بدھ , اپریل 24 2019
Home / اہم خبریں / لاڑکانہ میں ریپ کی رائس کانفرنس
ر

لاڑکانہ میں ریپ کی رائس کانفرنس

لاڑکانہ (ضحی’ مرجان) چاول کی صنعت سے وابستہ کاشتکاروں، مل مالکان اور ایکسپورٹرز نے اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ چاول کی پیداوار اور برآمدات بڑھانے کے لیے پانی کے انتظامات کو بہتر بنانا اور جدید زرعی عالات کو بروئے کار لانا ہو گا۔
اس سلسلے میں رائس ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن آف پاکستان (ریپ) کی طرف سے دو روزہ کانفرنس پیر اور منگل کے دن سندھ کے چاول کی پیداوار کے حب لاڑکانہ میں منعقد کی گئی۔ جس میں کاشتکاروں کی تنظیم سندھ چیمبر آف ایگریکلچر، سندھ آباد گار بورڈ اور سندھ و بلوچستان رائس ملرز ٹریڈرز ایسوسی ایشن نے بھی اپنا تعاون پیش کیا۔
کانفرنس کے شرکاء کا خیال تھا کہ جدید طریقہ کار اپنانے سے پیداوار اور معیار بہتر کیا جا سکتا ہے اور دوران کٹائی ضائع ہونے والی فصل کو بچایا جا سکتا ہے۔ لگ بھگ 20 فیصد فصل کٹائی کے غلط طریقے کار کے باعث ضائع ہو جاتی ہے۔ جس سے زرمبادلہ میں خاطر خواہ نقصان ہوتا ہے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ اگر زمین کی سطح لیزر طریقے سے سیدھی رکھی جائے تو اس سے خاصی مقدار میں پانی بچایا جا سکتا ہے۔ گزشتہ ایک دہائی سے پاکستان کی چاول کی برآمدات اندازا دو ارب ڈالر سالانہ کے ارد گرد ہے۔ جس کو بڑہانے کے لئے بیج سے لے کر برآمدات تک جدید طریقہ کار اپنانے کی ضرورت ہے۔ پاکستان کی مجموعی چاول کی پیداوار 74 کروڑ ٹن ہے جس کا 52 فیصد حصہ برآمد کیا جاتا ہے۔ سندھ چیمبر آف ایگریکلچر کے چئیرمن قبول محمد کھٹیان کا کہنا تھا کہ اس سال چاول کی قیمت بہتر ہوئی ہے جبکہ گزشتہ کچھ سالوں میں قیمت کم تھی۔ جبکہ پیداور کی لاگت دن بہ دن بڑہتی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا ہم چین کا طریقہ اپناتے ہوئے ایسے پراڈکٹ تیار کرنے چاہیے جو بآسانی برآمد ہو سکیں۔ انہوں نے کہا کہ اس سال چاول کی کاشت کے دوران صرف 60 دن کے لئے پانی میسر تھا جبکہ کم از کم 120 دن کے لئے پانی کا ہونا لازمی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ چاول اس لیے بھی ضائع ہو جاتے ہیں کیونکہ ملز مالکان پرانی مشینیں استعمال کر رہے ہیں انہوں نے ملز مالکان کو مشورہ دیا کہ وہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے دی جانے والی فیسیلٹی کو بروئے کار لاتے ہوئے فائدہ اٹھائیں اور نئی مشین کا استعمال کریں ۔
ریپ کے چیئرمین صفدر حسین نے کہا کہ برآمدت کنندگان کا زمین پر اگائے جانے والی فصل سے تعلق نہیں ہے لیکن ہم یہ چاہ رہے ہیں کہ ملک میں چاول کی پیداوار اور برآمدات میں اضافہ کیا جائے اس لئے ضروری ہے کہ کاشتکار مل مالکان اور ایکسپورٹرز ایک ہی رخ میں مثبت تبدیلی کے لئے کاوشیں کریں۔ پاکستان میں چاول کی پیداوار بڑھانے کے لیے کئی جگہوں پر انفرادی سطح پر کام ہو رہا ہے جس کو ایک جگہ یکجا کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے تجویز پیش کی کہ اگلے سال ایک مثالی فارم تیار کیا جائے جس شرکاء نے زیادہ پیداوار دینے والے ہائبرڈ بیجوں کا ذکر کیا جبکہ اس پر کسانوں کو کچھ تحفظات تھے۔ کسانوں کا کہنا تھا کہ کوئی بھی یقینی طور پر نہیں کہہ سکتا کہ ہائبرڈ بیجوں کی مختلف اقسام حکومت سے منظور شدہ ہیں۔
کاشتکاروں اور ملز مالکان کا کہنا تھا کہ کمرشل بینک نئے منصوبوں کے لئے قرضے دینے سے انکار کر رہے ہیں۔
ریسرچ کے ماہر ڈاکٹر عمیر کا کہنا تھا کہ کم پانی استعمال کرنے والے چاول کے اجناس کے کاشت کی ضرورت ہے۔ پاکستان میں بارشیں کم ہو رہی ہیں۔ اور اگلے 20 سے 30 سالوں میں ان کی مقدار اور کم ہو جائے گی۔ انہوں نے بتایا کہ 1947 سے لے کر 2018 تک چاول کی کاشت کے رقبے میں ہر سال چار فیصد اضافہ ہوتا ہے جبکہ اس عرصے میں پیداوار میں صرف 13 فیصد اضافہ ہو سکا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ کم معیار کے بیج مارکیٹ میں عام ہیں اور بہت سارے علاقوں میں معیاری بیج میسر نہیں جبکہ زمین کی زرخیزی بھی کم ہوتی جارہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر ملک کے اندر چاول کی کاشت کے موثر طریقے اپنائے گئے تو پانی کی ضروریات کو 40 فیصد سے 60 فیصد تک کم کیا جا سکتا ہے۔
کانفرنس چار نشستوں پر مبنی تھی جس میں کئی پینلسٹ نے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ کانفرنس میں جہاں کاشتکاروں، مل مالکان اور ایکسپورٹرز نے شریک رہےوہیں یونیورسٹی کے طالبعلموں نے بھی بڑی تعداد میں شرکت کی۔ پروگرام کو کامیاب بنانے میں ریپ کی ٹیم کے ساتھ آئی بی اے سکھر کے طالب علموں نے رضاکارانہ طور پر خدمات سر انجام دیں۔

Check Also

وزیر اعظم عمران خان نے گھوٹکی میں کہا ہے کہ وہ آصف زرداری اور شریف برادران کو نہیں چھوڑینگے

آصف زرداری اور شریف برادران کو نہیں چھوڑینگے، عمران خان

گھوٹکی (رپورٹ: شبیر عاربانی) وزیراعظم عمران خان نے کہا ہےکہ آصف زرداری اور شریف برادران …