بدھ , اپریل 24 2019
Home / اہم خبریں / سوامی نارائن مندر اور دیوالی کی خوشیاں
Diwali Swami Narayan
Diwali Swami Narayan

سوامی نارائن مندر اور دیوالی کی خوشیاں

ضحیٰ مرجان

دنیا کے ہر مذہب کا تہوار اپنے اندر ایک مثبت سوچ ایک مثبت پیغام رکھتا ہے۔ہندو مذہب میں دیوالی سب سے بڑا تہوار ہے ۔اس لئے اس کو خاص اہمیت حاصل ہے ۔دیوالی ہمت ناہارنے اور اچھائی کی برائی پر فتح کے دن کے طور پر منایا جاتاہے۔رامائن کے مطابق اس دن شر ی رام اپنے بھائی لکشمن اور بیوی سیتا کے ساتھ اس دن 14سال کی جلا وطنی کاٹ کر واپس ایودھیا لوٹے تھے۔جس کی یاد میں یہ دن منایا جاتا ہے۔

پوری دنیا کی طرح سندھ میں بھی دیوالی انتہائی جوش و جذبے کے ساتھ منائی گئی۔دیوالی منانے کے لئے ہندو برادری کی بڑی تعداد نے کراچی کے پرانے اور تاریخی مندر شری سوامی نارائن مندر کا رخ کیا۔ سورج ٗروب ہوتے ہی دیوالی کی تیاریاں شروع ہو چکی تھیں۔

لوگوں کی بڑی تعداد شری سوامی نارائن مندر میں موجود تھی۔دیوالی کی رات ہندو برادری اپنے گھروں اور بالخصوص سوامی نارائن مندر کو قطار در قطار دیوں سے سجایا۔ہر طرف چراغاں مٹی کے جھلملاتے قطار در قطار رکھے دیے ایک خواب ناک اور پر کیف ماحول پیدا کر رہے تھے ۔ پس منظر میں بھجن کی آواز اور آنے والے زائرین کی شردھا(عقیدت ) کے طور پر بجائی جانے والی گھنٹیوں کی آواز اگر بتی اور گلاب کی ملی جلی خوشبو اور دیوں کا دھواں جس سے مسرور و مسحور کن کیفیت حواسوں پر چھا رہی تھی۔

بتاشے ، کھانڈ، کھیر اور انواع و اقسام کی مٹھائیاں پرساد کے طور پر تقسیم کی جارہی تھیں۔ بچے بڑے بوڑہے مرد و زن غرض کہ ہر چہرہ خوشی سے تمتما رہا تھا۔ عبادات کا سلسلہ بھی جاری تھا ۔ جوق در جوق لوگ ٓرہے تھے اور مختلف انداز سے اپنی عقیدت کا اظہار کر رہے تھے۔ جہاں ماتھا ٹیکنے،بھجن گانے ، پرساد تقسیم کیے جا رہے تھے پوجا پاٹ ہو رہا تھا ۔ وہیں سوامی نارائن کے احاطے میں رہنے والے خاندان بالخصوص خواتین رنگولی بنانے اور دیے جلانے میں مصروف اور بچے پٹاخے پھوڑنے اور پھلجھڑیاں جلا نے میں مشغول اپنی خوشی کا اظہار کر رہے تھے۔

دنیا کا ہر مذہب اتحا د ، ایثار ، اتفاق اور ہم آہنگی کا درس دیتا ہے۔ دیوالی کی رات پاکستان کی سب سے بڑی اقلیت ہندو برادری اپنا مذہبی تہوار پوری آزادی کے ساتھ منا رہی تھی ۔ ان کو تحفظ دینے اور کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے فوری طور نمٹنے کیلئے پولیس کی بھاری نفری سوامی نرائن مندر کے گیٹ پر موجود تھی۔ ہندوؤں کے ساتھ مسلمانوں کی بڑی تعداد بھی مندر میں موجود تھی ۔جو اپنے ہم وطنوں کی خوشی میں شامل ہو کر مذہبی ہم آہنگی اور قومی وحدت کو فروغ دینے کے لئے وہاں آئے تھے۔ان کا جوش بھی دیکھنے سے تعلق رکھتا تھا۔ اس موقعی پر مندر آنے والے سعید بلوچ کا کہنا تھا کہ ہم پاکستان میں برداشت ، رواداری،مذہبی ہم آہنگی، محبت اور امن کا پر چار کرنے آئے ہیں ۔

راحیل نے اس موقعے پر کہا کہ میں یہاں دوریاں مٹانے اور محبت کے فروغ کے لئے اپنے دوستوں کے ساتھ یہاں آیا ہوں ۔ انہوں نے مزید کہا کہ جس طرح ہم مسلمانوں کو اپنے مذہبی تہوار منانے کی پوری آزادی اور تحفظ حاصل ہے اسی طرح اقلیتوں کے بھی تما م حقوق مساوی ہیں ۔

دیوالی کی رات سوامی نارئن کی گہماگہمی ،روشنیاں ،پوجا پاٹ کے ساتھ لوگوں نے اپنے گھروں کی دلفریب انداز سے تزئین و آرائش اور رنگ و روغن کا خاص انتظام کیا وہیں انہوں نے خوبصورت زرق برق لباس زیب تن کیا ہوا تھا۔ہر طرف خوشیوں کا سماں تھا۔اس موقعی پر جوتی مہیشوری نے بتایا کہ دیوالی روشنیوں اور خوشیوں کا تہوار ہے اس دن شری رام 14 سال کی بن واس( جلا وطنی ) کاٹ کر اپنے شہر ایودھیا لوٹے۔

انہوں نے بتایا کہ اس موقعی پر دوست احباب آپس میں تحفے تحائف کا تبادلہ کرتے ہیں ،سارے گھر والے مل کر عبادت کرتے ہیں۔گھروں میں انواع و اقسام کے طعام اور مٹھائیاں بنائی جاتی ہیں ۔انہوں نے کہا کہ یہ تہوار بدی پر اچھائی کی جیت کا تہوار ہے۔

اس موقعے پر گوندا کھتری نے بتایا کہ دیوالی منانے کے پیچھے جو تاریخ ہے اس سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ ہمیں شری رام کی طرح ثابت قدم رہنا چاہیے اور کبھی بھی برائی کے آگے گھٹنے نہیں ٹیکنے چاہیے ۔ اور فتح آخر سچائی کی ہی ہو گی۔ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ مجھے یہ دیکھ کر بہت خوشی ہو رہی ہے کہ ہمارے مسلمان بھائی بھی ہماری خوشیوں میں ہمارے ساتھ ہیں اور وہ بھی ہمارے ساتھ دیوالی منا رہے ہیں۔

اس بات کا پرچار کرنیکی بھی انتہائی ضرورت ہے کہ قائد کے پاکستان میں ہر شہری کو مذہبی آزادی کی فراہمی کو یقینی بنانا ہمارا قومی فریضہ ہے۔ قیام پاکستان کا مقصد ہی ایک پر امن معاصرے کو پروان چڑھاناتھا ۔ جہاں اکثریت و اقلیت کو بنا کسی تفریق کے مساوی حقوق حاصل ہوں ۔یہ تہوار اس بات پر کڑی مہر سبط کرتا ہے کہ حق کو چاہے کتنی ہی مشکلات کا سامنا کرنا پڑے اور باطل چاہے کتنا ہی طاقتور کیوں نا ہو لیکن آخر میں جیت ہمیشہ حق کی ہوتی ہے ۔حق کا سفر دشوار اور منزل کٹھن ہی صحیح لیکن حق کا راہی کبھی بے ثمر نہیں رہتا۔

زندگی کی دوڑ میں جدوجہد خالق حقیقی کی ذات پر پختہ ایمان اور اس کی رحمت سے مایوس ناں ہونے والے ہی زندگی کی جنگ میں فتح یاب ہوتے ہیں اس لئے امید کا دیا ہمیشہ جلائے رکھنا چاہیے۔

Check Also

ذولفقارعلی بھٹو ایک تاریخ ساز شخصیت

ذولفقارعلی بھٹو ایک تاریخ ساز شخصیت

ضحیٰ مرجان ذولفقارعلی بھٹو ایک تاریخ ساز شخصیت ہیں۔ پیپلز پارٹی کے جیالوں کی تاریخ …