جمعہ , مئی 24 2019
Home / اہم خبریں / پاکستان کے متحرک ترین رہنما؛ ذوالفقار علی بھٹو

پاکستان کے متحرک ترین رہنما؛ ذوالفقار علی بھٹو

شاھد شاہ

اگر بھٹو کو پاکستان کا متحرک ترین رہنما کہا جائے تو غلط نہ ہو گا۔ ہر سال کی طرح اس سال بھی آج کے دن 5 جنوری کو ذوالفقار علی بھٹو کی سالگرہ منائی جا رہی ہے۔ وہ 1928 میں سر شاہ نواز بھٹو کے گھر المرتضیٰ میں پیدا ہوئے۔ آج ان کی 91 سالگرہ منائی جا رہی ہے۔

پاکستان میں دو طرح کے لوگ یا اگر یوں کہا جائے کہ دو طرح کے مکتبہ فکر پائے جاتے ہیں تو غلط نہ ہوگا۔ ایک تو وہ لوگ ہیں کہ جو ذوالفقار علی بھٹو کو عقیدت کی انتہاء تک چاہتے ہیں۔ دوسرا وہ گروہ ہے کہ جن کے جذبات پہلے گروہ سے بلکل متضاد ہیں یہ وہ لوگ ہیں کہ جو اتنی ہی شدت سے ان کے افکار و خیالات کے ساتھ ان کے فیصلوں کی مخالفت کرتے ہیں۔

لیکن میرے خیال میں جناب ذوالفقار علی بھٹو ناں صرف اپنے دور بلکہ پاکستان کی تاریخ میں سب سے زیادہ متحرک سیاسی رہنما تھے۔ پاکستان کی آزادی کے بعد بابائے قوم قائد اعظم محمد علی جناح کو پاکستان کو ترقی کی شاہراہ پر لانے کے لئے بہت کم وقت ملا۔ اس کے ساتھ ذوالفقار علی بھٹو کو بھی انتہائی کم عرصہ ملا اس قلیل میعاد میں انہوں نے بہت سارے جراتمندانہ فیصلے کیے۔ بالا تر اس سے کہ ان فیصلوں کی مخالفت کی گئی یا انہیں سراہا گیا، ان فیصلوں نے پاکستان میں ایک تاریخ رقم کی۔

ان کی سیاست یا یوں کہیے کہ ان کے افکار کے حق میں اور خلاف بہت کچھ لکھا گیا ہے لیکن میں یہاں ان کے متنازع فیصلوں کے حوالے سے اپنا موقف دونگا۔

مشرقی پاکستان کا الگ ہونا

1971 میں تاریخ پاکستان کا سب سے زیادہ افسوس ناک واقعہ (ڈھاکہ فال) کی صورت میں سامنے آیا اور بنگلہ دیش وجود میں آیا۔ پاکستان ٹوٹنے کا الزام بھٹو پر لگایا گیا اور تاحال یہ الزام بھٹو پر ہی لگایا جاتا ہے لیکن اس علیحدگی کو اور ان عوامل کو سمجھنے کے لئے ہمیں تھوڑا تاریخی پس منظر جاننا ضروری ہے۔ مشرقی پاکستان کے لوگ 1948 سے ہی ہم سے خائف ہونے لگے تھے اور تاریخ جاننے والے لوگوں کے آگے صورتحال واضح ہو گئی تھی.

ذوالفقار علی بھٹو مغربی پاکستان واحد سیاسی رہنما تھا کہ جو اس وقت کے بگڑے ہوئے حالات کو کنٹرول کرسکتا تھا، انہوں نے کنٹرول کیا بھی اور وطن عزیز کو مزید توڑ پھوڑ (یا خانہ جنگی) کی کیفیت سے بچایا۔

ہمیں ذوالفقار علی بھٹو کی بھارت کی وزیر اعظم اندرا گاندھی کے ساتھ ہونے والے مکالمے کو بھی یاد رکھنا چاہیے۔ ان کے پرانے ساتھی سید قمر الزماں شاہ نے مجھے ایک دفعہ کہا تھا کہ یک دفعہ دوران پرواز ذوالفقار علی بھٹو نے انہیں شملہ معاہدے کا ڈرافٹ دکھایا تھا۔ جس پر بعد میں دو سیاسی رہنماؤں کے دستخط ہوئے. بھٹو کے پہلے سے تیار کردہ مسودے پر اندرا گاندھی کے دستخط سے پتہ چلتا ہے کہ وہ کس قدر حوصلہ رکھتے تھے۔

صنعتوں کو قومی دھارے میں شامل کرنے یا اداروں کے قومیانے کا عمل

صنعتوں کو قومی دھارے میں شامل کرنے پر بھٹو کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا لیکن اگر ہم اس وقت کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیں اور 22 خاندانوں کی کہانیاں پڑہیں تو پتہ چلتا ہے کہ دولت ایک جگہ اکٹھی ہو رہی تھی پھر ہم اس بات کو درست تناظر میں سمجھ سکتے ہیں کہ ذوالفقار علی بھٹو کا یہ قدم وقت کی ضرورت تھا اور مختلف حلقوں سے مطالبہ کیا جا رہا تھا کہ دولت کے ایک جگہ منجمند ہونے کو روکا جائے۔ یہ فہرست مشہور زمانہ ماہر معاشیات جناب محبوب الحق نے تیار کی تھی۔ بھٹو عوامی لیڈر تھے اور غریبوں، کسانوں، ہاریوں، مزدوروں کے رہنما ہونے کی حیثیت یہ انتہائی قدم اٹھایا۔ کچھ وقت بعد یہ قدم خطرناک ثابت ہوا. اس طرح کے نتائج بھٹو کی وجہ سے نہیں بلکہ مسلسل نااہل حکمرانوں کی وجہ سے آئے جو نہ تو خود ہی قومیانہ اداروں کو چلانے کی صلاحیت رکھتے تھے اور نہ ہی اس بات کی اجازت ہی دے رہے تھے کہ ان کو چلایا جائے۔

کوٹہ سسٹم

دلچسپ امر یہ ہے کہ ناقدین انہیں دیہی اور شہری علاقوں میں بسنے والے لوگوں کے مابین کوٹہ سسٹم نافذ کرنے پر بھی کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہیں۔ ایک ایسا فیصلہ کہ جس پر کھلے دل سے معترف ہونا چاہیے تھا۔ مفاد پرست اور استحصال کرنے والے سیاستدانوں نے اس فیصلے کو غلط رنگ دیا اور بھٹو کے اس فیصلے کو انتہائی برے طریقے سے عوام کے سامنے پیش کیا گیا۔ جس سے لوگوں کے دلوں میں نفرت کے بیج بوئے گئے۔ بالخصوص سندھ کے شہری اور دیھی علاقوں کو نشانہ بنایا گیا۔

1947 میں وجود پاکستان کے بعد سندھ وہ خطہ ارض ہے کہ جہاں کے لوگوں نے کھلے دل سے مہاجر بھائیوں کو خوش آمدید کہا، جن کی بڑی تعداد شہری علاقوں میں آکر بسی جو کہ اس وقت بھی تعلیمی اداروں کا حب تھے۔

مجھے یاد ہے کہ آج سے گیارہ سال پہلے 2007 میں میں نے the news میں ایک تحقیقاتی رپورٹ پر کام کیا تھا کہ جس سے یہ اجاگر ہوا تھا کہ پاکستان کے وجود میں آنے کے 60 سال بعد بھی صوبے سندھ کے دیھی اور شہری علاقوں کے تعلیمی اداروں کے معیار اور ان اداروں کی تعداد میں موازنہ کرنا سورج کو چراغ دکھانے کی مثل ہے۔ قصہ مختصر یہ کہ ایک ہی صوبے میں رہتے ہوئے دو نظام دیھی اور شہری کا کوئی موازنہ ہے ہی نہیں۔ جبکہ دیھی علاقوں میں غربت کی شرح شہری علاقوں سے کئی گنا زیادہ ہے۔ اس صورتحال میں معیاری تعلیم کے حصول پر ایک بہت بڑا سوالیہ نشان ہوتا ہے۔ ایسے میں کوٹہ سسٹم کے تحت مقامی لوگوں کو برابری فراہمی کرتا ہے جو کہ پسماندہ زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ پاکستان میں برابری کی بنیاد پرہی نہیں منصفانہ بنیادوں پر تقسیم کی ضرورت ہے کہ جس سے نظر انداز کیے گئے لوگوں کو بہتر مواقع فراہم کیے جاسکیں۔

ہمارا ملک دن بدن سیاسی بحران کا شکار ہوتا جارہا ہے، اس صورتحال میں ہمیں جناح کی سیاسی فلاسفی پر نظر ثانی کی ضرورت ہے۔ یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ ذوالفقار علی بھٹو اور ان کی صاحبزادی دختر مشرق شہید محترمہ بینظیر بھٹو نے وطن عزیز کو برے وقت میں ناں صرف سنبھالا بلکہ از سر نو تعمیر کر کے ترقی کی راہ پر گامزن بھی کیا۔ تو وہ لوگ جو کہتے ہیں کہ تقسیم کرو اور حکمرانی کرو کے فلسفے پر عمل کرتے ہیں انہیں ‘اب بس’ کہنے کی ضرورت ہے.

Check Also

ڈیم

ڈیموں کی متبادل اور چھوٹے منصوبوں کی صدی

محمد علی شاہ یہ ڈیموں کی متبادل اور چھوٹے منصوبوں کی صدی ہے. اگر ہم …

One comment

  1. ملکی اہم سیاسی شخصیت بھٹو کے بارے میں بہت ہی خوبصورت تحریر