جمعہ , مئی 24 2019
Home / کالمز / آج کے کالمز / دریائے سندھ کو انسان ذات کی قانونی حیثیت دی جائے
دریاءے سندھ پر موجود سکھر بءراج کا منظر
دریاءے سندھ پر موجود سکھر بءراج کا منظر

دریائے سندھ کو انسان ذات کی قانونی حیثیت دی جائے

محمد علی شاہ

دنیا میں چھوٹے بڑے ہزاروں دریاء ہیں، لیکن ایک ہزار کلومیٹر سے طویل دریاء تقریباً 292 اس دھرتی پر موجود ہیں، جن میں سے اب صرف 21 دریاء ایسے ہیں جو اپنی آخری منزل تک یعنی سمندر تک پہنچ سکتے ہیں، باقی تمام دریاء ڈیم تعمیر ہونے کی وجہ سے اپنا قدرتی بہاؤ کھوچکے ہیں۔

دنیا بھر میں ریاستوں، حکومتوں اور عالمی مالیاتی اداروں نے ترقی کے نام پر ڈیم تعمیر کئے، دریاؤں کے رخ تبدیل کئے، پانی اور دریاؤں کی ماحولیات تباہ کی، زراعت کو ترقی یافتہ بنانے کیلئے آبپاشی نظام لایا گیا، جس کے ذریعے حد سے زائد آبپاشی کی گئی اور بجلی پیدا کرنے کے بہانے ہائڈرو پروجیکٹس لگائے گئے۔

دیکھا جائے تو ڈیموں کا شکار عام طور پر سب سے پسماندہ غریب کسان، ماہی گیر اور علاقہ کے اصل مکین ہوتے ہیں، نہ صرف یہ بلکہ ان کی ثقافت پر بھی اثرات مرتب ہوتے ہیں اور بڑی بیماریوں و دیگر نفسیاتی مسائل کا شکار ہوجاتے ہیں۔ دوسری جانب قدیمی لوگ دنیا بھر میں دریاؤں اور پانی کو بچانے اور اس کے فطری بہاؤ کو بحال رکھنے کیلئے مسلسل جدوجہد کر رہے ہیں، جس کے نتیجے میں کامیابیوں کی کرن بھی نظر آ رہی ہے، جس کی میری نظر میں دو اہم مثال ہیں، جن کا ذکر میں اپنے اس مضمون میں کروں گا۔

اس سلسلے میں سب سے پہلے میں آپ کو بتانا چاہتا ہوں کہ مارچ 2017ء میں دو اہم خبریں اور معلومات میری نظر سے گذریں، جس نے مجھے حقیقت میں بہت زیادہ متاثر اور حیران کیا ہے، جو میں آپ سے اس اس امید کے ساتھ شیئر کرنا چاہتا ہوں کہ ہمارے باشعور لوگ، ادیب اور دانشور، سول سوسائٹی، قانوندان اور ماحولیاتی ماہرین اس معلومات پر غور فرما کر دریائے سندھ کی زندگی بچانے کیلئے اپنا کردار ادا کریں۔

اس معلومات کے سلسلے میں ایک تو 15 مارچ 2017 کو نیوزی لینڈ کی حکومت نے وینگنوئی دریاء کے حوالے سے ایک اہم اور تاریخی فیصلہ کیا، جس کے مطابق ماؤری قبیلے کے لوگوں کا ان کے دریاء پر ان کے تاریخی حق کو قانونی طور تسلیم کیا گیا۔ اس کے علاوہ ان کے آباؤ اجداد کا دریاء سے صدیوں کا تعلق کو بھی تسلیم کیا ہے۔ اس سلسلے میں نیوزی لینڈ کی حکومت ’’وینگنوئی ریور کلیمس سٹلمنٹ بل‘‘ پاس کیا ہے، جس کے ذریعے وینگنوئی دریاء کو ’’انسان ذات‘‘ (Personhood) کی قانونی حیثیت دی گئی ہے، جس کا مطلب بالکل ایسے ہوگا کہ ایک انسان جو کسی بھی ملک میں رہائش پذیر ہے، اسے جو انسان ذات کے قانونی حقوق حاصل ہوتے ہیں وہی قانونی حقوق حکومت نے وینگنوئی دریاء کو بھی دیئے ہیں۔

میں وضاحت کرتا چلوں کہ مذکورہ دریاء نیوزی لینڈ کے شمالی جذیرے میں ایک بہت بڑا دریاء ہے، جو نیوزی لینڈ کے تمام شمالی جزیرے میں ہی بہتا ہے۔ اس دریاء کو ’’انسان ذات کی قانونی حیثیت کی تمام ذمہ داریاں، تمام حقوق، اختیارات اور فرض‘‘ کے طور پر تسلیم کیا گیا ہے۔

نیوزی لینڈ میں وینگنوئی دریاء کو انسان ذات کی قانونی حیثیت دینے کے بعد چیزیں کافی بہتری کی طرف بڑھ رہی ہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ مارچ 2017 میں دنیا کا یہ پہلا فطرت کے حق کیلئے قانون پاس ہوا، جس کی وجہ سے وینگنوئی دریاء کو انسان ذات کی قانونی حیثیت دی گئی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ عدالتی قانون میں وینگنوئی دریاء انسان ذات کی حیثیت میں کام کر سکتا ہے اور وینگنوئی دریاء کا یہ قانونی حق ہوگا۔ اس کے علاوہ نیوزی لینڈ کی حکومت نے قانونی طریقے سے دریاء کے نمائندے بھی مقرر کئے ہیں، جس کیلئے ایک کمیٹی تشکیل دی گئی، جو ماؤری قبیلے کے مقامی افراد پر مشتمل ہے، جنہوں نے دریاء کے حق کیلئے 150 سال مسلسل لڑائی لڑی تھی۔ اس کے علاوہ کمیٹی میں حکومت کے نمائندے بھی شامل ہوں گے۔

میرے خیال میں نیوزی لینڈ حکومت کا یہ فیصلہ ہم سندھ کے عوام کیلئے بہت زیادہ دلچسپ اور قابل غور ہے۔

اسی قسم کا ایک اور فیصلہ ہمارے ہمسایہ ملک بھارت کی ریاست اترکند کی ہائی کورٹ کی طرف سے 20 مارچ 2017ء کو کیا گیا، جس میں گنگا، یمنا اور ان سے وابستہ تمام ندیوں اور قدرتی پانی کے وقتی طور پر یا مسلسل بہنے والے بہاؤ کو ’’انسان ذات‘‘ کی قانونی حیثیت دی گئی ہے، جس کے مطابق مندرجہ بالا قدرتی پانی کے بہاؤ کو انسان ذات کے تمام وابستہ حقوق، فرض اور ذمہ داریاں دی گئی ہیں۔

حقیقت میں اترکند ہائی کورٹ، نیوزی لینڈ کورٹ کی طرف سے وینگنوئی ندی کو ’’انسان ذات‘‘ کی قانونی حیثیت دینے کے تاریخی حکم کی پیروی کی گئی تھی۔ انڈیا کے عدالتی فیصلے کے مقابلے میں نیوزی لینڈ کا عدالتی حکم، نیوزی لینڈ کی سب سے بڑی قانونی جنگ کا اختتام تھا۔

سندھ جو دریاؤں کے دیس کے طور پر پہچانا جاتا تھا، آج وہ دیس ویران صحرا کی طرح لگ رہا ہے۔ میں سندھ کے عوام کو بتانا چاہتا ہوں کہ پاکستان کی ریاست اور حکمران دریائے سندھ کے فطرتی بہاؤ کو ڈیموں اور بیراجوں کے پیچھے قید کر کے دریائے سندھ کو خشک کر کے موت کے قریب پہنچا دیا ہے، جس کے نتیجے میں سندھ کے روایتی اور مقامی زراعت تباہ ہوگئی ہے۔

اس کے علاوہ دریائے سندھ اپنی آخری منزل سمندر تک نہ پہنچنے کی وجہ سے دریاء کی ماحولیات اور زندگی تباہ ہوچکی ہے۔ اس کے علاوہ دریائے سندھ کے کناروں اور ڈیلٹائی علاقے کی زراعت، ماہی گیری اور تمر کے جنگلات بھی تباہ ہوگئے ہیں۔ یہ تمام مسائل دریائے سندھ کے بالائی علاقے میں ڈیم، کینال اور بیراج تعمیر ہونے کی وجہ سے پیدا ہوئے ہیں۔

آخر میں ، میں ملک کے تمام باشعور حلقوں اور سول سوسائٹی کو تجویز پیش کروں گا کہ مندرجہ بالا ذکر کئے گئے دریاؤں اور ان سے وابستہ زندگیوں کو بچانے کے حوالے سے دنیا بھر میں جو کامیابیاں حاصل ہوئی ہیں خاص طور پر نیوزی لینڈ میں وینگنوئی دریاء اور انڈیا میں گنگا اور یمنا کو عدالتی حکم کے ذریعے جو انسان ذات کی قانونی حیثیت ملی ہے اس سے اتساہ حاصل کریں اور ہم بھی دریائے سندھ کو انسان ذات کی قانونی حیثیت حاصل کرانے کیلئے قانونی جنگ لڑیں تاکہ دریائے سندھ کا فطری بہاؤ بحال ہوسکے اور دریائے سندھ اپنی آخر منزل سمندر تک بغیر کسی رکاوٹ کے پہنچ سکے۔

Check Also

ذولفقارعلی بھٹو ایک تاریخ ساز شخصیت

ذولفقارعلی بھٹو ایک تاریخ ساز شخصیت

ضحیٰ مرجان ذولفقارعلی بھٹو ایک تاریخ ساز شخصیت ہیں۔ پیپلز پارٹی کے جیالوں کی تاریخ …

One comment

  1. What a brillant article I will research about it more InshaAllah.