بدھ , اپریل 24 2019
Home / اہم خبریں / بے حس معاشرے میں بے بس کاملانی کی کہانی

بے حس معاشرے میں بے بس کاملانی کی کہانی

ضحیٰ مرجان

معاشرے کی تکالیف کو سمجھنا، انسانیت کا درد محسوس کرنا اور اس پر قلم اٹھانا کوئی چھوٹی بات نہیں اور نہ ہی قلم کار ہونا ہر ایک کے بس کا کام ہے۔ احساسات کو سمجھنے والے یہ لوگ انتہائی حساس ہونے کے ساتھ نایاب ہوتے جا رہے ہیں۔ لوگوں کا کتابیں پڑہنے کی طرف رجحان کم ہونے کے باعث کتب نویسی جہاں بری طرح متاثر ہو رہی ہے وہیں قلم کار بھی کسمپرسی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔

سندھ کے شہر سجاول سے تعلق رکھنے والے مشتاق کاملانی بھی اسی حساس قبیلے سے تعلق رکھتے ہیں جو نامور ادیب، دانشور، کہانی نویس اور شاعر ہونے کے ساتھ ماہر لسانیات بھی ہیں۔ سندھی، اردو، فارسی، انگلش، اور پنجابی زبان کے ماہر ہیں، جو اپنے قلم سے احساسات کو معاشرے کی تلخیوں کو الفاظ میں پرو کر پیش کرتے تھے۔

شومئی قسمت دوسروں کے درد کی ترجمانی کرنے والا، ضیا کی آمریت کے دور میں قلم کو ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے والا مشتاق اب کسمپرسی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہے۔ جس کے پاس نہ سر چھپانے کے لئے چھت ہے اور نہ بھوک مٹانے کے لئے روٹی۔ افلاس کا یہ مارا پیٹ کی آگ بجھانے اور دو وقت روٹی کے حصول کے لئے ہاتھ پھیلا کر بھیک مانگنے پر مجبور ہے۔ بے سروسامانی، غربت و افلاس، کسمپرسی نے اسے دنیا وما فیھا سے غافل کر دیا ہے۔ ستم در ستم یہ کہ اس ماہر لسانیات کا کوئی پرسان حال بھی نہیں.

مشتاق کاملانی

 

مشتاق کاملانی کون ہے؟
مشتاق کاملانی سجاول کے ایک گاؤں ٹی کانی میں پیدا ہوئے۔ اپنی ابتدائی تعلیم بھی انہوں نے اپنی جنم بھومی سے ہی حاصل کی، جس کے بعد انہوں نے سندھ یونیورسٹی میں داخلہ لیا اور 1979 میں اپنا گریجویشن مکمل کیا۔ مشتاق کاملانی سندھی ادب کے نامور کہانی کار مرحوم علی بابا کے ہم عصر اور ہم جماعت ہیں۔ انہوں نے سندھ کے لوک کردار پنون پر ان گنت کہانیاں لکھیں۔ یہ وہ لکھاری ہیں کہ جن کی کہانیاں آل انڈیا ریڈیو پر سنی جاتیں تھیں اور یہ وہ ہی افسانہ نویس ہیں جن کے افسانے حیدرآباد کے ریڈیو اسٹیشن سے بھی نشر ہوا کرتے تھے. اتنا ہی نہیں بلکہ ان کی تحریریں اس وقت کے تمام مشہور جرائد ورسائل میں شائع ہوتی تھیں۔

یہ اپنے زمانے کے جانے مانے کہانی نویس اور قلم کار تھے۔ گریجویشن کے امتحانات کے ساتھ ساتھ اپنا ایک ناول “رولو” لکھنا شروع کیا۔ یہ وہ وقت تھا کہ جب مک میں مارشل لاء کے کالے بادل منڈلا رہے تھے۔ ذوالفقار علی بھٹو کو ماورائے جمہوریت تختہ دار پر لٹکا دیا گیا تھا۔ایسے میں ایک چھوٹے حلقے نے مارشل لاء کے خلاف آواز اٹھائی اور مشتاق کاملانی نے ”گھٹی ہوئی فضاء ” کے نام سے ایک کہانی لکھی۔ کہانی تو چھپ گئی لیکن ان کا چھپائی کے لئے گیا ناول “رولو”چھپ نہ سکا۔ جس پریس میں وہ ناول چھپ رہا تھا وہ پریس بھی بند کروا دی گئی۔

سجاول سے تعلق رکھنے والے شاعر ایاز امر شیخ، جو مشتاق کاملانی کو قریب سے جانتے بھی ہیں اور ان کے گھرانے کے ساتھ دوستانہ تعلقات بھی رکھتے ہیں، نے انفو خزانہ کو بتایا کہ 1979 میں ایک دن وہ اچانک پر اسرار طور پر حیدر آباد سے گم ہو گئے اور تقریبا ڈھائی ماہ بعد ملے جس کے بعد ان کا دماغی توازن ٹھیک نہیں۔

انہوں نے یہ بھی بتایا کہ غائب ہونے سے پہلے وہ سجاول کے قریب ایک جگہ جنگشاھی کے ایک سرکاری اسکول میں بطور استاد فرائض انجام دے رہے تھے۔ ان کے چار بھائی ہیں۔ ان کے بڑے بھائی میجر ڈاکٹر مخمور خود بھی شاعری کا شغف رکھتے تھے اور آرمی میں اپنے فرائض انجام دے رہے تھے اور اپنے بھائی مشتاق کاملانی کے دماغی توازن خراب ہونے کے بعد ان کی سرپرستی بھی کر رہے تھے لیکن ان کی وفات کے بعد انہوں نے گھر آنا کم کر دیا اور کئی کئی دن بعد گھر آتے ہیں۔

مشتاق کاملانی کے دوسرے بھائی احمد شاعر سرکاری ٹیچر ہیں اور اہل خانہ کے ساتھ سجاول میں رہتے ہیں لیکن محدود وسائل اور مسائل کے انبار میں جکڑے ہوئے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ سوشل میڈیا کے توسط سے کاملانی کی حالت زار سب کے سامنے آئی اور سندھ گورنمنٹ نے اس پر ایکشن لیا ہے یہ بہت خوش آئند بات ہے ۔ ہم نے کبھی سندھ گورنمنٹ سے مشتاق کی امداد کے لئے بات نہیں کی، کاش کہ پہلے کی ہوتی تو شاید وہ جلد بہتر ہو سکتا تھا۔

مشتاق کاملانی گمنامی کی زندگی گزار رہا تھا کہ ایک دن اچانک سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر ان کی ایک تصویر وائرل ہوئی جس میں ان کی کسمپرسی کو بخوبی دیکھا جاسکتاہے. اس تصویر نے جہاں لوگوں کو سوچنے کے لئے مجبور کر دیا وہیں سندھ حکومت نے بھی اس کا نوٹس لیتے ہوئے مشتاق کاملانی کا فوری علاج کرنے کے حوالے سے ہدایات بھی جاری کردیں۔

جس کے بعد سجاول کے ایس ایس پی سعود مگسی مشتاق کے گھر گئے۔ اپنی ایک تنخواہ ان کو دینے کے ساتھ علاج کی تمام تر ذمے داریاں اٹھانے کا اعلان بھی کیا۔ جس کے بعد ڈاکٹر عرفان شاہ اور ڈاکٹر محمد علی پر مشتمل میڈیکل ٹیم نے سندھ کے اس دانشور کا طبی معائنہ بھی کیا۔ اس حوالے سے مقامی صحافی شبیر بھٹی نے کہا کہ مشتاق کاملانی ایک طویل عرصے سے دماغی طور پر مفلوج زندگی گزار رہا تھا اور بھیک مانگتا تھا لیکن کبھی کسی نے توجہ نہیں دی اور نہ ہی کوئی پرسان حال تھا. حکومت کو ایسے لوگوں کی سرپرستی کرنی چاہیے۔

انہوں نے مزید کہا کہ تصویر کے وائرل ہونے کے بعد جہاں ایس ایس پی اور دیگر نامور شخصیات مشتاق کے گھر جا کر ان کی تیمارداری کر رہی ہیں وہیں گورنر سندھ عمران اسماعیل نے ان کی حالت زار کا نوٹس لیتے ہوئے انکی امداد کے لئے خصوصی ٹیم کو سجاول روانہ بھیجا۔

SSP Sujawal Saud Magsi inquiring health of Mushtaq Kamlani
SSP Sujawal Saud Magsi inquiring health of Mushtaq Kamlani

اس حوالے سے سندھ کے محکمہ ثقافت کے ڈائرکٹر جنرل منظور کناسرو کا کہنا تھا کہ جیسے ہی ہمیں مشتاق کے کیس کا علم ہوا تو محکمہ ثقافت کے وزیر سردار علی شاہ اور سیکریٹری اکبر لغاری کی خصوصی ہدایات پر ہم نے اپنے ڈپٹی ڈائرکٹر سلیم سولنگی کو سجاول روانہ کیا جو مشتاق کاملانی سے جا کر ملا.

انہوں نے بتایا کہ مشتاق کاملانی کی ایک ٹانگ بھی ٹوٹی ہوئی ہے، اس لئے ان کو چلنے میں تکلیف ہوتی ہے اور ان کی حالت انتہائی خراب ہونے کے باعث ان کے گھروالوں نے کہا کہ انہیں کچھ دن دیے جائیں جس کے بعد وہ کراچی آکر مشتاق کا علاج کروائیں گے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ان سے مشتاق کے حوالے سے کبھی کسی بھی طرح کی مالی مدد کے لئے رابطہ نہیں کیا گیا اور سندھ حکومت نے جو اعلان کیا ہے ہم اسے پورا کریں گے اور منگل سے ان کا باقائدہ علاج آغاخان اسپتال سے کروایا جائے گا۔

مشتاق کاملانی اور ایسے کئی کردار ہمارے اردگرد موجود ہیں لیکن ہمارے معاشرے کا ضمیر کہیں سو چکا ہے یا کھو چکا ہے۔ ہماری حسیات اب کام نہیں کرتیں۔ ہم ایسے زندہ لیجنڈز کی قدر نہیں کرتے اور ان کے مرنے کے بعد واہ واہ کی جاتی ہے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اپنے معاشرے کے ان زرخیز دماغوں سے فائدہ حاصل کریں اور انکو وہ مقام دیں کہ جس کے وہ اہل ہیں۔

Check Also

تھر کول پاور پروجیکٹ کے تحت سستی ترین بجلی بنے گی

تھر کول پاور پروجیکٹ سے سستی ترین بجلی بنے گی

محمد واحد توانائی بحران سے نمٹنے والے منصوبے تھرکول پاور پروجیکٹ سے بجلی کی پیداوار …