بدھ , اپریل 24 2019
Home / کالمز / آج کے کالمز / تھر کول پاور پروجیکٹ سے سستی ترین بجلی بنے گی
تھر کول پاور پروجیکٹ کے تحت سستی ترین بجلی بنے گی
تھر کول پاور پروجیکٹ کے تحت سستی ترین بجلی بنے گی

تھر کول پاور پروجیکٹ سے سستی ترین بجلی بنے گی

محمد واحد

توانائی بحران سے نمٹنے والے منصوبے تھرکول پاور پروجیکٹ سے بجلی کی پیداوار شروع ہوگئی ہے۔ تھر کول پاور پروجیکٹ سے سستی ترین بجلی بنے گی. تھرپارکر بلاک 2 میں واقع اینگرو پاورجین تھر لمیٹڈ کے 660 میگاواٹ پلانٹ کے پہلے یونٹ سے 330 میگاواٹ کی پروڈکشن کا آغاز ہوگیا ہے اور اس کو آزمائشی طور پر نیشنل گرڈ سے منسلک بھی کردیا گیا ہے۔ دوسرا یونٹ 330 میگاواٹ کی پروڈکشن جلد شروع کردے گا۔

 

 

 

کمرشل بنیادوں پر بجلی کی فراہمی کا آغاز رواں سال جون میں ہوگا، اُس وقت تک دونوں پاور پلانٹ مکمل صلاحیت کے مطابق کام کرنا بھی شروع کردیں گے۔ اینگرو پاورجین تھر لمیٹڈ کے پلانٹ پر کام کا آغاز پاک چین اقتصادی راہداری (سی پیک) کے تحت اپریل 2016 میں شروع کیا گیا تھا۔ پلانٹ کو دسمبر 2018 میں فعال ہونا تھا، لیکن کراچی میں چینی قونصلیٹ پر حملے کے باعث منصوبہ تاخیر کا شکار ہوگیا۔

تھر کول پاور پروجیکٹ پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا پبلک پرائیویٹ منصوبہ ہے جو سی پیک کے اندر ہونے کے باوجود پاکستانیوں کی ملکیت ہے۔ منصوبے میں دو کمپنیاں مل کر کام کررہی ہیں۔ ایک مائنی اور ایک بجلی کی کمپنی۔ سندھ اینگرو کول مائننگ کمپنی (ایس ای سی ایم سی) کھدائی کرکے کوئلہ نکال رہی ہے، جبکہ اینگرو پاور جین تھر لمیٹڈ (ای پی ٹی ایل) کوئلے سے بجلی بنارہی ہے۔

مائن پروجیکٹ میں چینیوں کا حصہ صرف 4 فیصد ہے جبکہ پاور پروجیکٹ میں چینی 35 فیصد کے حصہ دار ہیں۔ 2 ارب ڈالرز کے اس منصوبے میں سندھ حکومت کا شیئر 54 فیصد ہے جبکہ پروجیکٹ میں شامل بقیہ 6 کمپنیاں 46 فیصد کی حصے دار ہیں۔ کول پاور پروجیکٹ میں 845 ملین ڈالرز کی سرمایہ کاری کوئلہ نکالنے پر جبکہ 1.1 ارب ڈالرز پاور پلانٹ پر کی گئی ہے۔

تھر میں موجود کوئلے کے ذخائر دنیا کا چوتھا بڑا ذخیرہ ہے۔ راجستھان اور تھر میں جو کوئلہ موجود ہے، اس کا صرف 10 فیصد بھارت کے پاس، جبکہ 90 فیصد پاکستان میں ہے۔ بھارت نے 1948ء میں ہی راجستھان سے کوئلہ نکالنا شروع کردیا تھا اور پاور پروڈکشن کے لیے وہاں 8 پلانٹس لگائے گئے تھے۔ راجستھان میں موجود کوئلے کے ذخائر اب ختم ہوچکے ہیں اور پاور پلانٹ چلانے کے لیے بھارت کوئلہ درآمد کررہا ہے۔

تھر میں لیگنائیڈ کول ہے جو دنیا میں موجود کوئلے ہی کی طرح اور بجلی بنانے کے قابل ہے۔ اس میں 48 فیصد پانی ہے۔ اگر تھرکول سے پانی نکال دیا جائے تو اس کی ٹرانسپورٹیشن کی جاسکتی ہے۔ لکی سیمنٹ پورٹ قاسم، کراچی میں 660 میگاواٹ کا کول پاور پلانٹ لگارہی ہے۔ اس میں 80 فیصد کوئلہ تھر کا اور 20 فیصد امپورٹڈ کول استعمال ہوگا۔

ایس ای سی ایم سی تھر بلاک ٹو میں کام کررہی ہے۔ کمپنی کو یہ علاقہ 60 سال کے لیے لیز پر فراہم کیا گیا ہے۔ تھر بلاک II میں بھورے کوئلے کے 2.039 ارب ٹن کے ذخائر ہیں جن میں سے 1.57 ارب ٹن کی کان کنی کی جاسکتی ہے۔

تھر میں سعودی عرب اور ایران کی تیل انرجی کے برابر کوئلے کی توانائی ہے۔ منصوبے کے تحت کان کنی کی مجموعی صلاحیت 20.6 میٹرک ٹن ہوگی جسے 30.4 میٹرک ٹن تک توسیع دی جاسکے گی جبکہ توانائی کی پیداوار کی صلاحیت مکمل استعداد کے مطابق 3 ہزار 960 میگا واٹ تک ہوگی۔

کان کنی کے منصوبے کو 5 مرحلوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ پہلا مرحلہ جون 2019 میں مکمل ہوجائے گا۔ کول مائن کو 3.8 میٹرک ٹن سالانہ کی استعداد کے مطابق تیار کیا گیا ہے جس سے 330، 330 میگاواٹ کے دو پاور پلانٹ چلیں گے۔ دوسرے مرحلے میں کول مائن کو 7.6 میٹرک ٹن سالانہ تک توسیع دی جائے گا اور 330 میگا واٹ کے مزید دو پاور پلانٹس کی توانائی کو نیشنل گرڈ میں شامل کیا جائے گا۔

تیسرے مرحلے میں مائن کو 15.2 میٹرک ٹن سالانہ پھیلایا جائے گا جس سے ایک ہزار 320 میگاواٹ کی پروڈکشن ہوگی۔ چوتھے مرحلے میں کول مائن کو 22.8 میٹرک ٹن سالانہ توسیع دی جائے گی اور اس سے ایک ہزار 320 میگا واٹ بجلی پیدا ہو سکے گی۔ پانچویں اور آخری مرحلے میں کان کنی کو اس کی مکمل استعداد کار کے مطابق 30.4 میٹرک ٹن سالانہ تک پھیلادیا جائے گا جس سے مزید ایک ہزار 320 میگا واٹ بجلی سسٹم میں شامل ہوگی۔ اس طرح تھر کول بلاک II سے پیدا ہونے والی بجلی کی مجموعی پیداوار 5 ہزار میگاواٹ ہوجائے گی۔ کول مائننگ کے ساتھ ہر سال 660 میگاواٹ کے پاور پلانٹ کا اضافہ ہوتا رہے گا اور یہ اضافہ اُس وقت تک ہوگا جب تک 4000 میگاواٹ کی پیداوار حاصل نہیں ہوجاتی۔ مجموعی طور پر منصوبہ 5000 میگا واٹ کا ہے۔تیسرے مرحلے میں مائن کو 15.2 میٹرک ٹن سالانہ پھیلایا جائے گا جس سے ایک ہزار 320 میگاواٹ کی پروڈکشن ہوگی۔ چوتھے مرحلے میں کول مائن کو 22.8 میٹرک ٹن سالانہ توسیع دی جائے گی اور اس سے ایک ہزار 320 میگا واٹ بجلی پیدا ہو سکے گی۔ پانچویں اور آخری مرحلے میں کان کنی کو اس کی مکمل استعداد کار کے مطابق 30.4 میٹرک ٹن سالانہ تک پھیلادیا جائے گا جس سے مزید ایک ہزار 320 میگا واٹ بجلی سسٹم میں شامل ہوگی۔ اس طرح تھر کول بلاک II سے پیدا ہونے والی بجلی کی مجموعی پیداوار 5 ہزار میگاواٹ ہوجائے گی۔ کول مائننگ کے ساتھ ہر سال 660 میگاواٹ کے پاور پلانٹ کا اضافہ ہوتا رہے گا اور یہ اضافہ اُس وقت تک ہوگا جب تک 4000 میگاواٹ کی پیداوار حاصل نہیں ہوجاتی۔ مجموعی طور پر منصوبہ 5000 میگا واٹ کا ہے۔

تھر بلاک II میں مائننگ کے دوران پانی کی تین تہیں نکلیں۔ پانی کی ان تہوں کو کوئلہ نکالنے سے قبل 29 جدید ٹیوب ویل کے ذریعے نکال لیا گیا۔ تھرپارکر میں موجود کوئلے کے ذخائر میں درآمدی کوئلے کے مقابلے میں بجلی کی پیداواری صلاحیت کم ہے لیکن اتنی ہی کم انرجی کا کوئلہ یورپ و دنیا کے دیگر ممالک میں بھی استعمال کیا جارہا ہے۔

کوئلہ سستا ہونے کی وجہ سے اس سے بننے والی بجلی پاکستان کی سستی ترین بجلی ہوگی۔ تھر کول پاور پروجیکٹ جب مکمل ہوگا یعنی 4 ہزار میگاواٹ تک پہنچ جائے گا تو اُس وقت ایک یونٹ بجلی بنانے میں 5 سے 6 سینٹ یعنی پاکستانی کرنسی کی موجودہ قدر کے مطابق تقریباً ساڑھے 8 روپے فی یونٹ خرچ آئے گا۔

پاور پروڈکشن کے دوران کوئلے کے جلنے سے جو دھواں (کاربن) پیدا ہوگا اس کے خاتمے کے لیے عالمی سطح پر تسلیم شدہ کلیئر فائر کنڈینسنگ بوائلر (CFB) لگایا گیا ہے۔ جنرل الیکٹرک سے بنوائے گئے اس بوائلر سے ماحولیاتی آلودگی کم سے کم ہوگی۔ بوائلر کی اونچائی بھی عام بوائلر سے زیادہ ہے۔ کوئلے کی راکھ سیمنٹ بنانے کے کام آسکتی ہے اس حوالے سے مختلف کمپنیوں سے بات چیت جاری ہے۔

کول مائننگ اور پاور پروڈکشن منصوبے میں مجموعی طور پر 7000 ورکرز کام کررہے ہیں، جن میں 3500 پاکستانی اور اتنے ہی چینی ہیں۔ پاکستانی ورکرز میں 75 فیصد مقامی یعنی تھر کے لوگ ہیں۔ مجموعی طور پر پروجیکٹ میں 12 ہزار ورکرز کی گنجائش ہے۔

تھر کول پاور پروجیکٹ کی خاص بات مقامی افراد کی اس میں حصے داری ہے۔ منصوبے کے 3 فیصد شیئرز مقامی افراد کو دیے گئے ہیں، جن سے ہر فیملی کو سالانہ ایک لاکھ روپے آمدن ہوگی۔ پروجیکٹ سے متاثرہ افراد کے لیے ماڈل ولیج بنایا گیا ہے۔ اس ولیج میں ہر فیملی کے لیے ایک گھر ہوگا۔ ہر شادی شدہ جوڑا ایک فیملی ہے اور یہاں ایسے 750 خاندان ہیں جنہیں 1100 گز پر گھر بناکر دیے جائیں گے۔

پروجیکٹ میں 40 خواتین بھی کام کررہی ہیں، جن میں 36 مقامی ہیں۔ ان خواتین میں 28 ڈرائیورز ہیں جو ڈمپر چلارہی ہیں۔ تھر کول فیلڈ سے نکلنے والے پانی کو زراعت اور فشنگ کے لیے استعمال کیا جارہا ہے۔ گرین تھر پروجیکٹ کے تحت لگائے جانے والے 10 لاکھ پودے اسی پانی سے لگائے جارہے ہیں۔ تھرکول فیلڈ کے پانی کو پروجیکٹ سے تھوڑے فاصلے پر گوڑانو میں جمع کیا جارہا ہے۔ اس بائیو سیلین پانی میں مچھلی کی فارمنگ کا تجربہ کامیاب رہا ہے اور ہزاروں مچھلیاں تھر کول فیلڈ پانی میں تیزی سے نشوونما پارہی ہیں۔ خشک سالی کے شکار سندھ کے ضلع تھرپارکر میں 220 میٹر گہرائی پر 90 ارب کیوبک میٹر پانی موجود ہے۔ اگر اس پانی کو قابل استعمال بنایا جائے تو تھرپارکر میں خشک سالی کا خاتمہ ہوسکتا ہے.

Check Also

آسٹریلیا نے پاکستان کو 0-5 سے وائٹ واش کردیا

محمد واحد آسٹریلیا نے پاکستان کو 0-5 سے وائٹ واش کردیا. ورلڈکپ سے قبل اہم …