جمعہ , مئی 24 2019
Home / اہم خبریں / نکاح نامہ پڑہنے کا طریقہ اور شقیں کاٹی جانے کے اسباب

نکاح نامہ پڑہنے کا طریقہ اور شقیں کاٹی جانے کے اسباب

ضحیٰ مرجان

نکاح یا نکاح نامہ ایک ایسی سند ہے جو خوبصورت احساسات کو جنم دیتی ہے۔ دو اجنبی انسان جو کبھی ایک دوسرے کے لئے نامحرم تھے وہ یہ سند حاصل کرنے کے بعد ایک دوسرے کے سب سے قریب ترین رشتے میں آجاتے ہیں۔ اس تحریرمیں آپ کو نکاح نامہ پڑھنے کا طریقہ اور اس کی کچھ شقوں کو کاٹے جانے کے اسباب معلوم ہونگے.

مسلم فیملی قوانین 1961 اور نکاح:

مسلم فیملی قوانین 1961 کے تحت رائج نکاح فارم کی 25 شقیں اور سات دستخط ہیں۔

شق نمبر 1 سے شق نمبر 6 تک دلہا اور دلہن کے ذاتی کوائف درج کیے جاتے ہیں۔ شق نمبر نمبر 7سے شق نمبر 12 تک وکیل، گواہان اور شادی واقع ہونے کی تاریخ کی تفصیلات لکھی جاتی ہیں۔ شق نمبر 13 سے شق نمبر 16 تک حق مہر کا تفصیلی اندراج ہوتا ہے۔ شق نمبر 17 سے شق نمبر 22 ایسی شقیں ہیں کہ جو ناں صرف عورت کو تحفظ دیتی ہیں بلکہ اس کو معاشرے میں معاشی اور شخصی مضبوطی بھی فراہم کرتی ہیں لیکن ہمارے ہاں اکثر ان شقوں کو کاٹ دیا جاتا ہے۔

سندھ یونیورسٹی کے لاء ڈپارٹمنٹ میں پڑہانے والے ایڈوکیٹ سید توقیر حسین شاہ بخاری نے بتایا کہ یہ شقیں اس لئے کاٹی جاتیں ہیں تاکہ دلہن کو آگے زندگی میں طعنے نہ ملیں۔ دوسری ایک وجہ جو زیادہ مضبوط ہے کہ ہمارے معاشرے میں شعور آگہی اور حقوق کا علم نہ ہونے کے برابر ہے۔

نکاح نامہ:

Urdu Nikkah Nama (File photo: Zahid Law)
Urdu Nikkah Nama (File photo: Zahid Law)

پہلی شق؛
پہلی شق میں وارڈ/موضع، ٹاؤن/یونین، تحصیل/تھانہ اور ضلع جہاں نکاح وقوع پذیر ہو رہا ہے کے خانے درج ہوتے ہیں۔ تاکہ یہ بات دستاویزات کی صورت میں آجائے کہ آیا یہ نکاح کہاں واقع ہوا ہے.

دوسری شق؛
دولہا اور اس کے والد کا نام معہ ان کی سکونت بالترتیب۔
اس شق میں دلہا اور اس کے والد کی رہائش کو تفصیلاً لکھنا ضروری ہے۔ تاکہ کسی بھی قسم کی ناپسندیدہ صورت حال سے نمٹا جا سکے۔ اس میں ایک اور چیز بھی قابل غور ہے کہ مسلم عائلی قوانین کے تحت صرف ایک دلہا کا ہی نہیں بلکہ اس کے سرپرست کا نام وپتہ بھی تحریری طور پر لیا جارہا ہے۔

شق نمبر تین؛
دولہا کی عمر یا تاریخ پیدائش۔
یہ شق بھی عورت کو تحفظ فراہم کرتی ہے۔ چونکہ 18 سال سے کم عمر کی لڑکی کی شادی قانوناً جرم ہے۔ اس سے نہ صرف لڑکی کو قبل از متعین میعاد (18 سال) سے پہلے شادی کرنے سے تحفظ ملے گا بلکہ کسی کمسن لڑکی کی عمر رسیدہ مرد سے شادی کو بھی روکا جا سکتا ہے۔

شق نمبر 4
دلہن اور اس کے والد کا نام، ان کی سکونت بالترتیب:
جس طرح دلہا اور اس کے والد کا پتہ دینا ضروری ہے۔ بلکل اسی طرح دلہن اور اس کے والد یعنی سرپرست کی رہائش و سکونت کا اندراج بھی ضروری ہے۔ یعنی جس طرح یہ معاہدہ (نکاح نامہ) عورت کو ہر طرح کی دھوکہ دہی یا فراڈ سے بچا رہا ہے اسی طرح مرد کوبھی کسی ناخوشگوار واقعے سے بچانے یا مصالحت کے لئے دلہن کے سرپرست کو تحریری طور پر شامل کر رہا ہے۔

 

 

شق نمبر 5
آیا دلہن کنواری، بیوہ یا طلاق یافتہ ہے:
اس شق میں نئے معاہدے کو مزید مضبوط کرنے کے لئے یہ ضمانت دی جاتی ہے کہ دلہن کا اسٹیٹس کیا ہے؟ آیا وہ کنواری ہے؟ مطلقہ (طلاق یافتہ) ہے؟ یا پھر بیوہ؟ یہ اس لئے کہ اگر وہ کنواری ہے تو پنڈال میں موجود لوگوں کو بتایا جائے کہ اب اس کا حق زوجیت کسی ایک مرد کے لئے محفوظ ہے۔ اگر وہ عورت مطلقہ یا بیوہ ہے تو یہ بھی بتانا ضروری ہے تاکہ کل کو اس عورت کا کوئی دوسرا دعویدار نہ آجائے جو یہ دعویٰ کرے کہ یہ عورت اس مرد کی بھی زوجیت میں ہے۔

شق نمبر 6
دلہن کی عمر یا تاریخ پیدائش:
یہ شق بھی عورت کو تحفظ فراہم کرتی ہے جیسا کہ شق نمبر تین میں بتایا جا چکا ہے۔

شق نمبر 7
اگر دلہن کی طرف سے کوئی وکیل مقرر کیا گیا ہے تو اس کا نام معہ ولدیت و سکونت:
یہ شق بھی فریقین بالخصوص عورت کے کے لئے ضروری ہے کہ جس میں ایک وکیل جو دلہن سے ایجاب و قبول کے حوالے سے استفسار کرتا ہے اس کی ولدیت اور سکونت اس لئے بھی ضروری ہے کہ یہ جانا جا سکے کہ آیا وکیل کتنا قابل بھروسہ ہے۔

شق نمبر 8
دلہن کے وکیل کے تقرر کے بارے میں گواہوں کے نام معہ ولدیت و سکونت:
یہ شق دلہن کی طرف سے مقرر کیے گئے گواہان کے حوالے سے انتہائی اہم شق ہے۔ چونکہ نکاح کے واقع ہونے کے لئے جہاں فریقین کا ایجاب و قبول ضروری ہے اسی طرح گواہان کا ہونا بھی انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔

شق نمبر 9
اگر دولہا کی طرف سے کوئی وکیل مقرر کیا گیا ہے تو اس کا نام معہ ولدیت و سکونت: یہ شق مندرجہ بالا شق نمبر سات ہی کو بیان کرتی ہے دولہا کی طرف سے۔

شق نمبر 10
دولہے کے وکیل کے تقرر کے بارے میں گواہوں کے نام معہ ولدیت و سکونت:
یہ شق مندرجہ بالا شق نمبر 8 کو بیان کرتی ہے دولہے کی طرف سے۔

شق نمبر 11
شادی کے گواہوں کے نام معہ ولدیت و سکونت:
جیسا کہ شق سے ظاہر ہے کہ یہاں گواہان کے نام درج کیے جائیں گے۔ یہاں بار بار ولدیت و سکونت کا ذکر گواہان کے مستند ہونے کے لئے درج کروائے جا رہے ہیں۔

شق نمبر 12
شادی سر انجام پانے کی تاریخ:
یہ انتہائی اہم شق ہے چونکہ اس کے درج ہونے سے بہت ساری پیچیدگیاں ختم ہوتی ہیں۔ مثلاً اگر کوئی مطلقہ دوسری شادی کرتی ہے اور اس کی شادی کے کچھ عرصے بعد (حمل کے نو ماہ کی میعاد سے پہلے) اس کے ہاں ولادت ہوتی ہے تو وہ بچہ پہلے شوہر کا مانا جائے گا.
نوٹ: طلاق کے 130 دن بعد دوسرا نکاح کرنے کے پیچھے بھی یہ ہی منطق پوشیدہ ہے۔ یا پھر یہ بھی ہو سکتا ہے کہ اس عورت کا کوئی اور دعویدار پچھلی تواریخ میں اپنا نکاح نامہ لے آئے اس لئے نکاح نامے میں جہاں بقیہ شقیں اہمیت کی حامل ہیں وہیں یہ شق بھی انتہائی اہمیت رکھتی ہے۔

 

 

شق نمبر 13
مہر کی رقم:
یہ شق انتہائی اہم ترین شق ہے کہ جو عورت کو معاشی تحفظ فراہم کرتی ہے۔ اس لئے ضروری ہے کہ اس شق میں دلہن کی مرضی اور اس کی رائے کو شامل کیا جائے۔
نوٹ: فریقین اپنی مرضی اور باہمی رضامندی سے جتنا چاہیں مہر مقرر کر سکتے ہیں۔ جبکہ دلہن چاہے تو اپنا حق مہر لینے کے بعد معاف بھی کر سکتی ہے۔ لیکن حق مہر دینا انتہائی ضروری ہے۔

شق نمبر14
مہر کی کتنی رقم معجل اور کتنی غیر معجل ہے:
یہ شق انتہائی پیچیدہ شق مانی جاتی ہے۔ چونکہ بہت سارے لوگ اس شق میں لکھتے ہیں کہ مہر کی رقم موقع (نکاح کے وقت) ادا کردی گئی ہے لیکن ایسا ہوتا نہیں۔ اس صورتحال میں اگر کوئی خاتون خلع کا مطالبہ کرتی ہے تو اس کو مقرر کی گئی یا درج کی گئی مہر کی رقم (سونا، زمین،جائیداد، نقد یا جس بھی صورت میں مہر ادا کیا گیا) واپس لوٹانا ہو گی۔ لہٰذا اس شق کو انتہائی ذمے داری سے پر کرنا چاہیے۔

شق نمبر15
آیا مہر کا کچھ حصہ شادی کے موقع پر ادا کیا گیا ہے تو کس قدر:
شق نمبر 14 میں اس کی تفصیلات بتا دی گئی ہیں۔

شق نمبر 16
آیا پورے مہر یا اس کے کسی حصے کے عوض میں کوئی جائیداد دی گئی ہے۔ اگر دی گئی ہے تو جائیداد کی قیمت جو فریقین کے مابین طے پائی گئی:
شق نمبر 14 میں اس کی تفصیلات بتا دی گئی ہیں۔ لیکن یہاں اس بات کو واضح‌ طور پر بیان کرنا ضروری ہے کہ اس دی گئی جائیداد کی مالیت کتنی ہے تاکہ آئندہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچا جا سکے۔

شق نمبر 17
خاص شرائط اگر کوئی ہوں:
یہ شق دلہن کو تحفظ کے ساتھ شخصی آزادی فراہم کرتی ہے کہ اگر دلہن شادی کے بعد کوئی کام کرنا چاہتی ہے، الگ گھر میں رہنا چاہتی ہے، اپنے والدین کے گھر رہنا چاہتی ہے، بچے پیدا کرنا چاہتی ہے یا نہیں کرنا چاہتی یا کسی بھی قسم کی کوئی بھی شرط دلہن یہاں تحریر کرواسکتی ہے۔ جس پر کاربند رہنا دولہے پر لازم ہوگا۔

شق نمبر 18
آیا شوہر نے طلاق کا حق بیوی کو تفویض کیا ہے، اگر کر دیا ہے تو کون سی شرائط کے تحت:
یہ ایک ایسی شق ہے کہ جو عورت کو تحفظ دینے کے ساتھ اسے مضبوط بھی کرتی ہے۔ چونکہ اگر شوہر بیوی کو طلاق کا حق تفویض کرتا ہے تو اس صورت میں بیوی خود اپنے آپ کو طلاق دینے کی مجاز ہے۔ اس کو ایسا ہی مانا جائے گا گویا شوہر نے ہی اسے طلاق دی ہو۔ جبکہ یہ حق ملنے کے بعد عورت کو خلع کے لئے پریشان حال ہونے کی بھی ضرورت نہیں۔ جبکہ اس شق کے تحت اگر بیوی خود کو طلاق دیتی ہے تو اس کو حق مہر بھی ملےگا جو کہ خلع میں نہیں ہوتا۔

 

 

شق نمبر 19
آیا شوہر کی طلاق کے حق پر کسی قسم کی پابندی لگائی گئی ہے۔
یہ شق انتہائی متنازع ہے اور بہت سے مکتبہ فکر بالخصوص مذہبی پیشوا اور علماء اس شق کو اسلام کے منافی مانتے ہیں۔ گو کہ یہ شق خاصے عرصے سے چیلنجنگ بھی رہی ہے۔ علماء کا کہنا ہے کہ اسلام کی رو سے مرد جہاں چاہے، جب چاہے بیوی کو طلاق دینے کا پورا اختیار رکھتا ہے۔ لیکن 1961 سے اب تک اس میں کسی بھی قسم کی تبدیلی نہیں کی گئی۔

ایڈووکیٹ توقیر حسین شاہ بخاری کا کہنا ہے کہ میں اپنے شاگردوں کو اس شق کی تشریح میں بتاتا ہوں کہ ایسے لوگ جو ذہنی ہیجان یا ذہنی خلفشار کا شکار ہوں یا ان پر کسی خاص قسم کے دورے پڑتے ہوں تو ان دوروں کے دوران ان کے طلاق کے حق پر پابندی عائد کی جا سکتی ہے۔

شق نمبر 20
آیا شادی کے موقع پر مہر و نان نفقہ سے متعلق کوئی دستاویز تیار کی گئی ہیں۔ اگر کی گئیں ہیں تو اس کے مختصر مندرجات یہ شق اکثر کاٹ دی جاتی ہے جس کا اندراج کرنا انتہائی ضروری ہے تاکہ مستقبل میں بیوی کو معاشی ناانصافی سے بچایا جا سکے۔

شق نمبر 21
آیا دولہے کے ہاں پہلے سے کوئی بیوی موجود ہے۔ اگر ہے تو آیا دوسری شادی کرنے کے لئے مسلم خاندانی قوانین کے آرڈیننس 1961 کے تحت چیئرمین ثالثہ کونسل سے اجازت نامہ حاصل کر لیا ہے۔
اگر کوئی مرد دوسری شادی کر رہا ہے تو وہ چئیرمین ثالثہ کونسل ( یونین کاونسل ناظم ) کا تحریری اجازت نامہ اپنے دوسرے نکاح‌نامے کے ساتھ منسلک کرے گا تاکہ پہلی بیوی کسی ھی قسم کی دھوکہ دہی یا بے خبری میں‌ناں‌رہے. اتنا ہی نہیں‌بلکہ اس کونسل کے کچھ ممبران دلہن اور کچھ دلہا کے خاندان سے ہوں گے جبکہ کونسل کا چئیرمین یو سی چئیرمین یا اس کی منشاء‌سے کوئی دوسرا شخص متعین ہوگا. لیکن یہ شق بھی کاٹ‌دی جاتی ہے.

شق نمبر 22
نمبر و تاریخ مراسلہ جس کے ذریعے ثالثی کونسل نے دلہا کو دوسری شادی کرنے کی اجازت دی ہے۔
تحریری اجازت نامے کی تاریخ‌ جس سے ظاہر ہوتا ہےکہ یہ اجازت نامہ دوسرے نکاح‌کے وقوع پذیر ہونےسے پہلے حاصل کیا جائے گا.

شق نمبر 23
نکاح خواں کا نام اور ولدیت معہ پتہ.

شق نمبر 24
شادی کو رجسٹر میں درج کرنے کی تاریخ۔

شق نمبر 25
فیس رجسٹریشن جو ادا کی گئی۔
اس شق میں نکاح کی فیس کا اندراج کرنا ہے۔

ان شقوں کو پر کرنے کے بعد دولہا، دلہن، گواہان، وکیل، نکاح خواں کے دستخط اور مہر ہوتی ہے.

Check Also

تھر کول پاور پروجیکٹ کے تحت سستی ترین بجلی بنے گی

تھر کول پاور پروجیکٹ سے سستی ترین بجلی بنے گی

محمد واحد توانائی بحران سے نمٹنے والے منصوبے تھرکول پاور پروجیکٹ سے بجلی کی پیداوار …

2 comments

  1. اچھا ہے