بدھ , اپریل 24 2019
Home / کالمز / آج کے کالمز / ذولفقارعلی بھٹو ایک تاریخ ساز شخصیت
ذولفقارعلی بھٹو ایک تاریخ ساز شخصیت
ذولفقارعلی بھٹو ایک تاریخ ساز شخصیت

ذولفقارعلی بھٹو ایک تاریخ ساز شخصیت

ضحیٰ مرجان

ذولفقارعلی بھٹو ایک تاریخ ساز شخصیت ہیں۔ پیپلز پارٹی کے جیالوں کی تاریخ انمول قربانیوں کی کہانی ہے. یہ یا تو جنم دن مناتے ہیں یا پھر سوگ کے۔ شاید ہی پاکستان کی کسی اور سیاسی پارٹی کے لیڈر کی برسی اس عقیدت واحترام کے ساتھ منائی جاتی ہو جس طرح شہید زوالفقار علی بھٹو کی منائی جاتی ہے۔

 

 

 

ذوالفقار علی بھٹو 5 جنوری انیس سو اٹھائیس کو سر شاہنواز بھٹو خورشید بیگم کے ہاں پیدا ہو پیدا ہوئے۔ بچپن سے امارات اور غربت کی امتزاج کے ساتھ جوان ہونے والے بھٹو کے بارے میں جتنا لکھا گیا ہے شاید ہی کسی اور لیڈر کے بارے میں اتنا لکھا گیا ہو۔ قائد اعظم محمد علی جناح کے بعد بھٹو وہ سیاسی لیڈر ہیں جن کو پاکستان اور باہر کی دنیا میں اتنا سراہا گیا۔ ذوالفقار علی بھٹو کے 51 سالوں پر مشتمل زندگی پر جتنا لکھا گیا ہے جس قدر تاریخی تصاویر کا خزانہ ہے وہ پاکستان کے کسی لیڈر کی قسمت نہ ہوا۔

میں تاریخ میں مرجانے کے بجائے ایک آمر کے ہاتھوں مرنے کو ترجیح دوں گا پہلا لیڈر جو آمریت کے خلاف کھڑا ہوا اور اس نے آمریت کے خلاف جنگ لڑتے لڑتے اپنی جان کی بازی لگا دی۔

تقریبا سوا سال تک شہید ذوالفقار علی بھٹو کو جیل کی تاریخ کال کوٹھڑی میں رکھا گیا. بھٹو جان گئے تھے کہ ان کا آخری سفر کال کوٹھڑی سے پھانسی گھاٹ ہے لیکن اپنے اصولوں پر ڈٹے رہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ لوگ میرا قتل کریں گے، اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا لیکن تم یا کوئی اور کوئی ثبوت لاؤ یا نہ لاؤ یہ لوگ میرا قتل کریں گے ہی. یہ سزا مجھے اس گناہ کی پاداش میں ملے گی جو میں نے نہیں کیا۔

ایک ایسے رجیم جو کہ آئین کو معطل کرکے یا ختم کر کے ملک کو چلانے کی کوشش کرے اس کو قانون کا لفظ کہنے میں شرم محسوس کرنی چاہیے. اگر مجھے قتل کیا گیا، اگر لوگوں کو میرا سر چاہیے تو میں کسی تحمل کے بغیر دوں گا. اگر میں عزت کھو چکا ہوں تو میں جینا نہیں چاہوں گا. لیکن افسوس اس بات کا ہے کہ حقیقت اس کے بالکل مترادف ہے. انہوں نے خط بنام یحییٰ بختیار لکھا کہ طاقت کا سرچشمہ عوام ہیں. میں صوفی نہیں ہوں لیکن گنہگار بھی نہیں جو یہ لوگ مجھے ثابت کرنا چاہتے ہیں۔

ان سب کے باوجود ایسا کیا تھا کہ غریب لوگ آج بھی بھٹو کا نام لیتے ہیں اور دیوانے ہو جاتے ہیں. کہتے ہیں کہ جب تک غریب کی چھت ٹپکتی رہے گی بھٹو کا نام زندہ رہے گا، کیونکہ وہی لیڈر تھے جنہوں نے غریب کے لئے روٹی کپڑا اور مکان کا منشور دیا. غریب بھائیوں کو زمین کے مالکانہ حقوق دیئے اور مسلم امہ کو متحد کیا. پاکستان کو انیس سو تہتر کا آئین دے کر مضبوط کیا اور ایٹمی طاقت بنا کر دنیا کی سپر پاورز کے مدمقابل کھڑا کیا. لوگ آج بھی بھٹو کے بعد بینظیر اور پھر بے نظیر شہید کے بعد بلاول بھٹو کو کیوں دیکھنا چاہتے ہیں اس لئے کیونکہ نوجوان نسل کو جس تبدیلی کے خواب دکھائے جارہے تھے وہ شرمندہ تعبیر نہیں ہو پا رہی۔

ذولفقارعلی بھٹو ایک تاریخ ساز شخصیت ہیں۔ جب قائد عوام ذوالفقار علی بھٹو نے جلا وطن ہونے کے بجائے سولی پر چڑھ جانے کو ترجیح دی، تبدیلی اس وقت آئی تھی جب بے نظیر بھٹو شہید مسلمان ممالک میں کم عمر خاتون وزیراعظم بنی اور پھر یہ جانتے ہوئے کہ انکی جان کو دہشت گردی سے شدید خطرہ ہے وہ پاکستان تشریف لائیں. تبدیلی اسی دن آگئی تھی لیکن شومئی قسمت کے بی بی شہید کو ظالموں نے اجل کے حوالے کر دیا اور اب ملک میں مثبت تبدیلی اور ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنے کا بیڑہ بلاول بھٹو نے اپنے کاندھوں پر اٹھایا ہے۔

میں آج کے دن خراج تحسین پیش کرتی ہوں جنہوں نے آمریت کے دور میں کوڑے کھائے جیل میں قید و بند کی صعوبتیں برداشت کیں ان کے پیاروں کو پھانسی پر لٹکایا گیا، ان تمام لوگوں کو جو کہ اٹھارہ اکتوبر کو کراچی میں شہید ہوئے اور وہ جیالے جو پابہ رکاب بینظیر بھٹو کے ساتھ راولپنڈی میں شہید ہوئے اور پاکستان پیپلز پارٹی کی تاریخ وہ تاریخ ہے جو کسی سونامی سے نہ مٹائی جا سکے گی اور انشا اللہ پیپلز پارٹی کو ختم کرنے والوں کے خواب بھی شرمندہ تعبیر نہ ہوں گے.

Check Also

اقوام متحدہ نے تسلیم کیا ہے کہ ہر انسان کو پینے کے صاف پانی کا حق حاصل ہے

پینے کے صاف پانی کا حق اور عالمی قانون

محمد علی شاہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے 28 جولائی 2010ء کو ایک تاریخی …