بدھ , اپریل 24 2019
Home / صحت / نواز شریف کا علاج اور “مرہم” کی پیشکش

نواز شریف کا علاج اور “مرہم” کی پیشکش

سحرش ستار

پی ٹی آئی حکومت اور مسلم لیگ (ن) کے درمیاں سابقہ وزیر اعظم نواز شریف کے علاج کے حوالے سے گذشتہ کچھ عرصے سے جاری کشیدگی کو کم کرنے کے لیے “مرہم” نے ایک انتہائی قابل عمل اور آسان ترین حل پیش کیا ہے۔ مرہم جو کہ پاکستان میں ٹیلی میڈیسن کا ایک ایسا پلیٹ فارم ہے جو کہ صحت کی سہولیات بہتر کرنے اور ڈاکٹروں سے مریضوں کا باآسانی اور بروقت رابطہ کروانے کا ذریعہ ہے۔

“مرہم” کا پلیٹ فارم استعمال کرتے ہوئے پاکستان اور پاکستان سے باہر بیٹھے ہزاروں لوگ اپنی صحت سے متعلق پریشانیوں کا حل تلاش کرتے ہیں۔ مرہم نہ صرف ڈاکٹروں سے اپائنٹمنٹ بک کروانے میں مددگار ہے بلکہ اس کے استعمال سے آپ ڈاکٹرز سے ویڈیو کال کے ذریعے بھی رابطہ کر سکتے ہیں۔

ٹیلی میڈیسن کے ذریعے معالج اور مریض میں رابطہ اور بہتر چیک اپ کے لئے کئی ایسے آلات موجود ہوتے ہیں، جن کا استعمال ڈاکٹر کو مریض کی صورتحال سے بخوبی آگاہ کر دیتا ہے۔ تو “مرہم” کی انتظامیہ اپوزیشن کی سب سے بڑی سیاسی جماعت کی حکومت وقت کیساتھ اس سیاسی کشیدگی کو کم کرنے کی خواہشمند ہے اور اس سلسلے میں میاں نواز شریف کا ان کے معالجین سے رابطہ اور مشورہ کروانے کا خاص انتطام کیا جاسکتا ہے۔

مرہم کے پلیٹ فارم سے روزانہ کئی افراد اس قسم کی سہولیات سے بہرہ مند ہوتے ہیں۔ مرہم کے پینل پر غیر ملکی ڈاکٹروں اور سرجنوں کی موجودگی عوام کا ان سہولیات پر اعتماد کا مظہر ہے۔ مرہم کے تجویز کردہ حل سے نہ صرف ملک کی تین بار وزیراعظم رہنے والی شخصیت میاں نوازشریف کی صحت کے مسائل کا بہتر حل سامنے آ سکتا ہے بلکہ سیاسی منطر نامے میں پائی جانے والی شدید کشیدگی کا سدباب بھی بہت حد تک ممکن ہے، جس سے نہ صرف ملک کا سیاسی پر معاشی فائدہ بھی ممکن ہوسکتا ہے، کیوں کہ معاشی استحکام بھی ہر ملک کے سیاسی استحکام سے منسلک ہوتا ہے۔

پاکستان کے حالیہ سیاسی منظر نامے پر نظر دوڑائی جائے تو بہت سے ایسے معاملات سامنے آتے ہیں جن میں اپوزیشن جماعتوں اور حکومت میں کشیدگی پائی جاتی ہے۔ انہی میں سے ایک سابقہ وزیر اعظم نواز شریف کی بیماری اور انہیں علاج کی سہولیات فراہم کرنا بھی ہے۔ نوازشریف اس وقت دل کی بیماری سے دوچار ہیں، جس کے لیے اس سے پہلے بیرون ملک ان کا بائی پاس بھی ہو چکا ہے۔

ان کی بیٹی مریم نواز ان سے اپنی حالیہ ملاقات کا احوال بیان کرتے ہوئے سماجی روابط کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر بتا چکی ہیں کہ میاں نواز شریف کو پچھلے چند دنوں میں کئی بار انجائنا کی شکایت ہوچکی ہے۔ وہ اس سلسلے میں حکومت کی ہٹ دھرمی اور علاج کی ناکافی سہولیات سے نالاں نظر آتی ہیں۔

نواز شریف بیرون ملک معالجین کے زیر نگرانی اپنا علاج جاری رکھوانے کے خواہشمند ہیں، جبکہ عدالت ان کی اس بنیاد پر دائر کی گئی ضمانت کی درخواست کومسترد کر چکی ہے۔ مسلم لیگ (ن) اس تمام تر صورتحال کا ملبہ پی ٹی آئی پر ڈال رہی ہے اور حکومت کا موقف ہم پنجاب کی وزیر صحت ڈاکٹر یاسمین کی اس ٹویٹ سے بخوبی جان سکتے ہیں، جس میں ان کا کہنا ہے کہ سیاسی اختلافات اپنی جگہ لیکن وہ نواز شریف کی صحت کے لیے دعا گو ہیں۔

میاں نواز شریف کو ملک بھر کے کسی بھی ہسپتال میں علاج کروانے کی پیشکش کی جا چکی ہے لیکن وہ علاج کے لیے بیرون ملک جانے پر بضد ہیں۔ سالوں پر محیط اپنے دور اقتدار میں وہ ایک بھی ایسا ہسپتال نہیں بنا سکے جہاں وہ اپنا علاج کروانے پر مطمئن ہو سکیں۔

اسی طرح مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما احسن اقبال کا کہنا ہے کہ کوئی بھی شخص جس کا بائی پاس ہو چکا ہو وہ یقینا اپنے سابقہ معالج سے ہی مشورہ اور علاج چاہے گا۔ بھرحال سئو باتوں کی ایک بات میاں نوازشریف “مرہم” کی جانب سے پیشکش کردہ ٹیلی میڈیسین کی سہولت کے ذریعے اپنے ملک میں بیٹھ کر بھی بیرون ملک موجود اپنی پسند کے معالج سے براہ راست رابطہ کرکے مشورہ بھی کر سکتے ہیں تو علاج کی بہترین سہولیات بھی گھر بیٹھے حاصل کر سکتے ہیں۔

لہٰذا ہم سمجھتے ہیں کہ حکومت وقت کو بھی ” مرہم” کی اس بروقت اور بہترین پیشکش سے استفادہ حاصل کرنے کے لیے آگے آنا چاہیئے تا کہ حکمران ایک ایسی شخصیت کو علاج و معالجے کی سہولیات کی عدم فراہمی کو بنیاد بنا کر مخالفین کی تنقید سے بچ سکیں اور مسلم لیگ (ن) کا مطالبہ بھی تسلیم ہوجائے۔

Check Also

پانی کو گندہ کرنے کا عمل

پانی کا بحران ماحولیاتی بحران ہے

محمد علی شاہ پانی کا بحران ماحولیاتی بحران ہے. ہم جب پانی پر بحث کے …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے