بدھ , اپریل 24 2019
Home / اہم خبریں / عید چراغاں دیوالی
Diwali

عید چراغاں دیوالی

ضحٰی مرجان

تہوار انسانی زندگی میں مثبت نمایاں کردار ادا کرتے ہیں۔ وہ تہوار ہی ہوتے ہیں جس پر لوگ اپنی تمام تر پریشانیاں اور دکھ بھلا کر خوشیاں منا رہے ہوتے ہیں۔ جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ تہواروں کا انسانی نفسیات پر بہت گہرا اثر ہوتا ہے۔ اسی طرح ہندو دھرم میں بہت سارے تہوار منائے جاتے ہیں۔ ان ہی تہواروں میں سے ایک ہے “دیوالی” جو کہ انتہائی اہمیت کا حامل تہوار ہے جسے روشنیوں کا تہوار بھی کہا جاتا ہے۔ اس کے علاؤہ مختلف زبانوں اور علاقوں میں اسے مختلف ناموں اور مختلف تلفظ سے جانا جاتا ہے۔ جیسا کہ دیپ والی، دیپا والی روشنیوں کا تہوار، عید چراغاں اور سندھی زبان میں اس کو ڈیاری کے نام سے جانا جاتا ہے۔
دیوالی ہندو کیلنڈر کے مطابق کارتک کے مہینے میں منایا جاتا ہے۔جو کہ عیسوی سال کے مہینے اکتوبر کے اختتام اور اور نومبر کی شروعات میں پڑتا ہے۔اس تہوار کے ساتھ ہندو دھرم کی بہت ساری ہندو نامور شخصیات جڑی ہوئی ہیں ۔

Diwali ka diya“دیوالی کیوں منائی جاتی ہے”
1_ہندو دھرم یا سناتن دھرم کی سب سے بڑی اور مقدس دیوی “دیوی لکشمی” کا جنم بھی اسی دن ہوا اس لئے اس دن کو منایا جاتا ہے۔
2_اسی رات “دیوی لکشمی” نے بھگوان وشنو کو بطور شوہر منتخب کیا۔ جس پر تمام دیوتاؤں نے چراغاں کیا اور اس رات جشن منایا۔ جس کی یاد میں دیوالی منائی جاتی ہے۔
3_ایک اور روایت کے موجب وشنو کے تمام اوتار کے حامل شری بھگوان رام نے بھی اسی دن راون کو اس کی لنکا سمیت جلایاتھا۔اور جب وہ لنکا سے واپس پنے شہر ایودھیا پہنچے تو ایودھیا واسیوں نے پورے شہر کو چراغوں سے سجایا اور جشن منایا ۔جس کے بعد دیوالی منانے کی روایت پڑی-(یہ سب سے اہم وجہ ہے دیوالی منانے کی چونکہ سناتن دھرم میں رام کی راون پہ فتح حق کی باطل پہ فتح کے مترادف مانی جاتی ہے)
4_اسی دن پانڈو اپنی بادشاہت میں واپس لوٹے۔
5_اسی دن نرکاسر کا خاتمہ کیا گیا۔
Four religion and one celebration
دیوالی پا چ دنوں کا تہوار ہے۔جو کہ چار مزاہب کی جانب سے موسم بہار میں منایا جاتا ہے۔ اسے four religion and one celebrationکہا جائے تو بے جا نہ ہوگا۔ ہندو ہی نہیں بلکہ سکھ، بدھ، اور جین مذہب کے پیروکار بھی اس دن کو بڑے عقیدت و احترام کے ساتھ پورے جوش و خروش سے مناتے ہیں۔
دیوالی ہندو دھرم کا سب سے بڑا تہوار ہے جس سے سناتن دھرم کے ماننے والے اپنے نئے سال کا آغاز کرتے ہیں۔
دنیا کے مختلف ممالک جہاں ہندو بستے ہیں یہ تہوار منایا جاتا ہے۔اسی طرح پاکستان میں بھی ہندو برادری یہ تہوار مذہبی عقیدت کے ساتھ مناتی ہے۔جس سے یہ بات ظاہر ہوتی ہے کہ پاکستان میں اقلیتوں کو انکے مذہبی تہوار منانے کی مکمل آزادی حاصل ہے۔اور ریاست کی طرف سے انہیں ہر ممکن تحفظ فراہم کیا جاتا ہے۔ ہندوئوں کے مختلف تہواروں بالخصوص دیوالی (چونکہ یہ بڑا تہوار ہے) پر مذہبی عبادت گاہوں پر پولیس کی بھاری نفری انکی حفاظت کے لیے تعینات کی جاتی ہے۔تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے فوری طور پہ نمٹا جا سکے۔ پاکستان میں دیوالی کے دن ہندوئوں کی عام تعطیل ہوتی ہے۔
دیوالی جسے دیپ والی اور عید چراغاں بھی کہا جاتا ہے۔ہر سال بہار کے موسم میں منائی جاتی ہے۔ یہ تہوار ہندو ثقافت کی پہچان ہے۔دیوالی اندھیرے پر اجالے، مایوسی پر اُمید اور برائی پر اچھائی کی فتح کے طور پر منایا جاتا ہے۔ اس تہوار کی تیاریاں نو دن پہلے سے شروع ہو جاتیں ہیں۔ اور رسومات پانچ دن تک جاری رہتی ہیں۔
“دیوالی کے پانچ دن”
پہلا دن دھن تراس۔۔۔۔۔
اس دن گھر، مکان، کوٹھی،کاروبار،دکان،گلی،محلہ، کھیت کھلیان الغرض ہر وہ جگہ جو انسان کے استعمال میں ہو کو پاک صاف کیا جاتا ہے اور خریداری بالخصوص زر ریور اور سونے کی خریداری کی جاتی ہے۔
‘دوسرا دن کالی چودس’
اس کو چھوٹی دیوالی بھی کہتے ہیں۔ اس دن رنگولی سے گھر وں کے آنگن کو سجایا جاتا ہے۔ خواتین بالخصوص بچیاں ہاتھوں پر مہندی لگاتی ہیں۔دیوالی کے لئے مختص کیے گئے میٹھے پکوان بنائے جاتے ہیں۔
‘تیسرا دن دیوالی
یہ دیوالی کا خاص دن ہے ۔ اس دن نئے کپڑے پہنے جاتے ہیں اور غسل کر کے پاک صاف ہوا جاتا ہے۔ دیے جلائے جاتے ہیں چراغاں ہوتا ہے اور پوجا کی جاتی ہے۔
‘چوتھا دن گووردھن پوجا’
یہ دن میاں بیوی کے لئے مخصوص ہے اس دن میاں بیوی ایک دوسرے کو تحفے دیتے ہیں ۔ اور بیوی شوہر کی سلامتی کی دعا مانگتی ہے۔
‘پانچواں دن’
“بھائی دوج”
پانچواں اور آخری دن بھائی دوج یا بھیا دوج کے نام سے منایا جاتا ہے ۔ یہ دن یہ دن بہن بھائی کے لئے مختص کیا گیا ہے۔ یہ تہوار بھی بلکل رکھشا بندھن کے جیسا ہی ہے۔ اس دن بھائی بہن ایک دوسرے کو تحفے اور دعائیں دیتے ہیں۔
دیوالی کی تیاری چونکہ نو دن پہلے سے شروع ہو جاتی ہے۔ لہذا دیوالی سے پہلے سناتن دھرم کو ماننے والے ہندو لوگ گھروں کی تزئین و آرائش، رنگ و روغن، اور مرمت کرواتے ہیں۔ دیوالی کی رات ہندو نئے کپڑے پہنتے ہیں۔ دیے جلاتے ہیں۔ مٹھائیاں تقسیم کرتے ہیں۔ دلفریب رنگولیاں بناتے ہیں۔ یہ ایک تہوار ہونے کے ساتھ ساتھ رسم و روایات کا ایک حسین گلدستہ ہے۔ جو پانچ دن تک جاری رہتا ہے۔
دیوالی کو اگر شاپنگ سیزن کہا جائے تو غلط نہ ہو گا۔چونکہ گھر بار کی ضروری اشیاء زر زیور سونا چاندی اور بہت ساری ضروریات زندگی کی خریداری اسی موقعی پر کی جاتی ہے۔ اس کے ساتھ ہی با حیثیت ہندو دیوالی کے موقعی پر اپنے ملازمین کو بونس بھی دیتے ہیں۔ اور یہ ایک روایت ہے۔ کم تر اور خود سے غریب لوگوں کے حقوق کو خوش اسلوبی سے ادا کیا جاتا ہے۔ یوں تو دیوالی کے حوالے سے سناتن دھرم اور ہندو عقائد میں کئی قصے کہانیاں، قیاس آرائیاں، اور روایات موجود ہیں جس میں سب سے اہم یہ پیغام دینا ہے کہ یہ تہوار یعنی دیوالی برائی پر اچھائی کی جیت کا تہوار ہے

Check Also

تھر کول پاور پروجیکٹ کے تحت سستی ترین بجلی بنے گی

تھر کول پاور پروجیکٹ سے سستی ترین بجلی بنے گی

محمد واحد توانائی بحران سے نمٹنے والے منصوبے تھرکول پاور پروجیکٹ سے بجلی کی پیداوار …