی ہے۔ اللہ نے اس کے ذمے امیر و غریب، پڑھے لکھے اور جاہل تمام تر لوگوں کے رزق کا زمہ لگایا ہے جس پر “ٹرک” نے لبیک کا نعرہ بلند کیا اور یہ ذمے داری بہ خوبی نبھا بھی رہاہے۔ کیسے؟ امیر طبقہ چاہے زمیندار ہو، ایکسپورٹرز ہوں، سبزی کے ڈیلر، پھلوں کے ڈیلر، اچھی لکڑی، زیرو میٹر موٹر سائیکل اور دیگر اشیاء خوردونوش و ضروریات کو ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کرنا “ٹرک” کی خدمات کے بغیر ناممکن ہے۔ اسی طرح بے ہنر لوگ اس پر سامان لوڈ کر کے اپنا روزگار کماتے ہیں تو ہنر مند اپنے فن کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس کو اس کے شایان شان دلہن جیسا سجاتے ہیں۔ سجاوٹ بھی ایسی کہ آنکھوں کو خیرہ کر دے دلوں کو موہ لے۔

اس پر لکھی گئی شاعری اور کنندہ کیے گئے الفاظ ہدایات اور بامعنی جملے جو “ٹرک” کی شان میں مزید اضافہ کرتے ہوئے چار چاند لگاتے ہیں کہ ہر باذوق شخص عش عش کر اٹھتا ہے۔ مثال کے طور پر “ہارن دے کر گزر جائیں ڈرائیور سو رہا ہے” ٹرک کے ساتھ رہتے رہتے ڈرائیور کی بے نیازی بھی قابل رشک ہوتی ہے۔ کلمہ پڑھ کر سڑک پر نکلیں شاید کہ یہ تیری زندگی کا آخری قدم ہو (رجوع الی اللہ کی ترغیب) فاصلہ نہ رکھیں پیار ہونے دیں۔ ( عشق کی تبلیغ) “قیامت آئے گی تو لوگ کدھر جائیں گے، ہم تو ڈرائیور ہیں، کٹ مار کے نکل جائیںگے(بلا کی بے نیازی)” اور ایسےہی بے شمار اشعار ہدایات تحریریں جو انسان کو سوچنے پر مجبور کر دیں۔

ہارن” اور “ٹرک” کا چولی دامن کا ساتھ ہے۔ ہر وقت بجتا ہے اور بعض اوقات بے وقت یا وقت گزر جانے کے بعد بھی بجتا ہے۔ دراصل یہ بانگ درا نہیں کوچ کا نقارہ ہے۔ ہارن کے بغیر ٹرک ناممکن ہے۔ ٹرک کا ہارن بھی اپنی ایک الگ پہچان رکھتا ہے کسی گاڑی کی اتنی مجال نہیں ہوئی کہ وہ گاڑیوں کے سردار “ٹرک” کی شان میں گستاخی کا مرتکب ہوتے ہوئے اس کے ہارن کو استعمال کرے۔

جن شاہراہوں پر ہارن بجانا ممنوع ہوتا ہے وہاں یہ شریر خود بخود بج اٹھتا ہے۔ آخر کو ٹرک ایک آزاد ملک میں رہتا ہے جہاں اس کو اظہار کی آزادی کے پورا حق حاصل ہے۔ جب قوم کو اپنی مرضی سے آزادانہ زندگی گزارنے کی اجازت ہے تو ٹرک بھلا کیوں کر غلامانہ سوچ اپناتے ہوئے کسی کی ماتحتی میں، کسی کی ہدایات پر عمل کرتے ہوئے چلے آخر کو وہ ہے تو سیلانی طبیعت کا مالک بحر بیکراں ہے۔

پشاورسے کراچی گھنٹوں میں سفر طے کرتا ہے مگر پھر بھی اصول ہے کہ “20 میل فی گھنٹہ”

نوشہروفیروز سے تعلق رکھنے والے ٹرک ڈرائیور پیر بخش عرف بابری سےٹرک کے حوالے سے جب بات کی تو انہوں نے کہا کہ ٹرک چلانا عام گاڑی چلانے سے بلکل مختلف ہے۔ یہ ایک چیلنج ہوتا ہے۔ جس میں جان کا خطرہ بھی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ وہ پہلے کسی اور کا ٹرک چلاتے تھے لیکن اب اپنا خریدا ہے جس کی سجاوٹ میں ڈھائی لاکھ خرچ آیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب زیرو میٹر ٹرک خریدا جاتا ہے تو وہ بلکل سادہ ہوتا ہے پھر اپنے ذوق کے مطابق مالکان اس کو سجاتے سنوارتے ہیں۔ ٹرک کی سجاوٹ کے حوالے سے انہوں نے مزید کہا کہ اس کی ایک جھالر پانچ ہزار روپے کی بنتی ہے۔ ٹرک ڈرائیوری کرنے والے ڈرائیور کا مزاج عام ڈرائیور سے مختلف ہوتا ہے۔ اور یہ ڈرائیوری مجبورا کرتے ہیں۔ ہم اپنے گھروں سے دور رہتے ہیں ہماری زندگی کا ایک بڑا حصہ سڑکوں پر گزرتا ہے۔ اور یہ شاعری جو ہمارے ٹرکوں پر لکھی جاتی ہے یہ بھی ہمارے منفرد ہونے کا پتہ دیتی ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ٹرک ہمارے لئے کسی محبوبہ سے کم نہیں یہ ہی وجہ ہے کہ ہم اس کو بہت سجاتے اور اپنے دل کی بات شاعری میں اس پر لکھتے ہیں۔

یہ مخلوق “ٹرک” بے ہنگم ضرور ہے مگر اس وحشت میں بھی ایک انداز دلربائی ہے۔ اس پری پیکر(درندہ صفت پری پیکر) کے ڈھنگ نرالے آن بان انوکھی۔ آپ نے اکثر ٹرک کو دولہا کی طرح سجاہوا، رنگین قمقموں سے مزین، پھولوں کی حسین رنگوں کا مرقع و مجمع اور رنگین شیشوں سے آراستہ پیراستہ دیکھا ہو گا۔ آج تک بے آواز ٹرک نہ کسی نے دیکھا ہوگا اور نہ ہی سنا ہو گا۔ اس کا انگ انگ نغمہ سرا رہتا ہے۔ یہ نغمہ کوئی معمولی نغمہ نہیں پکا راگ ہوتا ہے۔ یہ تمام سر ایک ساتھ مل کر دیپک راگ کو جنم دیتے ہیں اور یہ عظیم موسیقار اپنی ہی آگ میں جل کر خاکستر ہو جاتا ہے۔

Check Also

ڈیم

ڈیموں کی متبادل اور چھوٹے منصوبوں کی صدی

محمد علی شاہ یہ ڈیموں کی متبادل اور چھوٹے منصوبوں کی صدی ہے. اگر ہم …

2 comments

  1. بہت ہی عمدہ تحریر!
    الفاظ اور جملوں کی سجاوٹ کا جواب نہیں۔