بدھ , اپریل 24 2019
Home / بین الاقوامی / پاکستان میں اسلامی بینکاری کا بڑھتا رجحان

پاکستان میں اسلامی بینکاری کا بڑھتا رجحان

محمد واحد

اسلامی بینکاری صرف اسلامی ممالک میں نہیں بلکہ ساری دنیا میں تیزی سے ترقی کررہی ہے جس کی وجہ ’’بینکاری کے صحیح طریقہ کار‘‘ (Right type of Banking) کا ہونا ہے۔ اسلامی بینکاری غیرسودی بینکاری ہے اور اس میں ہر اُس قسم کی تجارت اور معاملات کی پابندی ہے جو شرعاً ناجائز ہوں۔

اسلامی بینکاری شریعت کے اصولوں کے مطابق کی جاتی ہے اور جب تک Asset Generate نہیں ہوتا فنانسنگ ٹرانزیکشن نہیں ہوسکتی۔ شرعیہ اصولوں پر مبنی سرمایہ کاری کے لیے اسلامک بینکنگ میں تجارتی اور بینکاری کے طریقے متعارف کرائے گئے جو تیزی سے مقبولیت اور وسعت اختیار کررہے ہیں۔

اسلامک بینکاری روایتی بینکنگ (کنونشنل بینکنگ) سے بالکل الگ ہے۔ اسلامی بینکنگ کا لائسنس الگ، شرعیہ بورڈ الگ، قوانین الگ، شرعیہ آڈٹ الگ اور فنانشنل آڈٹ الگ ہوتا ہے۔ دنیا میں تقریباً 100 ممالک میں اسلامک بینکنگ ہورہی ہے۔ ایران، سوڈان 100 فیصد اسلامک بینکنگ کا دعویٰ کرتے ہیں۔ انہوں نے اپنی فقہ کے مطابق پورا بینکاری نظام اسلامک بینکنگ میں تبدیل کردیا ہے۔ پاکستان میں اس وقت کل بینکنگ حجم کا 15 فیصد اسلامک بینکنگ ہے۔

ربع صدی قبل پاکستان میں مالیاتی نظام کو شریعت کے دائرے میں لانے کے لیے علماء اور ایسے حضرات جو دینی و دنیاوی علوم پر دسترس رکھتے تھے، سرجوڑ کر بیٹھے اور انہوں نے اسلامک بینکنگ کے حوالے سے متعدد تجاویز پیش کیں جو سودی بینکاری کا متبادل بن سکتی تھیں۔ تاہم یہ تجاویز عملی جامہ نہ پہن سکیں۔ 90 کے عشرے میں سپریم کورٹ نے اپنے تاریخی فیصلے میں اسلامی بینکنگ کے عملی اقدامات کی شکل متعین کردی۔

پاکستان میں اسلامی بینکاری کا نیٹ ورک 21 اسلامک بینکنگ انسٹی ٹیوشنز، 5 مکمل اسلامی بینکوں اور 16 روایتی بینکوں کی اسلامی بینکنگ برانچز پر مشتمل ہے۔ پاکستان میں اسلامی تجارتی بینکنگ (Islamic Commercial banking) کا صحیح معنوں میں آغاز 2002 میں ہوا۔ میزان بینک ملک کا پہلا اسلامی بینک ہے جس کو اسٹیٹ بینک نے کمرشل بینکنگ کا لائسنس دیا۔ اس طرح دیکھا جائے تو پاکستان میں اسلامک کمرشل بینکنگ کو 17 سال ہوچکے ہیں۔

میزان بینک کے بعد دیگر بینکوں کو بھی اسلامک کمرشل بینکنگ کے لائسنز دیے گئے جبکہ کچھ روایتی بینکوں کو بھی اسلامک بینکنگ کی اجازت دی گئی۔ اس وقت اسلامک بینکنگ کے تین ماڈلز چل رہے ہیں۔ ایک مکمل اسلامی بینک ہیں۔ دوسرے روایتی بینکوں میں اسلامک بینکنگ کے ونڈوز برانچز، جو بالکل علیحدہ ہیں۔ تیسرے ایسے کنونشنل بینک جن کے اسلامی بینک بھی ہیں۔

اسلامک فنانس بھی ایک بزنس ہے اور اسے ایک ایسے کاروبار کے طور پر کیا جاتا ہے جس میں اسلامی اصولوں کو مدنظر رکھا جاتا ہے۔ اسلامک فنانس میں کسٹمر کا رسک کم اور اسلامی بینک کا زیادہ ہوتا ہے۔ عموماً جس کام میں رسک زیادہ ہو اس میں نفع بھی زیادہ ہوتا ہے، لیکن اسلامک بینک زیادھ رسک ہونے کے باوجود مارکیٹ کے حساب سے نفع لیتے ہیں جو نہ بہت زیادہ ہوتا ہے اور نہ ہی بہت کم۔ اسلامک بینکنگ کنونشنل بینکنگ سے الگ ہے اور اس بات کو اسٹیٹ بینک نے بھی تسلیم کیا ہے۔

کاروبار یا تجارت کرنے کے لیے اسلامی بینکنگ کے بہت سے موڈز ہیں، جن میں مضاربہ، مشارقہ، مرابحہ، اجارہ، سَلَم اور استثنیٰ اہم ہیں۔

مضاربہ
ربا (سود) سے پاک اسلامی بینکاری میں مضاربہ (نفع و نقصان میں شراکت) کو بڑی اہمیت حاصل ہے۔ کاروبار میں شراکت داری کی تعریف تو یہ ہے کہ دو پارٹنر ہوں اور دونوں سرمایہ لگائیں، لیکن مضاربہ شراکت داری میں ایک پارٹنر سرمایہ لگاتا ہے اور دوسرا کام کرتا ہے۔ جو سرمایہ لگاتا ہے وہ ’’رب المال‘‘ کہلاتا ہے اور جو کام کرتا ہے وہ ’’مضارب‘‘ ہوتا ہے۔ اسلامی بینکنگ میں کسٹمر سرمایہ لگاتا ہے اس لیے وہ رب المال ہوتا ہے۔ بینک کیونکہ سرمایہ نہیں لگاتا بلکہ کام کرتا ہے اس لیے وہ مضارب ہوتا ہے۔ مضاربہ میں صارف بینک کو پیسے دیتا ہے کہ میرے پیسے سے کاروبار کریں اور اُس کاروبار سے جو منافع آئے گا وہ آپس میں بانٹ لیں گے۔

اسلامک بینک میں جو ڈپازٹ ہوتے ہیں اس کا ایک پول بنتا ہے اور اس پول سے مضاربہ کے لیے اثاثے (Assets) خریدتے جاتے ہیں۔ ہر ماہ پول کے منافع یا نقصان کا جائزہ لیا جاتا ہے اور اُس پول کو جتنا منافع ہوتا ہے اُسے پرافٹ شیئرنگ تناسب کے حساب سے ڈپازٹرز میں تقسیم کردیا جاتا ہے، جس کے لیے پورا ایک نظام ہوتا ہے جو اسلامی اصولوں کے عین مطابق ہوتا ہے۔ اسلامک بینکنگ میں ڈپازٹ کو صرف ایک پول میں لگایا جاتا ہے اور اس کا منافع بھی صرف اسی پول کے ڈپازٹرز کو دیا جاتا ہے۔

مشارقہ
مشترکہ منصوبے (جوائنٹ وینچر) کو مشارقہ کہتے ہیں۔ مشارقہ اثاثوں اور طویل مدتی منصوبوں کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ کسٹمر اور بینک پراپرٹی، سامان یا تجارتی انٹرپرائز کی ملکیت میں شراکت کرتے ہیں اور اس سے جو منافع حاصل ہوتا ہے وہ دونوں میں تقسیم ہوجاتا ہے۔ ہاؤس فنانسنگ ڈمنیشن مشارقہ ہے۔

مشارقہ دو اقسام کی ہوتی ہے۔ ایک قسم پارٹنر شپ ہوتی ہے۔ مثال کے طور پر آپ کے پاس 5 لاکھ اور آپ کے بھائی کے پاس 5 لاکھ روپے ہیں۔ دونوں ملا کر کوئی کاروبار کرتے ہیں تو یہ ہے پارٹنر شپ یا شراکت داری ہے، اس کو ’’شرکت العقد‘‘ کہتے ہیں۔ یہ مشارقہ کا بزنس اورکمرشل موڈ ہے۔ ایک مشارقہ ہے کہ آپ نے کہا کہ ہمیں گھر کے لیے ایک گاڑی خریدنی ہے۔ آپ نے اورآپ کے بھائی نے 10، 10 لاکھ روپے ملا کر گاڑی خریدی۔ یہ بزنس نہیں ہے نہ ہی گاڑی کو کمرشل استعمال کے لیے خریدا گیا ہے لیکن یہ گاڑی پارٹنر شپ میں خریدی گئی ہے تو یہ مشارقہ کی دوسری قسم ہے جسے ’’شرکت المعید‘‘ کہتے ہیں۔ یہ جوائنٹ اونر شپ مشارقہ ہے۔ یعنی کسی اثاثے میں مشترکہ طور پر مالکانہ حقوق۔ ہاؤس فنانسنگ شرکت المعید ہے۔ یعنی اس میں دو پارٹنرز نے مل کر گھر خرید لیا۔ ان میں ایک پارٹنر نے دوسرے سے کہا کہ میں تمہیں اپنا حصہ کرایہ پر دے رہا ہوں۔ تو اس میں کرایہ داری بھی اور مشترکہ ملکیت بھی۔

مرابحہ
لاگت پلس منافع کو مرابحہ کہتے ہیں۔ یہ سیل ٹرانزیکشن ہے۔ کوئی چیز بیچی جائے اور اس کا منافع بتادیا جائے تو اُسے مرابحہ کہتے ہیں۔ کسی کسٹمر کو فنانسنگ چاہیے تو اسلامی بینک دیکھتا ہے کہ وہ کیا خرید رہا ہے۔ مثال کے طور پر وہ کسٹمر کاٹن خریدنا چاہتا ہے تو اسلامی بینک خود کپاس خریدتا ہے اور منافع رکھ کر کسٹمر کو بیچ دیتا ہے۔ اس طرح کسٹمر کو فنانسنگ مل جاتی ہے اور وہ منافع جو کسٹمر کہیں اور دیتا وہ اسلامی بینک کو مل جاتا ہے۔ مرابحہ کو سادہ لفظوں میں فروخت کہا جاتا ہے۔ مثال کے طور پر ایک موبائل ہے، جسے آپ کے دوست نے 10 ہزار روپے میں خریدا اور آپ سے کہا کہ میں نے یہ 10 ہزار روپے میں خریدا ہے اور اسے تمہیں 11 ہزار روپے میں فروخت کروں گا۔ اس پر میں ایک ہزار روپے نفع لے رہا ہوں اور تم 6 ماہ بعد مجھے پیسے دے دینا۔ یہ ہے مرابحہ۔

اگر آپ کا دوست آپ کو نفع نہ بتائے تو یہ نارمل فروخت ہوگی جو عام طور پر ہوتی ہے کہ دکاندار آپ کو اپنا نفع نہیں بتاتا اور نہ ہی شرعاً اس پر کوئی پابندی ہے کہ وہ اپنا نفع بتائے۔ اس کی مرضی ہے نہ بتائے۔

عام سیل اور مرابحہ سیل میں فرق یہ ہے کہ مرابحہ سیل میں خریدار کو حق حاصل ہے کہ وہ مالک سے پوچھ سکے کہ تم نے کتنے کا خریدا اور اس پر کتنا نفع لے رہے ہوا۔ مرابحہ سیل میں منافع بتانا ضروری ہے۔ مرابحہ میں ادائیگی یکمشت بھی کی جاسکتی ہے اور قسطوں میں بھی، مگر دونوں صورتوں میں منافع بتانا لازمی ہے۔

اجارہ
کرایہ یا لیزنگ کو اجارہ کہتے ہیں۔ اسلامی بینک کوئی چیز خریدتا ہے اور اسے کسٹمر کو کرائے پر دے دیتا ہے۔ مثلاً کسی نے گھر خریدا یا کار خریدی اور اس کو کرائے پر دے دیا۔ کار فنانسنگ اجارہ موڈ ہے۔ یہ صرف اسلامی بینکنگ میں نہیں بلکہ عام طور پر کار فنانسنگ یا گھر کو کرایہ پر دینا اجارہ لیزنگ ہی ہوتی ہے۔ مثلاً آپ کا دو منزلہ گھر ہے، نیچے آپ رہ رہے ہیں، اوپر خالی ہے۔ آپ اوپر کی منزل کرائے پر دے دیں تو یہ اجارہ ہے۔ اجارہ کی تعریف ان الفاظ بھی کی جاسکتی ہے کہ کسی اثاثے کا مالک اپنے اثاثے کو کسی کو استعمال کرنے کے لیے دے دے اور اس پر کرایہ وصول کرے۔

سَلَم
سَلَم یا بیع سَلَم زراعت (ایگری کلچر) کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ اس کو زرعی معاہدہ بھی کہتے ہیں۔ حضور ﷺ نے اس کی اجازت دی ہے۔ جب سود منع ہوا تو جو صحابہ کرامؓ زراعت سے وابستہ تھے وہ آپ ﷺ کے پاس آئے اور کہا کہ ہم تو پہلے سود پر قرض لیتے تھے، اب کیا کریں؟ ہماری فصل تو 6 ماہ بعد تیار ہوتی ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ تم ’’سَلَم‘‘ کرو۔ صحابہؓ نے پوچھا یہ کیا ہوتا ہے؟ حضور ﷺ نے فرمایا: تم اپنے کھجور کے باغ، گندم یا چاول کے کھیت وغیرہ کا کسی سے آج سودا کرلو اور اس کے عوض ایک ہزار، دو ہزار یا پانچ ہزار درہم لے لو کہ 6 ماہ بعد 100کلو یا 200 کلو گندم، چاول یا سیب دوں گا۔

سَلَم میں بارہ شرائط ہیں اور ان میں سے ایک یہ بھی ہے کہ لازمی نہیں کہ اپنے ہی باغ سے سیب یا اپنے ہی کھیت سے گندم یا چاول دیا جائے بلکہ کہیں سے بھی اسی معیار کا گندم، چاول یا سیب دینا ہوں گے۔ اگر کسی نے آم کے باغ پر پیسے لیے اور اس میں توقع کے مطابق پیداوار نہیں ہوئی یا باغ تباہ ہوگیا، تب بھی اسی معیار کے آم مارکیٹ سے خرید کر یا کسی دوسرے باغ سے لے کر دینا ہوں گے۔

اب جہاں تک یہ سوال کہ جس کا باغ تباہ ہوگیا اس کو تو ویسے ہی نقصان ہوگیا اور اوپر سے کہیں اور سے خرید کر آم دینا پڑرہے ہیں، تو اس میں مسئلہ یہ ہے کہ جس سے 6 ماہ پہلے پیسے لیے گئے تھے کہ میں 100 کلو آم ان پیسوں کے عوض دوں گا تو اس نے بھی تو پیسے دیے ہیں، اس نے باغ کے مالک کے ساتھ پارٹنر شپ نہیں کی تھی۔ اگر پارٹنرشپ کی ہوتی تو اس میں نفع و نقصان برابر ہوتا، اس نے تو تجارت کی ہے۔ اس نے صرف اس وعدے پر پیسے دیے تھے کہ مجھے 6 ماہ بعد اتنے آم ملیں گے۔ اب یہ باغ کے مالک پر ہے وہ کہیں سے بھی اسے آم لاکر دے، بھلے ہی اس کا باغ تباہ ہوگیا ہو اور اسے کسی دوسرے باغ سے لے کر یا مارکیٹ سے خرید کر آم دینا پڑے گا۔

اس بات کو اس طرح بھی سمجھا جاسکتا ہے کہ کسی نے فرنیچر بنانے کے لیے بڑھئی کو 50 ہزار روپے دیے اور جب مقررہ وقت پر اس سے فرنیچر لینے گیا تو بڑھئی کہنے لگا کہ بارش ہوگئی تھی، جس سے لکڑی خراب ہوگئی اور میرا بڑا نقصان ہوگیا۔ تو ایسا ہے کہ میرا بھی نقصان ہوگیا اور آپ کے پیسے بھی ڈوب گئے۔ تو آپ کیا کریں گے؟ آپ کہیں گے کہ بھائی میرے پیسے کیوں ڈوب گئے۔ میں تمہاری دکان میں پارٹنر تھوڑا ہوں، نقصان ہوا تو تمہارا ہوا میرے پیسے کیوں ڈوبے؟ مجھے تو تم فرنیچر بناکر دو۔ تجارت الگ ہے، شراکت الگ ہے اور کرایہ داری الگ ہے، لیکن تینوں جائز طریقے ہیں۔

استثنیٰ
مینوفیکچرنگ معاہدے کو استثنیٰ کہتے ہیں۔ یعنی آپ کسی سے کوئی چیز بنانے کا معاہدہ کریں۔ مثال کے طور پر آپ کسی ایسے درزی کے پاس جائیں جس کے پاس کپڑے بھی ہوں اور آپ اسی کے پاس سے کپڑا پسند کرکے اُسے کہیں کہ اسے سِی دو۔ تو یہ معاہدہ (کنٹریکٹ) استثنیٰ کہلائے گا۔ استثنیٰ کو اس طرح سمجھا جاسکتا کہ کہ آپ کسی بڑھئی کے پاس گئے اور اس سے کہا کہ مجھے اپنے گھر کے لیے فرنیچر چاہیے اور اس شکل کی بیڈ بنادو، ایسی الماری بنادو، ایسی میز و کرسیاں بنادو اور اس کے جو پیسے ہیں وہ لے لو اور میں پیسے تمہیں اُس وقت دوں گا جب تم مجھے چیزیں بناکر دو ہے۔

استثنیٰ کو اس مثال سے بھی سمجھا جاسکتا ہے کہ کسی اسلامی بینک سے سیالکوٹ کے کسی مینوفیکچرر نے کہا کہ مجھے پانچ لاکھ روپے چاہئیں۔ بینک پوچھے گا کہ آپ کو یہ پیسے کس لیے چاہئیں؟ اس نے بتایا کہ مجھے 5 ہزار فٹبال بناکر برآمد کرنے ہیں۔ بینک اُس مینوفیکچرر سے کہے گا کہ ایسا کرتے ہیں کہ فٹبال بنانے کا آرڈر میں تہمیں دے دیتا ہوں یہ لو 5 لاکھ روپے اور 5 ہزار فٹبال بناکر مجھے دے دینا۔ جب وہ فٹبال بن جائیں گے تو بینک کہے گا کہ اب ان فٹبالز کو میرے ساتھ مل کر ایکسپورٹ کرادو اور جو پیسے آئیں گے اس میں سے نفع میں رکھ لوں گا اور کمیشن تمہیں دے دوں گا۔

تو یہ بھی تجارت ہے۔ تجارت کی مختلف صورتیں ہوتی ہیں۔ ہر آدمی کی الگ الگ ضرورت ہوتی ہے۔ اس لیے اسلامک بینکنگ کے بھی الگ الگ موڈز ہیں۔ جبکہ روایتی بینکوں میں صرف ایک ہی طریقہ ہے کہ پیسہ لو اور سود دو، یا قرض دو اور سود لو۔

Check Also

آسٹریلیا نے پاکستان کو 0-5 سے وائٹ واش کردیا

محمد واحد آسٹریلیا نے پاکستان کو 0-5 سے وائٹ واش کردیا. ورلڈکپ سے قبل اہم …