بدھ , اپریل 24 2019
Home / اہم خبریں / ماحولیاتی ڈائری: سندھوندی، کچہ اور لوگ: ایک مختصر سفر کی کتھا- جان خاصخیلی
Indus River: File Photo (Dunyanews)

ماحولیاتی ڈائری: سندھوندی، کچہ اور لوگ: ایک مختصر سفر کی کتھا- جان خاصخیلی

جان خاصخیلی

دریائے سندھ کے تبدیل ہونے والے قدیم بہائو ، ان کے چھوڑے ہوئے نشانات اور ان سے جڑی محبت کے فسانوں اور داستانون میں بھی بڑی کشش ہے۔ دریائی کچے کے علاقے میں رہنے والے نوجوان اپنے بڑوں کا حوالہ دے کر جب یہ داستان سنانے لگتے ہیں تو گویا ان داستانوں کو سننے والے تصور ہی تصور میں دریاء کی چھولیوں کی آوازیں کناتے ان کے طلسم میں ڈوبتے، تیرتے اور کھویا ہوتا محسوس کر رہے ہوتے ہیں۔








میں اس سال جنوری 2018 میں دادو ضلع کے کچہ کے گاووں جھالو شریف کے قریب گندم کے لہلہاتے کھیتون کے بیچ اس دریاء کے مٹے ہوئے نشانات کو دیکھ رہا تھا۔ یہ دریا مونسون کے موسم میں جب بہتا تو طغیانی کا سما ہوتا دکھائی دیتا تھا۔ کہیں کہیں رخ بدلتا، پیچھے نشان چھوڑ جاتا تھا۔ اب شاید سندھو دریا وہ نہیں رہا۔ اس گاووں کے قریب دریا کہ دو مختلف بہاوء دیکھنے کو ملے جہاں سے دریا کچھ فاصلے پر ہے۔

یہ الگ بات ہے کہ اب دریا سندھ میں ہر طرف اسی طرح خشک دکھائی دیتا ہے۔ صرف کہیں کہیں دریا کے پیٹ میں پانی نظر آتا ہے۔ ظاہری طور پر وہ پرانے آثار ہیں جہاں زرخیز ریت دیکھ کر اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ کبھی دریا ادھر سے بہتا تھا۔ یہ پرانے بہاو دھندھلی یاد کی طرح وقت کے ساتھ مٹ رہے ہیں۔ گندم کے لہلہاتے کھیتوں میں مویشوں کے لئے گھاس کاٹتی عورتیں اور گھاس کے انتظار میں پرانے بہاوء کے کنارے کھڑی بھینسیں، گائے اور ان کے بچھڑے۔

“نہیں صاحب، ہم تو ادھر ہیں پیدا ہوئے اور پلے بڑے ہیں۔ میں کیا بتائوں۔ ہماری زندگی تو بس یہی ہے۔ خود اندازہ لگائو، یہ کھیت، یہ ہریالی، دور فاصلے پر دریا، طغیانی کا موسم، خشک سالی، یہ مویشی اور ہم،” ایک چرواہا اپنے مویشیوں کو گھاس دیتے بتا رہا تھا۔ اس کی مسکراہٹ سے ان کی خوشحالی کا اوج ابھی تک جھلک رہا تھا۔ وہ مایوس نہیں تھا۔ انہوں نے اپنی زندگی میں جنگلات ختم ہوتے دیکھا جہاں ان کے جانور کسی چرواہے کے بغیر چرنے جاتے تھے اور شام کو لوٹتے تھے۔

یہ تو کتابی باتیں ہیں کہ دریا مانسور جھیل سے نکلتا، جموں و کشمیر ، گلگت بلتستان اور مختلف وادیوں سے سفر کرتا سندھ میں داخل ہوتا ہے۔ بہرحال دادو کےجھالو شریف گاووں کے لوگوں نے اپنی زمینوں کے سامنے دریا کی چھوڑی زمین اور ان نشانات پر ابھی تک قبضہ نہیں کیا ۔ ہو سکتا ہے کبھی کبھار مونسون کے موسم میں دریا میں طغیانی اور ان کی تباہکاریون کا انہیں پتہ ہو اور وہ دریا سے اتنی دخل اندازی سے ڈرے ہوئے ہوں۔








ابھی اسی سال کی آخر دسمبر میں دریا کے مختلف علاقوں کو دیکھنے کا موقعہ ملا تو لگا کہ جیسے دریا ہمیشہ کے لئے خشک ہو گیا ہے۔ ہر طرف ریت کے ٹیلے ہیں جہان ریت اڑ رہی ہے۔ ایسے حالات میں بھی کچے کے لوگ پرامید نظر آتے ہیں کہ دریا طغیانی کے ساتھ۔، کوئی خوشحالی لے کر آئے گا۔ اگلے سال بھی گندم اور سردی کے فصلوں کے لئے لوگ ٹیوب ویل سے پانی نکال رہے تھے اور اس سال بھی گندم کے کھیت کا موسم ہے اور دریا کے پیٹ میں ٹیوب ویل سے پانی نکالا جا رہا ہے۔ فرق صرف وقت کا ہے ۔ وقت بیت جاتا ہے، جیت جاتا ہے اور پیچھے ایک یاد چھوڑ جاتا ہے، بلکل دریا کے پرانے بہاوء کے مانند۔

اس دن ہم حیدرآباد شہر سے سویرے نکلے تھے، سیہون شہر کے راستے جاتے ہوئے دائیں طرف دریا کا کچہ اور ندی کا خالی پیٹ ہے، کہیں کہیں پانی کے مناظر دیکھنے کو ملے۔ سیہوں شہر کراس کر کے ہم دادو کے پرانے راستے کی طرف مڑے تھے۔ راستے پر بیر، ٹالی اور ببول کے درخت ہیں۔ اب جنگلات تو بلکل ختم ہو گئے ہیں اس لئے ببول، ٹالی اور بیر کے درخت ان جنگلات کی آخری نشانیاں ہیں۔ ان درختوں کو دیکھ کر لگا کہ یہ لوگ فطرت سے بہت پیار کرتے ہیں۔ سردی کے موسم میں بیر کی آمد، اور ان درختوں کی طرف امید بھری نظر سے جانا، بیر لانا ان لوگوں کی زندگی کا حصہ ہے ۔ کہیں کہیں راستے سے جاتے لگا کہ ادھر مرچ کا فصل زیادہ ہوتا ہے۔ کھیت میں خواتین و مرد مرچ چنتے نظر آ رہے تھے۔ گندم ، مرچ اور گھاس کی ہریالی اور سرسوں کی پیلی پھولار کا اپنا حسن تھا۔ ادھر ہی کھجور کے درخت اور راستے سے قدیم واہڑ نظر آ رہے تھے ۔ واہڑ دریا کی شاخیں ہیں جو دریا میں پانی آتے ہی بہنے لگتے ہیں۔ بہت پہلے جب آبپاشی کا نظام نہیں تھا تو واہڑ پانی کا قدرتی زریعہ تھا جس سے لوگ فصل اگاتے تھے۔ ان واہڑوں کو دیکھ کر لگتا تھا کہ دریا بس تھوڑا آگے ہے۔ ویہڑ شریف، چھوٹی مناہیاں، بڑی مناہیاں {گاووں کے نام }، پھر آگے گنے کی فصل۔ جیسے ہر فصل کے لئے الگ الگ ریاستیں ہیں۔ کہیں کہیں مزدور گنے کی کٹائی کر رہے تھے، گدھہ گاڑیون پر لدی ہوئی گنے کی گھاس۔ راستہ جا رہا ہے اور ہم جیسے ایک ہی جگہ پر کھڑے ہیں۔ راستہ ایک جگہ سے دوسری جانب منظر تبدیل کرتا جا رہا ہے اور ہم مستفید ہو رہے ہیں۔

یہ کاموری بکری کا فارم ہے۔ بہت پہلے دریا اور جنگلات کی اوج کے زمانے میں سرکار نے یہ فارم بنایا تھا، بہت بڑی زمین تھی جہاں ان بکریوں کے لئے گھاس ہوتا تھا، کہتے ہیں اس فارم پر ہزارون بکریاں تھیں، جہان اس اعلا نسل کاموری بکری کی افزائش کی جاتی تھی۔ پھر آہستہ آہستہ جنگلات ختم ہو گئے، دریا رک گیا، زمین نیلام ہو گئی۔ اب یہ فارم اجڑ سا گیا ہے۔ ہماری خواہش تھی کہ واپسی پر وہ فارم دیکھیں گے لیکن ہم تو دوسرے راستے سے نکل آئے۔

تھوڑے فاصلے پہ راستے کے موڑ پر امیراںی شریف کے میلے کی زور شور سے تیاریاں تھیں، روایتی زیورات سے سجائے ہوئے اونٹ کٹھے ہو رہے تھے۔ یہ میلا بھی اوڈیرالال، پتھورو شریف اور سندھ کی دوسری درگاہوں کی طرح ہندو اور مسلمان ایک ساتھ مناتے ہیں۔ اس درگاہ کو ہندو راجل ویر کہتے ہیں اور مسلمان امیر پیر کہتے ہیں۔ سندھ میں شاید میلے ہی ہیں جنہوں نے لوگوں کو ثقافتی طور پر جوڑ کر رکھا ہے۔ بہرحال ہماری میلے پر جانے والی خواہش بھی ادھوری رہی، دیکھنا چاہئے تھا کہ کس طرح اونٹ اور جانوروں کی نمائش ہوتی ہے۔ ان لوگوں کے پاس مذہبی بھائی چارہ اور محبت کی مثال کیا ہے۔ اسی راستے سے ہم جھالو شریف گاووں پہنچے تو دریا کے پرانے بہاو کے کنارے چارپائیاں بچھی ہوئی تھیں، جہاں ہم بیٹھہ گئے۔








آنے کا مقصد یہی تھا کہ لوگوں سے پوچھ سکیں کہ جنگلات کے خاتمے اور دریا کا بہاو رکنے کے بعد ان کی زندگی کا حال کیا ہے۔ کنارے پر گھنے اور سایہ دار درختوں کی قطاریں تھیں، نیچے دریا کا پرانہ بہاو تھا جہاں چرواہوں نے مویشیوں کو مختلف باڑوں میں روک رکھا تھا۔ کچھ لوگ مال مویشوں کے لئے نزدیک کھیتوں سے گھاس لے کر آ رہے تھے۔ ظاہری طور پر یہ مال مویشوں کی بڑی تعداد تھی لیکن لوگوں کا خیال تھا کہ جب ادھر جنگلات تھے تو چراگاہ اور گھاس زیادہ تھا تو مویشوں کی تعداد کہیں زیادہ تھی. دودھ، مکھن، شہد سب کچھ وافر مقدار میں تھا۔ کسی چیز کی کمی نہیں تھی۔ لیکن آہستہ آہستہ سب کچھ ان کی آنکھوں سے دور ہوتا گیا۔ اب بھی کچے کے گاووں میں مال مویشوں کی تعداد زیادہ ہے۔

ادھر ہی ماوا مٹھائی کی دکان تھی جہاں حاجی خان چھجرو کھیر سے وہ مٹھائی تیار کر رہا تھا۔ اس بزرگ مٹھائی بنانے والے کی اپنی زندگی کی دلچسپ کہانی تھی، زندگی مین اتار چڑھاوے کے بعد دادو شہر سے اپنے آبائی گاووں کو واپس آئے۔ مقامی ہاری جنگلات، دریا کا اوج، جھنگلی جیوت، پرندون اور جانوروں کے بارے میں بڑوں سے سنی کہانیان سنا رہے تھے۔ فطرت سے نزدیک رہتے ہوئے یہ لوگ ان پرندوں اور جانوروں سے پیار کرتے ہیں اور ان کو نقصان نہیں پنہنچاتے۔ بہرحال، ماوا مٹھائی اور چائے کا ذائقہ تو بھولنے جیسا نہیں تھا۔

ہم اس گاووں کے لوگوں سے باتین کرتے، سنتے وہاں سے نکلے تھے اپنی دوسری منزل گاووں حمزو خشک کی طرف۔ یہاں پانی کم ہونے سے کھیتی پر زیادہ خرچے کا سن کر لگا کہ یہ تو پورے سندھ۔ کا عام مسئلہ ہے۔ دوپہر کے کھانے کا وقت تھا، چاول کی روٹی، ساگ، لسی اور پلاوء۔ روایتی مہمان نوازی کا ان ظاہری مسائل سے کوئی تعلق نہیں۔ ہم وقت کی نزاکت کو سامنے رکھتے ہوئے کئی کہانیان اور فطرت کے مناظر آنکھوں میں سمیٹے واپسی کے لئے نکلے تھے۔ راستہ چل رہا تھا اور ہم دائیں اور بائیں تبدیل ہوتے مناظر کو دیکھتے مہزوز ہوتے جا رہے تھے۔

Check Also

اقوام متحدہ نے تسلیم کیا ہے کہ ہر انسان کو پینے کے صاف پانی کا حق حاصل ہے

پینے کے صاف پانی کا حق اور عالمی قانون

محمد علی شاہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے 28 جولائی 2010ء کو ایک تاریخی …