بدھ , اپریل 24 2019
Home / اہم خبریں / پاکستان کو کپاس کی 45 لاکھ گانٹھیں درآمد کرنے کی ضرورت

پاکستان کو کپاس کی 45 لاکھ گانٹھیں درآمد کرنے کی ضرورت

کراچی (اسٹاف رپورٹر) کراچی کاٹن بروکرز فورم نے کہا ہے کہ کپاس کی پیداوار بڑھانے کیلئے حکومت کو چاہئے کہ جنگی بنیادوں پر اقدام کرے، کیونکہ ملک کو 40 سے 45 لاکھ گانٹھیں درآمد کرنی پڑتی ہیں جس سے ملک کی معیشت ابتر ہورہی ہے.

کراچی کاٹن بروکرز فورم نے 6 دسمبر کو بروکرز کمیٹی روم میں اجلاس منعقد کیا، جس سے خطاب کرتے ہوئے چئیرمین نسیم عثمان نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ ملک میں روئی کی پیداوار گزشتہ کئی سالوں سے انحطاط کا شکار ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کے وجود کے وقت ملک میں روئی کی پیداوار دس تا 20 لاکھ گانٹھوں کی ہوتی تھی جو 16-2015 میں بڑھ کر ایک کروڑ 48 لاکھ گانٹھیں ہوگئی تھی لیکن اس کے بعد کپاس کی پیداوار میں مسلسل کمی واقع ہورہی ہے جو تشویش کا باعث ہے کیوں کہ اس وقت ملک کی کپاس کی کھپت بڑھ کر تقریبا ایک کروڑ 45 تا 50 لاکھ گانٹھوں کی ہے۔

کپاس کی پیداوار بمشکل ایک کروڑ 10 لاکھ گانٹھوں کے برابر ہوتی ہے جبکہ اس سال تو مزید کم ہوکر تقریبا ایک کروڑ 5 لاکھ گانٹھوں کی ہوسکے گی جو گزشتہ سال کے نسبت 10 لاکھ گانٹھیں کم ہے.

ملک کی ضرورت پوری کرنے کیلئے بیرون ممالک سے روئی کی تقریبا 40 تا 45 لاکھ گانٹھیں درآمد کرنی پڑیں گی۔

نسیم عثمان نے حکومت سے استدعا کی ہے کہ کپاس کی پیداوار بڑھانے کیلئے جنگی بنیادوں پر اقدام کئے جائیں جس کی وجہ سے اس وقت ملک کی معاشی حالات بحرانی کیفیت میں ہے. حکومت کو چاہئے کہ روئی کی پیداوار بڑھائی جائے اچھی کوالٹی کی روئی پیدا کی جاۓ زیادہ پیداوار دینے والے بیج متعارف کئے جائیں کیوں کہ اس وقت بیج کے مافیا زوروں پر ہے آعلیٰ قسم کے بیج اور دواؤں کی کمی ہے.

پانی کی فراوانی کا بندوبست کیا جائے، بڑے کاشتکار چوٹھے کاشتکاروں کا پانی روکتے ہیں اور وارابندی میں بھی نا انصافی کی جاتی ہے اسے دور کرنا چاہئے علاوہ ازیں کپاس کے کاشتکاروں کو مراعات دی جائے تا کہ وہ معیاری کپاس کی پیداوار بڑھانے میں زیادہ دلچسپی لے سکیں۔

Check Also

ذولفقارعلی بھٹو ایک تاریخ ساز شخصیت

ذولفقارعلی بھٹو ایک تاریخ ساز شخصیت

ضحیٰ مرجان ذولفقارعلی بھٹو ایک تاریخ ساز شخصیت ہیں۔ پیپلز پارٹی کے جیالوں کی تاریخ …