جمعہ , مئی 24 2019
Home / پاکستان / ارشاد رانجھانی، ایک گھر دو لاشیں

ارشاد رانجھانی، ایک گھر دو لاشیں

ضحیٰ مرجان

سانحہ، حادثہ، عوام، تڑپنا، بلکنا، مذمت، احتجاج، ہڑتال، اداروں کا ایکشن لینا، گرفتاریاں اور پھر بس۔۔۔۔۔۔! ایک سلسلہ ہے جو پاکستان میں اب سے نہیں کافی وقت سے چل پڑا ہے، ایک سانحہ ختم ہوتا نہیں کہ دوسرا سانحہ ہمارے سامنے آکھڑا ہوتا ہے۔

 

تین روز قبل یوسی چیئرمین رحیم شاہ نے شاہ لطیف ٹاون تھانے کی حدود بھینس کالونی کے قریب ایک شہری ارشاد رانجھانی کو ڈاکو سمجھ کر روڈ پر شدید فائرنگ کرکے زخمی کردیا۔ اس واقعے کی ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر انتہائی وائرل ہوئی ہے کہ کس طرح ارشاد زخموں سے چور زمین پر پڑا تڑپ رہا ہے. اسی ویڈیو میں یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ ایک شخص خود کو ارشاد کا بھائی کہہ رہا ہے اور وہاں موجود جمع گفیر کے سامنے یوسی چیئرمین رحیم شاہ سے ارشاد کو اسپتال لے جانے کی بھیک مانگ رہا ہے. وہ کہہ رہا ہے کہ ارشاد کو اسپتال لے جانے دیا جائے ورنہ وہ مر جائے گا، لیکن طاقت کے نشے میں چور یوسی چیئرمین رحیم شاہ نے ایک نہ سنی اور پولیس کے آنے کا انتظار کرتا رہا. پولیس اپنے ریکارڈ کے مطابق جائے وقوعہ پر کافی دیر سے پہنچی۔

بجائے اس کے کہ زخمی کو ایمبولینس میں ڈال کر اسے اسپتال پہنچایا جاتا پولیس ارشاد کو زخمی حالت میں موبائل میں ڈال کر تھانے لے آئی۔ جہاں اسے کافی دیر تھانے میں روکا گیا۔ ارشاد جو کہ زندگی اور موت کی کشمکش میں تھا، پولیس اس کے ساتھ روایتی حربے آزماتی رہی اور اس کا نام پوچھتے ہوئے اس کا مزاق اڑاتی رہی خون زیادہ بہہ جانے اور وقت پر طبی امداد نہ ملنے کی وجہ سے ارشاد زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے سب کے سامنے دنیائے فانی سے کوچ کر گیا۔

جب ارشاد کا جسد خاکی اس کے آبائی گھر فرید آباد پہنچا تو اس صدمے کو برداشت نہ کرتے ہوئے اس کی والدہ بھی فوت ہو گئیں۔

یہ تمام تر تفصیلات وہ ہیں جو انٹرنیٹ پر وائرل ویڈیو میں دیکھی جاسکتی ہیں سوال یہ نہیں کہ ایسا کیوں ہوا کیوں کہ یہ پہلی دفعہ تو نہیں ہوا ایسے واقعات کی ایک لمبی فہرست ہے. زیادہ پیچھے نہیں جاتے ابھی حال ہی میں ایک ماہ پہلے “سانحہ ساہیوال” اس کی جی آئی ٹی چل ہی رہی تھی کہ “رمشا قتل کیس”. اسکا بھی ڈراپ سین ہوا ہی چاہتا تھا کہ “ارشاد رانجھانی”.

لاشیں گرنے کا یہ سلسلہ اس وقت تک چلتا رہے گا جب تک انصاف کا نظام بہتر نہیں ہو جاتا. یہاں ہر طاقتور شخص خود کو ایک ریاست سمجھ کر چلتا ہے کہ ہر اچھے برے کا اختیار اس کو ہے وہ سیاہ و سفید کا مالک ہے اور اس پر کسی قسم کا کوئی قانون لاگو نہیں ہوتا۔

ارشاد کے قتل کے بعد سندھ بھر میں پر امن احتجاج کا سلسلہ جاری ہے.عوام کا کہنا ہے کہ اگر ارشاد ڈاکو تھا تو اس کو قانون کے مطابق پکڑ کر جرم ثابت ہونے پر سزا دی جاتی، اس طرح سڑک پر پے در پے فائرنگ کر کے ماورائے عدالت انسانیت سوز قتل کیوں کیا گیا۔ ارشاد کے بہیمانہ قتل کے اگلے دن ٹویٹر پر #justiceForIrshadRanjhani کا ہیش ٹیگ پچاس ہزار سے بھی اوپر تھا۔ جس پر آصفہ بھٹو زرداری اور بختاور بھٹو زرداری نے بھی ٹویٹ کیا۔

اسی دن وزیراعلی سندھ سید مراد علی شاہ نے آئی جی سندھ کلیم امام کو اس واقعے کی تحقیقات کرنے کی ہدایت دیں. اب تک کی تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ ارشاد چار مقدمات میں ملوث تھا اور پولیس ریکارڈ میں اس کی تصاویر بھی موجود ہیں وہ غیر قانونی اسلحے اور ڈکیتی میں ملوث تھا۔

لیکن اس کے باوجود بھی قانون کی رو سے کسی شہری کو اس کا جرم ثابت ہوئے بغیر اس کو مجرم قرار نہیں دیا جا سکتا اگر وہ مجرم تھا بھی تو اس کے خلاف مقدمہ درج کیا جاتا، لیکن یہاں کا قانون اندھا ہے جہاں کھلے عام کسی بھی طاقتور شہری کو کمزور شہری کی جان لینے کا پورا اختیار دیا جاتا ہے اور اسے سڑک کے بیچوں بیچ فیصلہ کرنے کا بھی پورا اختیار ہوتا ہے۔ یہ اختیار صرف زمینی خداؤں کو حاصل ہے جو قانون سے بھی زیادہ طاقتور ہیں۔ اور قانون صرف غریب کے لئے ہے۔

ارشاد کو انصاف دلانے کیلئے سندھ بھر میں احتجاج کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے، جس میں عوام نے ارباب اختیار سے رحیم شاہ کو کیفر کردار تک پہنچانے کا مطالبہ کیا ہے. میرا یہ ماننا ہے کہ انفرادی کیس کے لیے بھی جدوجہد ہونی چاہیے لیکن زمینی خداؤں کے خلاف جدوجہد وقت کی ضرورت بن چکی ہے۔

Check Also

ذولفقارعلی بھٹو ایک تاریخ ساز شخصیت

ذولفقارعلی بھٹو ایک تاریخ ساز شخصیت

ضحیٰ مرجان ذولفقارعلی بھٹو ایک تاریخ ساز شخصیت ہیں۔ پیپلز پارٹی کے جیالوں کی تاریخ …

3 comments

  1. The current security environment in Karachi is marked by lawlessness whereby policemen and their families are killed anf the murderers remained free.

    In such a situation where any dacoit attempt to loot any peaceful citizen , on gun point , the masses are so revengefull that They may kill any dacoit.

    This is NOT the 1st incident.
    In past people have burnt the culprits live as there is no repite/recovery of their looted money/stuff.

    A dacoit must not be made hero and we must remember that if Raheem Shah would not have killed the dacoit, today we could have been eating his soyem feast.

    So relax, any armed robber doesn’t merit mercy as they also kill the innocent.
    Yes, he would had taken to hospital for necessary treatment.

    Those who are talking of law, now they should go and fight legal battle for the killed.

    Raheem Shah fired in on his self defence .
    It’s a fact that he was carrying cash.
    It is proven fact that Irshad had a pistol.
    It’s a fact that Irshad attempt to loot Mr Raheem.

  2. اچھا کالم ھے یہ ایک ظلم ھے جس کے خلاف اواز اٹھانی چاھیے